Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here
Showing posts with label تازہ ترین. Show all posts
Showing posts with label تازہ ترین. Show all posts

Saturday, 9 October 2021

وادیٔ کونش –قدرتی حسن سے مالامال ایک دلکش تفریحی مقام













اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو تمام تر رعنائیوں اور خوبصورتیوں نوازاہے۔ اس کے فلک بوس پہاڑ، شور مچاتے دریا،جھیلیں، سمندر، سبزہ زار، اور بے پناہ قدرتی حسن پاکستان کودنیا بھر کے سیاحوں کے لئے گوشہ ٔجنت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ سوات، مرغزار،کالام، مالم جبہ، کاغان، ناران، شوگراں، ایوبیہ، ٹھنڈیانی، مری، کلرکہار، وادیٔ سون،ہنزہ ، کالاش اور شمالی علاقہ جات اپنی اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں ۔ انہیں میں سے ایک مقام وادیٔ کونش بھی ہے۔ پاکستان کی یہ خوبصورت وادی اپنے دلفریب اور دل موہ لینے والے مناظر ،صحت بخش آب و ہوا، بلند و بالا پہاڑ، دیدہ زیب اور دل کشا مرغزاراور جنگلات ،جازبِ نظر آبشار، حد درجہ خوبصورت، پُر اسرار اور طسلماتی نیلگوں جھیلوں کے باعث جنت اراضی کا درجہ رکھتی ہے ۔وادی ٔکونش مانسہرہ شہر کے شمال واقع ہے۔




دنیا کا آٹھواں عجوبہ شاہراہ ِقراقرم جو شاہراہِ ریشم کے نام سے بھی مشہور ہے اسی ضلع سے گزرتی ہے۔ یہ بین الاقوامی شاہراہ چین کے صوبہ سنکیانگ کے شہر کاشغر سے شروع ہوتی ہے اور ہنزہ، گلگت، چلاس، داسو، بشام، بٹ گرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور سے ہوتی ہوئی حسن ابدال کے مقام پر جی ٹی روڈ سے ملتی ہے۔






یہ وادی اسلام آباد کے شمال میں تقریباً ایک سو پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ مانسہرہ سے اس کی مسافت محض پچاس کلومیٹر ہے۔اسلام آباد سے بذریعہ جی ٹی روڈ ٹیکسلا اور پھر حسن ابدال سے شاہراہ قراقرم کے ذریعے ہری پور، حویلیاں، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور شنکیاری سے ہوتے ہوئے آپ اس دلکش وادی میں پہنچ سکتے ہیں۔ راستے میں بل کھاتی ندیاں، سرسبز وادیاں اور چیڑ کے درخت سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑدیتے ہیں ۔ قراقرم ہائی وے کے ذریعے اس وادی میں داخل ہوتے ہی آپ پہاڑوں کی گود میں واقع ایک سرسبز وشاداب شہر بٹل پہنچ جائیں گے۔ بٹل 1857کی جنگ ِآزادی کے حوالے سے ایک تاریخی حیثیت کا حامل ایک خوبصورت شہر ہے۔ بٹل سے بذریعہ سڑک صرف پانچ منٹ کی مسافت پر وادیٔ کونش کا ایک حسین اور دلکش مقام چھترپلین آتا ہے اور اس سے آگے ضلع بٹ گرام کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ وادی کونش ،بٹل اور چھترپلین کے مشرق میں برف سے ڈھکی ایک بلند پہاڑی چوٹی موسیٰ کا مصلیٰ اور وادیٔ کاغان، مغرب میں وادیٔ سوات، شمال میں ضلع شانگلہ کا ایک خوبصورت علاقہ بشام جبکہ جنوب میں شنکیاری کے خوبصورت مقامات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک طرف موسیٰ کا مصلیٰ اپنے جلوے دکھا کر باہمت سیاحوں کو اپنی چٹانوں پر آنے کی دعوت دیتا ہے تو دوسری جانب سوات اور کاغان کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے وادیٔ کونش کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ 






وادی کونش اپنے حدود اربعہ کے لحاظ سے کچھ یوں وضاحت ِ طلب ہے کہ اس کے مشرق میں درہ بھوگڑ منگ واقع ہے جس میں دھڑیال ۔سُم ڈاڈر ، جبوڑی ،نواز آباد ، سچہ کلاں جیسے خاص خاص مضافات ہیں ۔ جبکہ مغرب میں وادی اگرور جسے عرفِ عام میں میدانِ اگرور بھی کہا جاتا ہے کے مشہور و معروف گاؤں کھبل، شمدھڑہ ، اوگی ، دلبوڑی ، شیرگڑھ ، اور تربیلہ جھیل واقع ہیں ۔ شمال مغرب میں کوزہ بانڈہ ، کے چھوٹے مضافات اور بستیاں واقع ہیں جبکہ جنوب میں مانسہر شہر ، ہزارہ یونیورسٹی ، عطر شیشہ ، کا وسیع و عریض علاقہ اپنے اپنے قدرتی مناظر کو سموئے ہوئے ہیں ۔



وادیٔ کونش کے گردونواح کاہرعلاقہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ جہاں تک نظر دوڑائی جائے قدرتی مناظر کا ایک دلکش سلسلہ پھیلا دکھائی دیتا ہے۔ بہار کاموسم ان قدرتی مناظر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ پہاڑ، جنگلات اور خوبصورت بل کھاتے ندی نالے اس وادی کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔ یہاں پہاڑوں کے درمیان ایک دریا گزرتا ہے جسےمقامی آبادی دریائے کونش ، کٹھا اور بٹ کَس کے ناموں سے پکارتے ہیں ۔ یہ دریا اس وادی کی خوبصورتی اور رعنائی کو مزید بڑھا تا ہے ۔ اس وادی میں چھترپلین ، بٹل اور مضافاتی علاقے سیاحوں کے لئے نہایت کشش اور جاذبیت کے حامل ہیں۔یہ علاقہ شہد، مرغ اور مچھلی کی فارمنگ کیلئے بھی نہایت موزوں ہے۔



وادیٔ کونش جغرافیائی لحاظ سے بہت خوبصورت علاقہ ہے۔موسمِ گرما میں بھی یہاں رات کا آخری پہر سرد ہوتا ہے حتیٰ کہ لحاف یا کمبل میں بھی ٹھنڈ لگتی ہے۔ یہ علاقہ شہد، مرغی اور مچھلی فارمنگ کیلئے بھی انتہائی موزوں ہے۔


Read More

خدا کی محبت









اس مبہم اور غیر واضح دور میں جب ہمارے دلوں میں دشمنیاں پیدا ہو چکی ہیں جب ہمارےضمیر مردہ ہو چکے ہیں جہاں نفرت و عداوت اپنے عروج پر ہے تو بات بالکل واضح ہے کہ ہمیں محبت اور رحمدلی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی پانی اور ہوا کی۔ ایسے لگتا ہے ہم محبت کو بھلا چکے ہیں اور اس سے بڑھ کرشفقت اور کرم ایسا لفظ ہے جو خال خال نظر آتا ہے۔ ہمارے اندر نہ ہی اپنےلئے رحمدلی ہے نہ ہی دوسرے لوگوں کیلئے محبت ہے۔ ہمارے اندر نرمی کا احساس ختم ہو تا جا رہا ہے ہمارے دل سخت ہو چکے ہیں اور ہمارا اردگرد عداوت کے سیاہ بادلوں سے ڈھک چکاہے۔ اسی وجہ سے ہر چیز اور ہر شخص مبہم نظر آتا ہے۔ دنیا میں برداشت اورتحمل کو نقصان پہنچانے والے بہت زیادہ ظالم موجود ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ جنگ کرنے کے بہانےاور مختلف جھوٹوں کے ذریعے دوسروں کو بدنام کرنے کے طریقے ڈھونڈھتے ہیں اور ہم اپنے آپ کو زندان، پنجہ اور ایسے الفاظ سےیاد کرتے ہیں جو خون کھولا دیتا ہے۔



یہ افراد اور لوگوں کے بیچ خطرناک قسم کی تفریق ہے ہم اپنے جملوں کو'ہم'، 'تم' اور 'دوسرے"سےشروع کرتے ہیں۔ ہماری نفرت کبھی ختم نہیں ہو تی۔ ہم اپنی صفیں متلا دینے والے طریقے سے ختم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم جاری رکھیں گے لیکن پھر بھی ایسے احساسات برقرار رکھتے ہیں جومستقبل میں اختلافات کو جنم دیں۔ ہم ایک دوسرے سے الگ رہتے ہیں اور جدائی اور دوری ہمارے ہر عمل سے عیاں ہو تی ہیں۔ ہم کٹی ہوئی مالا کی طرح ادھر ادھر بکھرے ہوئے ہیں۔ ہم غیرمسلموں سے زیادہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔



حقیقت میں ہم نے اپنے خدا کو بھلا دیا ہے جس کے نتیجے میں اس نے ہمیں بکھیر دیا ہے۔ چونکہ ہم نے اس پر ایمان اور محبت کو چھوڑ دیا ہے اس لئے اس نے ہمارے دلوں سے محبت کا احساس چھین لیا ہے۔ ہم اپنے آغوش کی گہری کھائی میں جو کچھ کر رہے ہیں اور جہاں اس کی خواہش میں مبتلا ہیں یہ سب اسی کم عقلی پر مبنی "میں"، "تم" اور ایک دوسرے کو" کافر اجڈ" کا لیبل لگانے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پر غضب ہوا ہےجس سے کہ ہم محبت کرنے اور کئے جانے سے محروم ہو گئے ہیں۔ اور ہم کرم اور شفقت کو گھن لگا رہے ہیں۔ ہم اس سے پیار نہیں کرتے تو اس نے ہم سے پیار چھین لیا۔ پتہ نہیں اس میں کتنا وقت لگے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم اسکی طرف متوجہ ہو کر اس سے محبت نہیں کرٰیں گے وہ ہماری آپس کی محبت ہمیں عطا نہیں کرے گا۔ وہ راہیں جن پر ہم چل رہے ہیں وہ اس تک بالکل نہیں پہنچا تیں۔ اس کے برعکس اس سے دور لے جا رہی ہیں۔ وہ نفوس جو اس کی محبت کی نہروں کا منبع تھے آج بالکل ویران ہٰیں۔ ہمارے دل خشک صحراؤں کی طرح ہیں۔ ہماری اندر کی دنیا میں غار بن چکے ہیں جیسے جانوروں کے کچھار ہو تے ہیں ۔ ان سب منفی باتوں کا علاج صرف اور صرف خدا کی محبت ہے۔خدا کی محبت ہر چیز کی بنیاد ہے اور تمام محبتوں کیلئے خالص ترین اور صاف ترین ذریعہ ہے۔ انسانی رشتےصرف اسی وقت بنیں گے جب اس سے ہمارا رشتہ استوار ہو گا۔ خد کی محبت ہمارا ایمان، یقین جسم میں داخل روح کی طرح ہے۔ اس نے ہمیں جینا سکھایا اگر آج ہم زندہ ہیں تو صرف اسی وجہ سے زندہ ہیں۔ ہر وجود کی بنیاد اس کی محبت ہے اور آخر میں خدا کی الہی محبت کی وسعت بشکل جنت عطا ہو تی ہے۔ جو کچھ اس نےپیدا کیا ہے وہ محبت پر مبنی ہے اور اس نے انسان کے اپنے ساتھ تعلق کو محبوب ہو نے کے مقدس جذبے میں رکھ دیا ہے۔



(یہ تحریر ترک مصنف جناب محمد فتح اللہ گولن کے مضمون "انسان پرستی اور انسانی محبت" سے لی گئی ہے)


Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی








برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی۔ بی بی سی لے مطابق برطانیہ کے بزنس سیکرٹری ونس کیبل نے اعلان کیا ہے کہ 20 کے قریب بلا ڈرائیور گاڑیاں ملٹن کینز کے مرکز میں مخصوص سڑکوں پر چلا کریں گی۔





منصوبے کے مطابق 2017 کے وسط میں سو کے قریب مکمل طور پر خودکار کاریں شہر میں کام کر رہی ہوں گی جو پیدل چلنے والوں کے ساتھ ساتھ راستوں پر چلا کریں گی جن میں ٹکراؤ سے بچنے کے لیے سنسرز لگے ہوئے ہوں گے۔






بغیر ڈرائیور کے ان گاڑیوں میں دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی اور یہ بارہ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ ان گاڑیوں میں ایسی سکرینیں لگی ہوں گی جن پر مسافر انٹرنیٹ استعمال کر سکیں گے اور اپنی ای میل وغیرہ چیک کر سکیں گے۔ ابتدا میں ان گاڑیوں پر مسافر سوار ہو کر ریلوے سٹیشن سے شہر کے مرکز تک کا فاصلہ طے کرے گا جو ایک میل کی چڑھائی ہے اور اس پر پیدل بیس منٹ لگتے ہیں.





نسان، ٹویوٹا اور وولوو جیسی دنیا کی بڑی کاریں بنانے والی کمپنیاں بغیر ڈرائیور کے کاریں بنانے پر تحقیق کر رہی ہیں۔اگست میں وولوو نے ایک ایسی کار کا تجربہ کیا تھا جو دو بٹن دبانے پر ڈرائیور سے بریک، انجن اور سٹیئرنگ کا اختیار لے لیتی ہے۔


Read More

ہم ہیں آوارہ سُو بسُو لوگو











ہم ہیں آوارہ سُو بسُو لوگو

جیسے جنگل میں رنگ و بُو لوگو



ساعتِ چند کے مسافر سے

کوئی دم اور گفتگو لوگو



تھے تمہاری طرح کبھی ہم لوگ

گھر ہمارے بھی تھے کبھو لوگو



ایک منزل سے ہو کے آئے ہیں

ایک منزل ہے رُوبُرو لوگو



وقت ہوتا تو آرزو کرتے

جانے کس شے کی آرزو لوگو



تاب ہوتی تو جتسجُو کرتے

اب تو مایوس جستجُو لوگو



(ابنِ انشا)


Read More

عملِ ناقص









کبھی نماز میں دل لگتا ہے، کبھی نہیں لگتا، کبھی ذہن میں سکون ہوتا ہے کبھی انتشار، کبھی وساوس کا ہجوم ہوتا ہے، کبھی پریشان خیالیاں حملہ آور ہوتی ہیں۔ نماز کے وقت یکسوئی شازونادر ہی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے دل میں یہ کھٹک رہتی ہے کہ ایسی ناقص نماز کا کیا فائدہ جو صرف اٹھک بیٹھک پر مشتمل ہو۔ رفتہ رفتہ ایک بات سمجھ میں آئی کہ عمارت کی تعمیرکے لیے ابتداء میں تو صرف بنیاد مضبوط کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسے کے خوشنما ہونے کے پیچھے نہیں پڑتے۔ اس میں روڑے پتھر وغیرہ بھر دیتے ہیں اور بعد میں اس پر عالیشان محل اور بنگلے تعمیر ہوتے ہیں۔ اسی طرح ناقص عمل کی مثال بھی کامل عمل کی بنیاد کے مترادف ہے۔ بُنیاد کی خوبصورتی اور بدصورتی پر نظر نہ کی جائے۔ جو کچھ جس طرح بھی ہو، کرتا رہ، جیسے نماز گویا ناقص ہی ہو مگر ہو حدود میں، وہ ہو جاتی ہے۔ اسی پر عمل کرنے سے نمازِ کامل کا دروازہ بھی اپنے پر کھولنا شروع ہو جاتا ہے۔





(قدرت اللہ شہاب کی کتاب "شہاب نامہ" سے اقتباس)


Read More

Saturday, 9 November 2013

یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔۔







ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ خوشحالی کے دن تھے۔ ایک دن بادشاہ کی ملاقات ایک درویش صفت بزرگ سے ہوئی، بزرگ بہت نیک اور پرہیزگار تھے۔ بادشاہ اُن سے بہت عزت سے پیش آیا اور ملاقات کے آخر میں اس نے فرمائش کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز، تعویز، وظیفہ وغیرہ لکھ کر دیں جو انتہائی مشکل میں میرے کام آئے۔ بزرگ خاموش رہے لیکن بادشاہ کا اصرار بڑھا تو انہوں نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ لکھ کر دیا اور کہا کہ اس کاغذ کو اُسی وقت کھولنا جب تم سمجھو کہ بس اب اس کے آگے تم کچھ نہیں کر سکتے یعنی انتہائی مشکل میں۔




قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ملک پر حملہ ہو گیا اور دشمن کی فوج نے بادشاہ کی حکومت کو الٹ پلٹ کے رکھ دیا۔ بادشاہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور وہ بھاگ کر کسی جنگل میں ایک غار میں چھپ گیا۔ دشمن کے فوجی اس کے پیچھے تھے اور وہ تھک کر اپنی موت کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں درویش بابا کا دیا ہوا کاغذ یاد آیا، اس نے اپنی جیبیں ٹٹولیں، خوش قسمتی سے وہ اس کے پاس ہی تھا۔ سپاہیوں کے جوتوں کی آہٹ اسے قریب آتی سنائی دے رہی تھی، اب اس کے پاس کاغذ کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب اس نے وہ کاغذ کھولا تو اس پر لکھا تھا "یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔!"




بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ بزرگ نے یہ کیا کھیل کھیلا ہے، کوئی اسمِ اعظم ہوتا یا کوئی سلیمانی ورد!۔ ۔ ۔ لیکن افسوس وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے تحریر کو دوبارہ پڑھا، سہہ بارہ پڑھا۔۔۔۔  کچھ دیر تو بادشاہ سوچتا رہا، غور کرتا رہا کہ کیا کرے پھر آخر اس نے اپنی تلوار اٹھائی اور سپاہیوں کا انتظار کرنے لگا۔ سپاہی آئے، اس نے مقابلہ کیا ا ور وہ بچ نکلا۔





اس کے بعد ایک لمبی داستان ہے کہ وہ کس طرح کسی دوسرے ملک میں گیا، وہاں اس نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا، اسے ہتھیاروں سے لیس کیا اور آخر کار ایک وقت آیا کہ اس نے اپنا ملک واپس لے لیا اور پھر سے اپنے تخت پہ جلوہ نشیں ہوا۔ اس کی بہادری کے قصے دور دور تک مشہور ہو گئے اور رعایا میں اس کا خوب تذکرہ ہوا۔ اس کے دربار میں اور دربار سے باہر بھی لوگ صرف اپنے بہادر بادشاہ کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اتنا بول بالا دیکھ کر بادشاہ کے دل میں غرور پیدا ہوا اور وہ اپنی شجاعت پر اور سلطنت پر تھوڑا مغرور ہوا ہی تھا کہ اچانک اس کے دل میں بزرگ کا لکھا ہوا فقرہ آیا کہ "یہ وقت بھی گزر جائے گا" ۔ ۔ ۔ ۔!!


Read More

Friday, 8 November 2013

سلطان محمود غزنوی








محمود غزنوی 998ء میں غزنی کے سلطان کی حیثیت سے تخت نشین ہوئے۔ اُس زمانے میں غزنی کا علاقہ سامانیوں کے زیر تسلط تھا۔ سامانی، شمال مشرقی ایران سے آئے تھے اور انہوں نے چین سے لیکر خلیج فارس تک ایک وسیع سلطنت قائم کر لی تھی۔ محمود نے انہیں سامانیوں کی ماتحتی سے آزادی حاصل کی پھر آس پاس کی ریاستوں کو نیچا دکھا کے غزنی کی حکومت کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ یہ عباسی خلفاء کا دور تھا۔ اگرچہ تمام سلاطین اور حکمران اپنے اپنے علاقوں میں خود مختار تھے لیکن کمزور خلافت عباسیہ کے باوجود تقریباً سب کے سب خلیفہ کی اطاعت کا دم بھرتے تھے اور خطبہ میں اُس کا نام لیا جاتا تھا۔ عباسی خلیفہ کو محمود کی فتوحات کا حال معلوم ہوا تو خراسان کی حکومت کا پروانہ اور خلعت بھیجا۔ یمین الدولہ امین الملۃ کا خطاب بھی دیا۔ چنانچہ آگے چل کے محمود کے خاندان نے یمینی خاندان کے نام سے شہرت پائی۔ 





یہ وہ وقت تھا جب ہندو راجاؤں کا ایک خاندان جو ہندو شاہی کہلاتا تھا، پنجاب پر حکومت کرتا تھا۔ محمود کے والد امیر سبکتگین کی حکومت کے زمانے میں اِس خاندان کے ایک راجہ جے پال نے بہت سے ہندو راجاؤں کو ساتھ لے کر کابل پر چڑھائی کی۔ لیکن شکست کھائی اور خراج ادا کرنے کا وعدہ کرکے لوٹا۔ گھر پہنچ کر اُس کی نیت ڈانواں ڈول ہوگئی۔ اب کے پھر سبکتگین سے معرکہ ہوا۔ جس میں جے پال نے پھر شکست کھائی۔ محمود ان معرکوں میں والد کے ساتھ ساتھ رہا تھا۔ اور ہندو شاہیوں کی طاقت کو اچھی طرح آزما چکا تھا۔ والد کی وفات کے بعد جب اُسے اندرونی جھگڑوں سے اطمنان نصیب ہوا اور غزنی میں اس کے قدم اچھی طرح جم گئے تو اُس نے ہندوستان پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کیا اور سترہ حملے کرکے اس سرزمین میں ہل چل ڈال دی۔ جے پال کا جانشین انند پال بڑے لاؤلشکر کے ساتھ محمود کا راستہ روکنے آیا۔ کئی راجپوت راجاؤں نے اُس کی مدد کی لیکن محمود نے انہیں ایسی شکست دی کہ وہ اسے راستہ دینے پر مجبور ہوگئے۔ چنانچہ وہ سرکش راجپوتوں کو نیچا دکھاتا جنگلوں اور پہاڑوں کے جنگجو قبیلوں کو دباتا وادئ گنگا جا پہنچا۔ 





محمود غزنوی نے وادئ گنگا پر پورے زور سے پہلے مرتبہ جو حملہ کیا، اُس میں قنوج، بلند شہر، متھرا، اٹاوہ، میرٹھ کے علاوہ کئی اور چھوٹے بڑے شہر فتح ہوئے۔ ان شہروں اور ان کے مندروں سے وہ بے شمار دولت سمیٹ کے غزنی لے گیا۔ اِس موقع پر اُسے جو کامیابی حاصل ہوئی تھی اس کی وجہ سے سارے عالم اسلام میں اُس کی بہادری اور اولوالعزمی کی دھاک بیٹھ گئی اور جابجا اس کا نام بڑی عزت سے لیا جانے لگا۔





ہندو شاہیوں اور دوسرے راجاؤں نے مل کر ایک جتھا بنایا اور محمود غزنوی کا راستہ روکنے کا منصوبہ بنایا۔ جب محمود کو خبر ملی تو وہ لشکر لے کر مقابلے کے لیے روانہ ہوا۔ ہندوشاہیوں کے دلوں پر محمود کی ایس ہیبت چھائی ہوئی تھی کہ جب اس کی فوج سیلاب کی طرح ہندوکش کے پہاڑوں سے اُترا تو یہ جتھہ خودبخود ٹوٹ گیا اور کسی کو اُس کا راستہ روکنے کی ہمت نہ ہوئی۔





محمود غزنوی کا سب سے بڑا کانامہ سومناتھ کی فتح ہے۔ سومناتھ، گجرات کاٹھیاوار کے علاقے میں سمندر کے کنارے واقع ہے۔ یہاں ایک مشہور مندر تھا جس کی یاترا کو دور دور سے لوگ چلے آتے تھے۔ غزنی سے گجرات کافی دور تھا۔ راستے میں ہر طرف لق و دق میدان اور سنسان ریگستان پھیلے ہوئے تھے جن میں دور تک نہ پانی کا پتہ چلتا تھا اور نہ کہیں ہریالی تھی۔ محمود سفر کی صعوبتوں کی پروا کئے بغیر فوج لیکر یلغار کرتا ہوا چلا۔ راجپوت راجہ ہر طرف سے سمٹ کے یہاں جمع ہوگئے تھے۔ فوجوں کا تانتا بندھا ہوا تھا لیکن محمود نے اس طرح جھپٹ جھپٹ کے حملے کئے کہ راجپوتوں کی فوج تتر بتر ہوگئی۔ اس فتح میں ان گنت دولت ملی۔ سومناتھ کا بت بھی ہاتھ آیا۔ چنانچہ اس کامیابی پر اسلامی ملکوں میں جابجا بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ 





(از: تاریخ ہند و پاکستان - ریاض الاسلام)


Read More

Social Profiles

Twitter Facebook Google Plus LinkedIn RSS Feed Email Pinterest

Popular Posts

Blog Archive

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood