Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here
Showing posts with label دلچسپ و عجیب. Show all posts
Showing posts with label دلچسپ و عجیب. Show all posts

Tuesday, 12 November 2013

آسٹریلیا میں بطخوں کی ماڈلنگ







موجودہ دور میں روزانہ نت نئے فیشن متعارف کئے جارہے ہیں اورلوگ خود کو ان کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی کوششوں میں نظر آتے ہیں۔ دنیا میں کچھ سر پھرے ایسے بھی ہیں جنہوں نے خود تیار ہونے کیساتھ ساتھ جانوروں کو بھی سجانا سنوارنا شروع کر دیا ہے۔ کچھ ایسا ہی رنگ آسٹریلیا میں نظر آیا جہاں بطخوں نے فیشن کی دنیا میں قدم رکھ کر ماڈلنگ کا آغاز کیا۔







آسٹریلیا میں بطخوں نے اپنے لئے ڈیزائن کر دہ ماہر ڈیزائنرز کے ملبوسات اور ہیٹس پہن کر گھاس اور پھولوں سے سجے ریمپ پرسپر ما ڈلز کی طرح واک کر کے شائقین سے داد وصول کی۔ اس منفرد ترین فیشن شو میں بطخوں نے روایتی دولہا دلہن کا روپ دھار کر بھی ماڈلنگ کی اور اپنے ننھے قدموں سے ریمپ پر چل کر اپنی اس پوشیدہ صلا حیت کا بھی اظہار کیا جو سب کو بے حد پسند آئی۔





Read More

Friday, 1 November 2013

چاکلیٹ زمانہ قبل از مسیح سے زیر استعمال ہے







سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں شواہد دریافت کر لیے ہیں کہ وسطی امریکہ کے باشندے کم از کم تین ہزار سال سے کاکاؤ سے بنائی گئی چاکلیٹ کے مشروبات پی رہے ہیں۔ اس سے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ اس چاکلیٹ کے مشروب کا استعمال اس سے پانچ سو برس بعد شروع ہوا تھا۔

نیویارک کی کرنیل یونیورسٹی میں بشریات کے پروفیسر جون ہینڈرسن نے کہا کہ ان کی ٹیم نے جنوبی امریکہ کے ملک ہانڈوراس میں ملنے والے مٹی کے برتنوں کے ٹکڑوں پر پائے جانے والے بچے کھچے اجزاء کا تجزیہ کیا۔ ہنڈرسن نے کہا کہ وسطی امریکہ کے پرانے باشندے ممکن ہے ایک ایسا مشروب بھی پیتے ہوں جو کاکاؤ پودے سے تیار ہوتا تھا۔

ہینڈرسن نے خیال ظاہر کیاکہ ان ابتدائی مشروبات نے ممکن ہے بعد میں چاکلیٹ کے اس مشروب کی شکل اختیار کرلی ہو جو سولھویں صدی کے یورپی باشندے پیا کرتے تھے۔ یہ مشروب یورپی باشندوں کے ساتھ ان کے وطن پہنچا جس کے نتیجے میں چاکلیٹ کی جدید صنعت وجود میں آئی۔


(وائس آف امریکہ)


Read More

Friday, 11 October 2013

اب کھانے "پرنٹ" کئے جائیں گے










امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے ایک ایسے 3D پرنٹر کی تیاری پر کام شروع کیا ہے جو ہمارے لئے کھانا "پرنٹ" کر سکے۔ ناسا کا خیال ہے کہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن پر خوارک عام گھریلو طریقے سے پکانے کے بجائے خصوصی 3D پرنٹر کی مدد سے پرنٹر کئے جائیں جو ذائقے اور معیار میں کسی بھی طرح گھریلو کھانے سے کم نہ ہو۔ اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو ریلیز کی گئی ہے جس میں ایک 3D پرنٹر کی مدد سے پیزا کی تیاری کا عمل دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں پیزا کو تیاری کے بعد ایک گرم سطح پر پکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔





اگرچہ اس پیزا کا معیار فی الحال اچھا نہیں ہے لیکن اس کامیابی کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جارہاہے۔ پرنٹر ابھی اپنی تیاری کے ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ماہرین کے خیال میں وہ بہت جلد اسے مزید بہتر بناسکیں گے۔ اگر یہ پرنٹرز مارکیٹ میں آگئے تو آپ کسی بھی وقت بھیڑ کی بھنی ہوئی "پرنٹڈ" ران اور "پرنٹڈ" تکے، آلو کے "پرنٹڈ" قتلوں اور مزیدار "پرنٹڈ" چھٹنی کےساتھ تناول کرسکیں گے۔


Read More

Thursday, 10 October 2013

آنسوؤں سے کینوس پر رنگ بکھیرے والا مصور







ارجنٹائن میں ایک مصور نے آنکھوں سے کینوس پر
رنگ بکھیرنا شروع کردئیے۔ لیونارڈو گرانٹو نامی مصور اپنی ناک کے ذریعے آنکھوں میں
رنگ ڈال کر انہیں آنسوؤں کی شکل میں کینوس پر بکھیرتا ہے۔










 آنکھ سے نکلے ہوئے آنسو
کینوس پر گرتے ہیں تو مصور کے احساسات رنگوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ لیونارڈو کا کہنا
ہے کہ وہ ایک خاص طریقے سے ناک کے ذریعے رنگ آنکھوں تک پہنچاتا ہے جسے آنسوؤں کی
لڑی کی شکل میں کینوس پر بکھیرتا ہے۔










 لیونارڈو کے مطابق وہ ایک وقت میں آٹھ سو ملی
لیٹر تک رنگ اپنی آنکھوں کے ذریعے کینوس پر گراسکتا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ جو رنگ
استعمال کرتا ہے وہ انکھوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچاتا۔ لیونارڈو خریدار کو پینٹنگ
کے ساتھ ایک وڈیو فلم بھی دیتا ہے جس میں پینٹنگ کے سارے عمل کو دکھایا جاتا ہے۔
اکثر خریدار ویڈیو دیکھ کر خود بھی اپنی آنکھوں سے آنسو رواں دیکھتے ہیں۔ 







Read More

غذائیت سے بھرپور صحت بخش سیاہ ٹماٹر








برطانوی شہری نے سیاہ رنگ کےانوکھے ٹماٹر اگالیے۔ یہ ٹماٹر مکمل طور پر سیاہ رنگ کے ہیں لیکن اندر سے سرخ ہیں۔  ٹماٹر میں ایسے anthocyanins اور antioxidant  اجزاء شامل ہیں جو صحت کے لئے انتہائی مفید سمجھے جاتے ہیں۔ برطانیہ کے شہر نیو ٹاؤن کے رہائشی 66 سالہ نرسری مالک رے براؤن نے مکمل سیاہ رنگ کے  ٹماٹر اگالئے  جو نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہیں بلکہ اس میں شامل اجزاء کینسراور ذیابیطس سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ رے براؤن نے کہا:


"ہم ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے سیاہ ٹماٹر اگانے کی کوشش کی لیکن وہ اسے حاصل نہیں کرسکے۔ انہیں صرف بھورے یانارنجی ٹماٹر اگانے میں کامیابی ملی۔ لوگوں نے ہمیشہ یہی سوچا کہ ایسا کرنا ناممکن ہے۔"


 لوگوں کے استفسار کے بارے میں رے براؤن نے کہا:


"کوئی اس بات پر یقین نہیں کر رہا تھا کہ ہم کیا کرنے جارہے ہیں۔ وہ اسے مزاق سمجھ رہے تھے۔ لوگ یہاں تک شش وپنج میں مبتلا تھے کہ آیا یہ ٹماٹر کھانے کے لائق بھی ہیں یا نہیں۔ ہم نے بہت سے کھائے ہیں۔ یہ خوش ذائقہ ہیں۔"







  سیاہ رنگ کے اس ٹماٹر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ امریکا کے Oregon  اسٹیٹ یونیورسٹی کے 'اینڈیگو روز' پروجیکٹ کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ پھلوں میں پائے جانے والےاجراء Anthocyanins کینسر، ذیابیطس اور موٹاپا روکنے میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔





Read More

Saturday, 5 October 2013

یہ بچہ ہے یا مقناطیس؟








کروشیا کے قصبے Koprivnica سے تعلق رکھنے والے آئیوان اسٹولج کووک لوہے کو اپنی جانب کھینچنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ مقناطیسی قوت کے حامل اسٹولج کے جسم سے لوہے کی چیزیں یوں چپک جاتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کی اشیاء کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔ 










قمیض اتارتے ہی آئیوان کے جسم میں موجود مقناطیسی کشش کنا گنا بڑھ جاتی ہے اور پھر جو برتن بھی اس کے جسم کے قریب لایا جاتا ہے وہ تیزی سے اس کے جسم سے چپک جاتا ہے۔ ان میں مختلف برتن، فرائی پین، چھری، کانٹے، چمچے حتیٰ کہ سیل فون بھی شامل ہیں۔ ایک دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ جو چیز جس قدر بھاری اور خالص لوہے کی ہوتی ہے وہ اسی قدر تیزی اور مضبوطی سے آئیوان کے جسم سے چپک جاتی ہے۔





آئیوان بچپن ہی سے غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل بچہ تھا۔ اس نے آٹھ ماہ کی عمر میں چلنا شروع کردیا تھا۔ 15ماہ کی عمر میں رولر بلیڈنگ کرنے لگا تھا۔ اسی طرح دو برس کی عمر تک ننھا آئیوان موٹر سائیکل بھی چلالیتا تھا۔ گویا کہ یہ اپنی عمر کے ساتھ ساتھ نہ صرف اپنے گھر والوں بلکہ اپنے قصبے کے افراد کو بھی حیران کرتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے پورے قصبے میں رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا۔ آئیوان کی مقناطیسی کشش کا علم پہلی مرتبہ اس کی دادی کو ہوا جو ازراہ مذاق چمچ اور دیگر برتن اس کے جسم سے چپکا کر محظوظ ہورہی تھیں لیکن جب کئی مرتبہ اس کے جسم سے لوہے کی اشیاء چپکنے کے واقعات ہوئے تو دادی نے اسے آئرن مین کہنا شروع کر دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آئیوان کے والدین نے بھی اسے سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا اور اب وہ ہر روز صبح کو اس کے جسم کے ساتھ لوہے کہ اشیاء چپکا کر اسے مشق کرواتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صبح کے وقت یہ قوت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ آئیوان کے دادا دادی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے ہاتھ میں شفا کی طاقت ہے۔ وہ کسی بھی شخص کے درد یا زخم والی جگہ پر ہاتھ رکھ دے تو اس شخص کو آرام آجاتا ہے۔ 










آئیوان کے جب چوٹ لگتی ہے اور اس کے جسم پر کوئی زخم لگتا ہے تو وہ ایک عام بچے کے مقابلے میں بہت جلد ٹھیک ہوجاتاہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے جسم پر زخم کا نشان نہیں پڑتا۔ کوئی سا بھی زخم ہو، وہ بہت جلد بغیر نشان چھوڑے مندمل ہوجاتاہے۔ ا





آئیوان کی اس جادوئی اور طلسماتی صلاحیت کا مشاہدہ اس کے قصبے کے لوگ کر چکے ہیں۔ عجیب و غریب صلاحیت کا حامل یہ لڑکا کروشیا کا مقناطیسی لڑکا کہلاتا ہے اور نہ صرف کروشیا بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہوچکا ہے۔ 


Read More

Thursday, 3 October 2013

اٹلی کے شہر میلان میں آبدوز زمین سے باہر سڑک پر آگئی










(انٹرنیٹ نیوز) اٹلی کے شہر میلان کے لوگ اس وقت حیران رہ گئے جب گزشتہ (بدھ02-اکتوبر) روز صبح شہر کے قدیم علاقے میں ایک آبدوز پتھریلی سڑک کا سینہ چیرتی ہوئی نمودار ہوئی۔ واقعے کے فوری بعد آبدوز کے کوننگ ٹاور پر موجود سیلرز ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے نیچے اترے اور لوگوں کو پیچھے ہٹانا شروع کردیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لوگ صبح سویرے دفاتر جا رہے تھے۔ آبدوز دیکھ کر لوگوں کا مجمع لگ گیا اور مرد و زن سڑک کنارے کھڑے اس منظر کو حیرت سے دیکھتے رہے۔ آبدوز کے نمودار ہونے سے وقوعہ پر موجود ایک اسمارٹ کار کو معمولی نقصان پہنچا۔ موقع پر موجود لوگوں نے اپنےسمارٹ فونز اور کیمروں کی مددسے آبدوز کی تصاویر اتارنا شروع کر دیں تاہم سب یہی سوال کررہے تھے کہ یہ آبدوز آئی کہاں سے؟
















لیکن شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ اٹلی کی ایک انشورنس کمپنی نے اپنی تشہیری مہم کے سلسلے میں یہ ڈرامہ رچایا تھا۔ اس کمپنی کے ملازمین نے صبح سویرے پہلے سے تیار جعلی آبدوز لا کے سارا اسٹیج سجایا اور اسے حادثے کا رنگ دیدیا جس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ جان سکیں کہ حادثات کسی بھی طرح اور نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا لوگ اپنی انشورنس کرئیں تاکہ ان کے ورثا اور لواحقین ان کے بعد مناسب رقم سے اپنی زندگی میں آسانیاں پیدا کرسکیں









Read More

Wednesday, 18 September 2013

موت کی جھیل








دنیا بھر میں پانی سے ہونے والی اموات کافی زیادہ ہے۔ یہ جانی نقصان پانی کی کمیابی، پانی میں ڈوبنے، سیلاب و دیگر عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لیکن مغربی افریقہ کے علاقے کیمرون میں ایک ایسی جھیل موجود ہے جو قدرتی طور پر خطرناک زہریلی گیسوں کا اخراج کرتی ہے۔ Nyos نامی یہ جھیل دنیا بھر میں سب سے زیادہ خطرناک جھیل تصور کی جاتی ہے۔ یہ جھیل پچھلے چند عشروں میں ہزاروں افراد کی جان لے چکی ہے۔ اگست 1986کی ایک رات اس جھیل سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس اتنی زیادہ مقدار میں خارج ہوئی کہ تقریباً 1800 افراد اور بے شمار جانور ایک ہی رات میں مر گئے۔ 


Read More

دنیا کا سب سے بڑا روبوٹک ڈریگن








جرمنی کے شہر بویریا میں دنیا کے سب سے بڑے روبوٹک ڈریگن کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ یہ ڈریگن خصوصی طور پر ایک ٹھیٹر پلے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ ٹراڈینو نامی یہ دیو ہیکل ڈریگن 11 ٹن وزنی، 30 فٹ اونچا اور 51 فٹ لمبا ہے۔ جبکہ اس کے پروں کا پھیلاؤ40 فٹ ہے۔ منہ سے آگ کے شعلے اگلتا یہ ڈریگن جرمن الیکٹریکل فرم "زولنر الیکٹرک اے جی" نے تیار کیا ہے۔ 


Read More

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood