Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here
Showing posts with label متفرق تحاریر. Show all posts
Showing posts with label متفرق تحاریر. Show all posts

Saturday, 9 November 2013

یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔۔







ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ خوشحالی کے دن تھے۔ ایک دن بادشاہ کی ملاقات ایک درویش صفت بزرگ سے ہوئی، بزرگ بہت نیک اور پرہیزگار تھے۔ بادشاہ اُن سے بہت عزت سے پیش آیا اور ملاقات کے آخر میں اس نے فرمائش کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز، تعویز، وظیفہ وغیرہ لکھ کر دیں جو انتہائی مشکل میں میرے کام آئے۔ بزرگ خاموش رہے لیکن بادشاہ کا اصرار بڑھا تو انہوں نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ لکھ کر دیا اور کہا کہ اس کاغذ کو اُسی وقت کھولنا جب تم سمجھو کہ بس اب اس کے آگے تم کچھ نہیں کر سکتے یعنی انتہائی مشکل میں۔




قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ملک پر حملہ ہو گیا اور دشمن کی فوج نے بادشاہ کی حکومت کو الٹ پلٹ کے رکھ دیا۔ بادشاہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور وہ بھاگ کر کسی جنگل میں ایک غار میں چھپ گیا۔ دشمن کے فوجی اس کے پیچھے تھے اور وہ تھک کر اپنی موت کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں درویش بابا کا دیا ہوا کاغذ یاد آیا، اس نے اپنی جیبیں ٹٹولیں، خوش قسمتی سے وہ اس کے پاس ہی تھا۔ سپاہیوں کے جوتوں کی آہٹ اسے قریب آتی سنائی دے رہی تھی، اب اس کے پاس کاغذ کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب اس نے وہ کاغذ کھولا تو اس پر لکھا تھا "یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔!"




بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ بزرگ نے یہ کیا کھیل کھیلا ہے، کوئی اسمِ اعظم ہوتا یا کوئی سلیمانی ورد!۔ ۔ ۔ لیکن افسوس وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے تحریر کو دوبارہ پڑھا، سہہ بارہ پڑھا۔۔۔۔  کچھ دیر تو بادشاہ سوچتا رہا، غور کرتا رہا کہ کیا کرے پھر آخر اس نے اپنی تلوار اٹھائی اور سپاہیوں کا انتظار کرنے لگا۔ سپاہی آئے، اس نے مقابلہ کیا ا ور وہ بچ نکلا۔





اس کے بعد ایک لمبی داستان ہے کہ وہ کس طرح کسی دوسرے ملک میں گیا، وہاں اس نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا، اسے ہتھیاروں سے لیس کیا اور آخر کار ایک وقت آیا کہ اس نے اپنا ملک واپس لے لیا اور پھر سے اپنے تخت پہ جلوہ نشیں ہوا۔ اس کی بہادری کے قصے دور دور تک مشہور ہو گئے اور رعایا میں اس کا خوب تذکرہ ہوا۔ اس کے دربار میں اور دربار سے باہر بھی لوگ صرف اپنے بہادر بادشاہ کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اتنا بول بالا دیکھ کر بادشاہ کے دل میں غرور پیدا ہوا اور وہ اپنی شجاعت پر اور سلطنت پر تھوڑا مغرور ہوا ہی تھا کہ اچانک اس کے دل میں بزرگ کا لکھا ہوا فقرہ آیا کہ "یہ وقت بھی گزر جائے گا" ۔ ۔ ۔ ۔!!


Read More

Tuesday, 5 November 2013

بیٹیاں! ان کی قدر کرو، یہ آبگینے بڑے نازک ہیں








وہ بیٹیاں تم جس کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دے دو،وہ اُف کئے بغیرتمہاری پگڑیوں اور داڑھیوں کی لاج رکھنے کے لئے ان کے ساتھ ہو لیتی ہیں ،سسرال میں جب میکے کی یاد آتی ہے تو چھپ چھپ کر رو لیتی ہیں،کبھی دھوئیں کے بہانے آنسو بہا کر جی ہلکا کر لیا ،آٹا گوندھتے ہوئے آنسو بہتے ہیں وہ آٹے میں جذب ہو جاتے ہیں ،کوئی نہیں جانتا کہ ان روٹیوں میں اس بیٹی کے آنسو بھی شامل ہیں،غیرت مندو! ان کی قدر کرو یہ آبگینے بڑے نازک ہیں۔





 مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری


Read More

Saturday, 2 November 2013

اخبارات کی تاریخ








اخبار,خبروں کی ترسیل کا ایک بہت پرانا ذریعہ ہے۔ زمانہ قدیم سے انسان مختلف طریقوں سے خبروں کی ترسیل کیا کرتا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام سے ہزاروں سال قبل انسان مختلف ذرائع سے اطلاعات کی ترسیل کیا کرتا تھا۔ ان میں دھویں کے ذریعہ، ڈھول، نقارے یا ناقوس کی آواز کے ذرائع شامل تھے۔ انہیں کے ذریعے انسان اطلاعات کی ترسیل کرکے دُشمنوں سے بچنے کی تدا بیر کیا کرتا تھا۔



دُنیا میں پہلا اَخبار کب اور کہاں شائع ہوا یہ وثوق سے کہنا تو نہایت مشکل ہے تاہم اخبارات کی عالمی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم روم میں جولیس سیزر کے عہد میں سرکاری اعلانات کے بلیٹن ’ایکٹا ڈیورنا ‘کے نام سے شائع کیے جاتے تھے۔پتھر یا دھات کی تختیوں پر اطلاعات کندہ کرکے انہیں عام جگہوں پر نصب کر دیا جاتا تھا۔ اسی طرح چینی حکومت نے بھی پہلی یا دوسری صدی عیسوی میں اپنے درباریوں کے لیے ایک اطلاع نامہ جاری کیا تھا، جسے ’تِپاؤ‘ کہا جاتا تھا۔ چین میں ٹینگ حکمرانی کے دوران بھی ایک سرکاری اخبار ریشم کے کپڑے پر دستی تحریر سے شائع کیا جاتاتھاجسے صرف سرکاری افسران پڑھتے تھے۔








Read More

Monday, 28 October 2013

میں 90 کی دھائی میں پیدا ہوا






میں 90 کی دھائی میں پیدا ہوا

جب سب سے مشہور کھیل “چھپن چھپائی“ ، “برف پانی “ اور “اونچ نیچ“ ہوتے تھے

جب سب سے بہترین میٹھے “پولکا“ ، “پاپ کارن“ “جوبلی“ اور “میچل ٹافی“ ہوتے تھے
جب پیپسی چھ روپے کی ہوا کرتے تھی

جب ہم ساڑھے سات بجے اسکول جانے سے پہلے پی ٹی وی پر کارٹون دیکھتے تھے

اور

شام سات بجے “ننجا ٹرٹلز“ اور “کیپٹن پلینٹ“ دیکھتے تھے

جب ہمیں موویز دیکھنے کی اجازت نہ ہوتی تھی اور ہم پھر بھی کسی طرح مینج کر لیتے تھے

جب ہمارا بہترین اثاثہ “ببل گمرز شوز“ ہوتے تھے

جب پچاس روپے عیدی ملنے کا مطلب ہوتا تھا کہ آپ امیر ہو گئے ہو

جب ہم “ اکڑ بکڑ بمبے بو “ سے فیصلے کیا کرتے تھے

جب ہمارے لیے سب سے خوفناک چیزیں “انجیکشنز“ ، “تاریک کمرے“ اور “قاری صاحب“ ہوا کرتے تھے

جب “ ونڈر بریڈ کی بی ایم ایکس سائیکل “ پورے محلے میں جیلسی کا سبب ہوتی تھی

جب کرکٹ کھیلتے ہوئے اصول ہوا کرتا تھا کہ گھر میں جانا آئوٹ ہے اور جو مارے گا وہی لے کر آئے گا

بچگانہ لیکن بہترین یادیں

نئی نسل یہ چیزیں کبھی انجوائے نہیں کرے گی

(خوبصورت یادیں - اجد تاج)


Read More

Saturday, 26 October 2013

ٹیکنالوجی اور ہمارے سماجی رویے







لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ہے کہ اس سے فاصلے کم ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے رابطے میں رہتے ہیں۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سے لوگوں کے دلوں سے محبت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟پہلے لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے ملتے لیکن ان کے دلوں مین محبت،خلوص اور چاہت ہوتی تھی۔لیکن آج کے دور میں آپ کسی سے روزانہ دو گھنٹے بھی فون پر بات کرتے ہوں لیکن اگر کبھی وہ غلطی سے کوئی نصحیت کر دے یا کوئی مذاق کر دے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔اور برداشت نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ آپ کے دل میں اس کے لیے محبت نہیں۔




لوگ اس کا الزام زمانے کو دیتے ہیں کہ زمانہ ایسا ہے۔زمانہ بہت برا آ گیا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ انسان زمانے کو برا بھلا کہتا ہے جبکہ میں زمانے کو بدلتا رہتا ہوں۔زمانے کو برا کہنا غلط ہے بلکہ اس کی وجہ ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال کرنے کا طریقہ ہے۔جیسے پہلے عید آتی تھی تو ہم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ اور گفٹ بھیجتے۔ تھے جب بھی آپ کسی کے لیے گفٹ لینے جاتے ہیں تو اس کی پسند اور ناپسند کو ذہن میں رکھتے ہیں۔لیکن آج کے دور میں آپ صرف ایک ایس-ایم -ایس کر دیتے ہیں۔جس پر ایک سیکنڈ(لمحہ) لگتا ہو گا۔ایسا لگتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے ہمارے دلوں سے پیار محبت اور خلوص کو ختم کر دیا ہے۔






ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہیں لیکن ہم اپنے پیاروں کو بھولتے جا رہے ہیں ہمیں انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کوئی آواز دیتا ہے تو ہم اس کی سنی ان سنی کر دیتے ہیں ہم ہزاروں میل بیٹھے دوست کے زکام پر پریشان ہوجاتے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کے احوال سے اکثر نابلد رہتے ہیں۔ لیکن سماجی روابط پر موجود دوستوں کی تمام ایکٹیویٹیز سے باخبر رہتے ہیں۔ ایک دوست کا فیس بک پر اسٹیٹس پڑھا جو کچھ یوں تھا کہ:


آج سارا دن بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے سوشل نیٹ ورکس کو استعمال نہ کرپایا تو سوچا کہ گھر والوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں۔ آج پتہ چلا، اچھے لوگ ہیں۔

ٹیکنالوجی کا استعمال بہت اچھی بات ہے خاص کر سوشل نیٹ ورکس نے تو سماجیات کے شعبے میں انقلاب برپا کردیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ورچوئل سوشل نیٹ ورکس کے ساتھ اپنے آس پاس کے سماجی روابط اور رشتوں کو بھی مضبوط بنائیں۔




(مصنفہ: عدیبہ راجہ - قلم کاروان)


Read More

Thursday, 17 October 2013

ایک باز اور مرغ کا مکالمہ








ایک جگہ پہ ایک باز اور ایک مرغ اکٹھے بیٹھے تھے۔ باز مرغ سے کہنے لگا کہ میں نے تیرے جیسا بے وفا پرندہ نہیں دیکھا۔ تو ایک انڈے میں بند تھا۔ تیرے مالک نے اس وقت سے تیری حفاظت اور خاطر خدمت کی، تجھے زمانے کے سرد و گرم سے بچایا۔ جب تو چوزہ تھا تو تجھے اپنے ہاتھوں سے دانہ کھلایا اور اب تو اسی مالک سے بھاگا پھرتا ہے۔

مجھے دیکھ، میں آزاد پرندہ تھا، میرے مالک نے مجھے پکڑا تو سخت قیدو بند میں بھوکا پیاسا رہا، مالک نے بہت سختیاں کیں لیکن جب بھی مالک شکار کے پیچھے چھوڑتا ہے تو شکار کو پکڑ کر اسی مالک کے پاس ہی لاتا ہوں۔

مرغ کہنے لگا۔ "تیرا اندازِ بیان شاندار ہے اور تیری دلیل میں بہت وزنی لگتی ہے، لیکن اگر تو دو باز بھی سیخ پہ ٹنگے ہوئے دیکھ لے تو تیری دلیل دھری کی دھری رہ جائے اور کبھی لوٹ کر مالک کے پاس واپس نہ آئے۔"


Read More

Monday, 14 October 2013

طبیب کی نصیحتیں







حجاج بن یوسف نے اپنے دور کے مشہور طبیب سے فرمائش کی کہ اسے طب کی کچھ اچھی اچھی باتیں بتائے۔



اُس مشہور طبیب نے کہا:




  1. گوشت صرف جوان جانور کا کھاؤ۔

  2. جب دوپہر کا کھانا کھاؤ تو تھوڑا ٹائم سو جاؤ اور شام کا کھانا کھا کر چلو، چاہیے تمہیں کانٹوں پر چلنا پڑے۔

  3. جب تک پیٹ کی پہلی غذا ہضم نہ کر لو دوسرا کھانا نہ کھاؤ، بھلے تمہیں تین دن ہی کیوں نہ لگ جائیں۔

  4. جب تک بیت الخلاء نہ جاؤ، سونے کے لئے مت لیٹو۔

  5. پھلوں کے نئے موسم میں پھل کھاؤ، جب موسم جانے لگے تو پھل کھانا چھوڑ دو۔

  6. کھانا کھا کر پانی پینے سے بہتر ہے کہ زہر پی لو یا پھر کھانا ہی نا کھاؤ۔



Read More

Saturday, 12 October 2013

اکبر بادشاہ







آپ نے حضرت ملا دو پیازہ اور بیربل کے ملفوظات میں اس بادشاہ کا حال پڑھا ہو گا، راجپوت مصوری کے شاہکاروں میں اس کی تصویر بھی دیکھی ہوگی، ان تحریروں اور تصویروں سے یہ گمان ہوتا ہے، کہ بادشاہ سارا وقت داڑھی گھٹوانے، مونچھیں تراشوائے، اکڑوں بیٹھا پھول سونگھتا رہتا تھا یا لطیفے سنتا رہتا تھا، یہ بات نہیں اور کام بھی کرتا تھا۔











اکبر قسمت کا دھنی تھا، چھوٹا سا تھا کہ باپ بادشاہ ستارے دیکھنے کے شوق میں کوٹھے سے گر کر جاں بحق ہو گیا اور تاج و تخت اسے مل گیا۔



ایڈورڈ ہفتم کی طرح چونسٹھ برس ولی عہدی میں نہیں گزارنے پڑے۔ ویسے اس زمانے میں اتنی لمبی ولی عہدی کا رواج بھی نہ تھا، ولی عہد لوگ جونہی باپ کی عمر کو معقول حد سے تجاوز کرتا دیکھتے تھے اسے قتل کرکے، یا زیادہ رحم دل ہوتے تو قید کرکے، تخت حکومت پر جلوہ افروز ہو جایا کرتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ دن رعایا کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔



(اقتباس: ابنِ انشاء کے مضامین)


Read More

Thursday, 10 October 2013

قلم کی دھار








یہ درست ہے کہ قلم کی دھار نہایت ہی تیز اور پُر اثر ہوتی ہے۔ کوئی بھی دوسری دھار اس پر غالب نہیں آسکتی۔ یا یوں کہہ لیں کہ چاقو کی دھار، تلوار کی دھار یا زبان کی دھار، سب قلم کی دھار کی پیدا کردہ دھاریں ہیں۔ قلم کی دھار نے ہر جگہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہت سی پست، محکوم اور زوال پزیرقومیں اسکی بدولت بامِ عروج پر پہنچی۔ 





قلم نے بہت سے واقعات قید کرکے آئندہ نسلوں کو تاریخ کی شکل میں پیش کئے۔ خوبصورت الفاظ کو موتیوں کی طرح پرو کر ایک لڑی کی شکل میں ڈھال کر شاعری کا لباس پہنایا۔ اگر اس کا استعمال صحیح اور بغیر کسی مفاد کے کیا جائے تو حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ 





آج ہم جو کچھ جانتے ہیں، سب قلم کا مرہونِ منت ہے۔ قلم کی زبان دلوں میں جذبہ، ولولہ اور حقیقت سے آشنا کرتی ہے۔ حق و باطل کے معرکوں سے شناسائی ہمیں قلم ہی نے بخشی ہے۔ ظالم و مظلوم کی صداہمیں قلم نے ہی پہنچائی ہے۔ اگر اہلِ قلم حقیقت پسند ہوں تو ہمیشہ حقیقت ہی سامنے آتی ہے اور جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔





پس! یہ قلم ہی ہے کہ جس کے ذریعے ہم تمام عالم میں ایک خاص اور جداگانہ حیثیت حاصل کر سکتے ہیں۔


Read More

Sunday, 6 October 2013

علم کے حقیقی فوائد







حضرات حاتم اصم خراسانی رحمہ اللہ اپنے دورکے ظاہری علوم میں دسترس حاصل کرنے کے بعد کسی دارالعلوم میں مسند تدریس پر فائز ہونے کی بجائے علم کی خوشبو سونگھنے اور اس کی لذت سے لطف اندوز ہونے کے لئے حضرت شقیق بلخی کی صحبت میں چلے گئے۔ وہاں تیس سال تک صدق و صفا، تسلیم و رضا، زہد و ورع، ایثار و قربانی، تواضع و انکساری، ہمدردی و غمگساری،صبر و حلم، عفو و کرم، طیب الکلام، افشاء السلام کا درس لیتے رہے۔ ایک دن ان کے شیخ محترم نے ان سے پوچھا: اے حاتم! تمہیں میرے حلقہ درس میں شامل ہوئے تیس برس گزرگئےہیں بتاؤ اس عرصے میں تم نے علم سے کیا کیا فوائد حاصل کیے ہیں۔



انہوں نے جواب دیا: "حضرت! میں نے مخلوق کی حالت پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہر انسان کا کوئی نہ کوئی محبوب اور معشوق ہے، جس سے وہ محبت اور عشق کرتا ہے۔ لیکن اس کا کوئی محبوب تو مرض الموت تک اس کی محبت کا دم بھرتا ہے اور کوئی قبر کے کنارے تک ساتھ رہتا ہے۔ پھر اسے قبر کی تاریک کوٹھری میں بند کرکے واپس آجاتا ہے۔ لیکن گھڑی بھر اس کے ساتھ نہیں لیٹتا، لہٰذامیں نے سوچا کہ میں اس کو اپنا محبوب بناؤں جو قبر میں میرے ساتھ داخل ہو اور وہاں میری وحشت اور تنہائی کو دور کرے۔ میرا غمگسار اور ساتھی بنے۔ چنانچہ میں نے اعمال صالحہ کو اپنا محبوب بنالیا کیونکہ ان کے علاوہ کوئی بھی قبر میں داخل ہوتا اور نہ اندر کسی طرح کی روشنی کا ہی اہتمام کرتا ہے۔"


Read More

Saturday, 5 October 2013

جبران خلیل جبران نے کہا








  • بے شک وہ ہاتھ جو کانٹوں کے تاج بناتےہیں۔ ان ہاتھوں سے بہتر ہیں جو کچھ نہیں کرتے۔



  • کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جس مخلوق کی کمر میں مہرے نہیں وہ سیپوں کے اندر مہرہ دار مخلوق سے زیادہ امن میں زندگی بسر کرتی ہے۔ 



  • کمال رفعت پر پہنچ جانے کے بعد تم اسی چیز کی رغبت کروگے۔ جو رغبت کے قابل ہوگی۔ اسی چیز کے بھوکے ہوگے، جس کی بھوک ہونی چاہئے اور اسے چیز کے پیاسے ہوگے، جس کی پیاس ہونی چاہئے۔



  • ایمان دل کے صحرا میں ایک سرسبز و شاداب قطعہ ہے۔ جہاں فکر کے قافلے نہیں پہنچ سکتے۔



  • جو شخص تمہاری خوشیوں میں شریک ہوتا ہے لیکن تکالیف میں ساتھ نہیں دیتا۔ وہ جنت کی سات دربانیوں میں سے ایک کی کنجی کھو بیٹھتا ہے۔



  • امیروں کا امیر وہ ہے جو اپنا تخت درویشوں کے دلوں میں پاتا ہے۔



  • تم جہاں سے چاہو زمین کھودلو، خزانہ تمہیں ضرور مل جائے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ زمین کامیابی کے یقین کے ساتھ کھودو۔




(کلیاتِ خلیل جبران سے ماخوذ)



Read More

کسی مرغی کی بات پر دھیان نہ دیجئے






کہتے ہیں ایک پہاڑ کی چوٹی پر لگے درخت پر ایک عقاب نے گھونسلہ بنا رکھا تھا جس میں اُس کے دیے ہوئے چار انڈے پڑے تھے کہ زلزلے کے جھٹکوں سے ایک انڈا نیچے جا گرا جہاں ایک مرغی کا ٹھکانہ تھا۔ مرغی نے عقاب کے انڈے کو اپنا انڈا سمجھا اور سینے کے لیے اپنے نیچے رکھ لیا۔ ایک دن اُس انڈے سے ایک پیارا سا ننّھا منا عقاب پیدا ہوا جس نے اپنے آپ کو مرغی کا چوزہ سمجھتے ہوئے پرورش پائی اور مرغی سمجھ کر بڑا ہوا۔ ایک دن باقی مرغیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اُس نے آسمان کی بلندیوں پر کچھ عقاب اُڑتے دیکھے۔ اُس کا دل چاہا کہ کاش وہ بھی ایسے اُڑ سکتا……جب اُس نے اپنی اِس خواہش کا اظہار دوسری مرغیوں سے کیا تو اُنھوں نے اُس کا مذاق اُڑایا اور قہقہے لگاتے ہوئے کہا "تم مرغی ہو اور تمہارا کام عقابوں کی طرح اُڑنا نہیں۔"


کہتے ہیں اِس کے بعد اُس عقاب نے اُڑنے کی حسرت دل میں دبائے ایک لمبی عمر پائی اور مرغیوں کی طرح جیتا رہا اور مرغیوں کی طرح ہی مرا۔


منفی سوچوں کو دل میں بسا کر رہنا، اُن سوچوں کا غلام بن کر رہنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اگر آپ عقاب تھے اور آپ کے خواب آسمان کی بلندیوں میں اُڑنے کے تھے تو پھر اپنے خوابوں کو عملی جامہ دیجیے۔ کسی مرغی کی بات پر دھیان نہ دیجیے کیونکہ اُنھوں نے تمہیں بھی اپنے ساتھ ہی پستیوں میں ڈالے رکھنا ہے۔ اپنے شخصی احترام کو بلند رکھنا اور اپنی نظروں کو اپنی منزل پر مرکوز رکھتے ہوئے پُر عزم اور بلند حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ معاملات آگے نہ بڑھ رہے ہوں تو اپنی روزمرہ کی عادتوں سے ہٹ کر کچھ کرنا بھی کامیابیوں کو آسان بناتا ہے اور پھر یہ بھی تو ذہن میں رکھنا ہوگا……




 خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 


نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت بدلنے کا





(بحوالہ: اردو ڈائجسٹ - جولائی 2013)


Read More

Friday, 4 October 2013

مسٹر معلوم نہیں








ایک بدیسی سیاح ہندوستان کی راج دھانی دہلی آیا۔ سب سے پہلے وہ لال قلعہ دیکھنے گیا۔ لال قلعے کے اندر کچھ ہندوستانی اسٹوڈنٹس گھوم رہے تھے۔ سیاح نے پوچھا اس قلعے کی تعمیر کرنے والا کون ہے؟





طالبِ علم نے جواب دیا معلوم نہیں۔





بدیسی سیاح بہت متاثر ہوا۔ اس نے سوچا مسٹر معلوم نہین کوئی بہت عظیم آدمی ہوگا جس نے یہ عظیم قلعہ بنا ڈالا۔ اس نے سوچا کہ وہ اس عظیم شخصیت سے ضرور ملاقات کریگا۔ لال قلعہ سے نکل کر وہ سڑک پر آیا تو دیکھا کہ کچھ لوگ جنازہ اٹھائے جا رہے ہیں۔اس نے ایک شخص سے پوچھا، یہ کون انتقال کر گیا ہے؟





اس شخص نے جواب دیا معلوم نہیں۔





مسٹر معلوم نہیں کے انتقال پر بدیسی کو بہت افسوس ہوا۔ آہ وہ عظیم آدمی کی ملاقات سے محروم رہا۔ 





(فکر تونسوی کا تحفہ)


Read More

Saturday, 28 September 2013

آنسو اور قہقہے








نیل کے کنارے شام کے دھندلکے میں ایک لگڑ بھگڑ ایک گھڑیال سے ملا۔۔۔۔۔۔۔ ایک نے دوسرے کو ٹھہرالیا۔ رسمی علیک سلیک کے بعد، لگڑ بھگڑ نے گھڑیال سے پوچھا۔





"کہئے سرکار کیسی گزررہی ہے؟"





گھڑیال بولا۔


"کیا پوچھتے ہو بھائی، بری ہی حالت ہے۔ اگر کبھی درد کی شدت کے مارے آنکھیں امنڈ آئیں تو دیکھنے والی قہقہے لگاتے ہیں کہ یہ گھڑیال کے آنسو ہیں۔ حالانکہ سچ پوچھو تو اس اذیت کی خلش ناقابل برداشت ہوتی ہے!"





اس پر لگڑبھگڑ نے کہا۔


"ارے میاں تم تو اپنے دکھ کا رونا روتے ہو۔ یہاں ذرا میری حالت بھی تودیکھو میں دنیا کی خوب صورتیوں کو دیکھتا ہوں، اس کے معجزوں کو دیکھتا ہوں، اس کے کرشموں کو، تومارے مسرت کے باچھیں کھل جاتی ہیں۔ ایسے جیسے صبح مسکراتی ہے۔ تو یہ "جانگلی"(جنگلی)میرے اس وجدانی کیف پر بھی قہقہے لگاتے ہیں۔۔۔۔۔ ارے یہ تو لگڑبھگڑی قہقہہ ہے"!





(از: خلیل جبران - کلیاتِ خلیل جبران سے ماخوذ)


Read More

Friday, 27 September 2013

زندہ قوم اور مردہ قوم







زندہ قوم مقاصد کو اہمیت دیتی ہے اور مردہ قوم رجال کو۔ زندہ قوم حال میں جیتی ہے اور مردہ قوم ماضی میں۔ زندہ قوم تنقید کا استقبال کرتی ہے اور مردہ قوم تنقید پر بپھر اٹھتی ہے۔ زندہ قوم حقیقی ایشو پر کھڑی ہوتی ہے اور مردہ قوم فرضی ایشو پر۔ زندہ قوم کو ہر ایک اپنا دوست نظر آتا ہے اور مردہ قوم دوسروں کے خلاف شکایت اور احتجاج میں مشغول نظر آتی ہے۔ زندہ قوم کی صفت تحمل اور برداشت ہے اور مردہ قوم کی صفت عدم تحمل، اورعدم برداشت ہے۔  (وحید الدین خان-آداب زندگی)


Read More

Sunday, 22 September 2013

خطرناک غلطیاں












ان 7 باتوں کو غور سے پڑھیں۔ یہ ہیں تو معمولی سی لیکن دراصل ان کا شمار خطرناک غلطیوں میں ہوتا ہے۔ 





  1. اپنے آپ کو سب سے عقلمند سمجھنا۔

  2. اپنے والدین کی خدمت سے آنکھیں چُرانا اور اولاد سے خدمت کی امید رکھنا۔ 

  3. اپنا راز کسی کو بتاکر اس سے پوشیدہ رکھنے کی درخواست کرنا۔ 

  4. اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرنا۔

  5. جو کام خود سے نہ ہو سکے اسے سب کےلئے ناممکن سمجھنا۔

  6. کسی انسان کی ظاہری شکل و صورت دیکھ کر اس کے بارے میں رائے قائم کرنا۔ 

  7. گناہ اس نیت سے کرنا کہ بعد میں چھوڑ دوں گا۔ 







Read More

قصہ بہلول سے مشورے کا








واقعہ
مشہور ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بہلول سے کہا- "اے دانا بہلول! میرے پاس
کچھ رقم ہے۔ مجھے مشورہ دو کہ میں کیا خریدوں کہ اس سے نفع حاصل کرسکوں"۔





بہلول نے اُس شخص کو جواب دیا۔ "روئی اور لوہا خرید لو"۔





وہ
شخص روئی اور لوہا خرید لیتا ہے۔ اتفاق سے کچھ ہی دن میں روئی اور لوہے کی
قیمت بڑھ جاتی ہے جس سے اُس شخص کو کافی منافع حاصل ہوتا ہے۔ وہ شخص
دوبارہ بہلول کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے۔ "اے دیوانے بہلول! میرے پاس کافی
رقم ہے۔ مجھے مشورہ دو کہ کیا خریدوں جس سے نفع حاصل ہو"۔





یہ سن کر بہلول اسے کہتا ہے کہ پیاز اور تربوز خرید لو۔





وہ
شخص اپنی پوری رقم پیاز اور تربوز کی خریداری میں لگا دیتا ہے۔ کافی دن گزر
جاتے ہیں۔ خریدار تو کم آتے ہیں لیکن پیاز اور تربوز گَل سڑ کر خراب ہو
جاتے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ شخص غصے میں بہلول کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے۔
"جب میں نے پہلی مرتبہ تم سے مشورہ کیا تو، تو نے کہا روئی اور لوہا
خریدلو۔ میں نے ویسا ہی کیا اور مجھے نفع ہوا۔ لیکن دوسری دفعہ تم نے مجھے
پیاز اور تربوز خریدنے کو کہا جو سارے سڑ گئے اور مجھے کافی نقصان ہوا۔ تو
نے ایسا کیوں کیا؟"۔





یہ
سن کربہلول مسکرایا اور کہا۔ "پہلے تم نے مجھے دانا بہلول کہہ کر پکارا
تھا تو میں نے تمہیں مشورہ بھی دانائی سے دیا تھا۔ لیکن دوسری مرتبہ تم نے
مجھے دیوانہ بہلول کہہ کر پکارا تھا اور میں نے دیوانہ بن کر تمہیں مشورہ
دیا تھا۔"


Read More

زندگی کا سفر








انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کی تربیت مصائب کی درس گاہ میں ہوتی ہے اور دوسرے وہ جن کی تربیت آسانیوں کی درس گاہ میں ہوتی ہے۔ بظاہر آسانیوں میں پرورش پانا اچھی بات ہے۔ مگر وہ چیز جس کو انسان سازی کہتے ہیں، اس کی حقیقی جگہ صرف مصائب کی درس گاہ ہے۔ نہ کہ آسانیوں کی درس گاہ۔ کسی کا یہ قول نہایت درست ہے کہ مشکل وہ چیز ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے۔ 





زندگی کے سیلاب میں بے شمار لوگ مصیبتوں کی زد میں آتے ہیں۔ مگر مشاہدہ بتاتا ہے کہ عام طور پر لوگوں کا انجام دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ لوگ جو مصیبتوں کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں پاتے اور مایوسی اور دل شکستگی کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ دوسرے وہ جو مضبوط اعصاب والے ثابت ہوتے ہیں۔ وہ مصائب کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اور آخرکار اپنے لئے ایک زندگی بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔





تاہم دوسرے گروہ کو یہ کامیابی ہمیشہ ایک محرومی کی قیمت پر ملتی ہے۔ مادی تجربات انھیں فکر کے اعتبار سے بھی مادی بنادیتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ مادی چیزوں سے محرومی نے انھیں ماحول میں بے قیمت کر دیا تھا۔ اور جب انھوں نے مادی چیزوں کو پالیا، تو اسی ماحول میں وہ دوبارہ قیمت والے ہوگئے۔ اس تجربہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سراسر مادہ پرست انسان بن جاتے ہیں۔ وہ مادی چیزوں کےکھونے کو کھونا سمجھنے لگتے ہیں اور مادی چیزوں کے پانے کو پانا۔





مصیبتوں میں پڑنے کا اصل فائدہ سبق اور نصیحت ہے۔ لیکن یہ فائدہ صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ آدمی مصیبتوں کی زد میں آئے مگر وہ ہلاک نہ ہو۔ وہ زندگی کی تلخیوں سے دوچار ہو مگر وہ ان سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ مصیبتیں اور تلخیاں اس کے لئے تجربہ ثابت ہوں۔ نہ کہ وہ اس کے ذہن کی معمار بن جائیں۔ 





اقتباس: کتابِ زندگی ۔ مصنف: مولانا وحید الدین خان۔


Read More

Saturday, 21 September 2013

اورنگ زیب عالمگیر کا غیر مسلموں سے سلوک








مولوی ذکاء اللہ مرحوم اپنی تاریخ ہندوستان جلد نہم (زوال سلطنت تیموریہ) میں پروفیسر آرنلڈ کی کتاب دعوت اسلام کے حوالے سے  لکھتے ہیں۔ 





ایک دفعہ ایک شخص نے اورنگ زیب کو اس مضمون کی عرضی دی کہ دو شاہی ملازموں کو جو تنخواہ تقسیم کرنے پر مقرر ہیں، بادشاہ اس بنا پر برخاست کر دے کہ وہ کافر آتش پرست ہیں اور ان کی جگہ معتمد تجربہ کار مسلمانوں کو مقرر کر دے۔ 





بادشاہ نے جواب میں لکھاکہ دنیاوی کاروبار میں مذہب کو دخل نہ دینا چاہئے، اگر عرضی دہندہ کی بات پر عمل کیا جائے اور اس کو سلطنت کا دستورالعمل بنایا جائے تو تمام غیرمسلم راجاؤں اور ان کی رعیت کا کہاں ٹھکانہ ہو۔ شاہی نوکریاں لوگوں کو ان کی لیاقت اور قابلیت کے موافق ملنی چاہیئں۔ 


Read More

Friday, 20 September 2013

بچ کے چلئے










ایک راستہ ہے اس میں کانٹے دار جھاڑیاں ہیں۔ ایک آدمی بے احتیاطی کے ساتھ اس راستہ میں گھس جاتا ہے۔ اس کے جسم میں کانٹے چبھ جاتے ہیں۔ کپڑا پھٹ جاتا ہے۔ اپنی منزل پر پہنچنے میں اس کو تاخیر ہو جاتی ہے۔ اس کا ذہنی سکون درہم برہم ہوجاتا ہے۔ 





اب وہ آدمی کیا کرے گا۔ کیا وہ کانٹے کے خلاف ایک کانفرنس کرے گا۔ کانٹے کے بارے میں دھواں دھار بیانات شائع کرے گا۔ وہ اقوام متحدہ سے مطالبہ کرے گا کہ دنیا کےتمام درختوں سے کانٹے کاوجود ختم کر دیا جائے۔ تاکہ آئندہ کوئی مسافر کانٹے کے مسئلہ سے دوچار نہ ہو۔ 





کوئی سنجیدہ اور باہوش انسان کبھی ایسا نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس وہ صرف یہ کرے گا کہ وہ اپنی نادانی کا احساس کریگا۔ وہ اپنے آپ سے کہے گا کہ تم کو اللہ تعالٰی نے جب دو آنکھیں دی تھیں تو تم نے کیوں ایسا نہ کیا کہ کانٹوں سے بچ کر چلتے۔ تم اپنا دامن سمیٹ کر کانٹوں والے راستے سے نکل جاتے۔ اس طرح تمہارا جسم بھی محفوظ رہتا اور تم کو اپنی منزل تک پہنچنے میں دیر بھی نہ لگتی۔





آج کی دنیا میں آپ کو بے شمار ایسے لوگ ملیں گے جو انسانی کانٹوں کے درمیان بے احتیاطی کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور جب کانٹے ان کے جسم کے ساتھ لگ کر انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں تو وہ ایک لمحہ سوچے بغیر خود کانٹوں کو برا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی نادانی کو دوسروں کے خانہ میں ڈالنے کی بے فائدہ کوشش کرنے لگتے ہیں۔





 ایسے تمام لوگوں کو جاننا چاہئے کہ جس طرح درختوں کی دنیا سے کانٹے دار جھاڑیاں ختم نہیں کی جاسکتیں اسی طرح سماجی دنیا سے کانٹے دار انسان کبھی ختم نہیں ہونگے۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ اس دنیا میں محفوظ اور کامیاب زندگی کا راز کانٹے دار انسانوں سے بچ کر چلنا ہے۔ اس کے سوا ہر دوسرا طریقہ صرف بربادی میں اضافہ کرنے والا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ 





مولانا وحید الدین خان کی تصنیف، کتابِ زندگی سے ماخوذ


Read More

Social Profiles

Twitter Facebook Google Plus LinkedIn RSS Feed Email Pinterest

Popular Posts

Blog Archive

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood