Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here
Showing posts with label طنز و مزاح. Show all posts
Showing posts with label طنز و مزاح. Show all posts

Thursday, 7 November 2013

میرے بتانے کی کیا ضرورت ہے؟








ایک دن ملا نصرالدین منبر پر وعظ کرنے پہنچ گئے اور حاضرین سے پوچھا۔ کیا تم کو خبر ہے کہ میں تمہیں کیا سنانے والا ہوں؟ لوگوں نے کہا: ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ملا نصرالدین یہ سن کے منبر سے اترے اور کہنے لگے کہ میں تم جیسے بے خبر لوگوں کو کیا بتاؤں جن کو کچھ خبر نہیں۔ 





دوسرے دن ملا نصر الدین پھر منبر پر پہنچے اور کہنے لگے، کیا تم کو خبر ہے کہ میں تمہیں کیا سنانا چاہتا ہوں؟ پہلے دن کے تجربے سے لوگ کہنے لگے کہ ہاں ہمیں خبر ہے۔ ملا یہ سن کر منبر سے اترے اور کہا کہ جب تمہیں پہلے ہی پتہ ہے تو میرے بتانے کی کیا ضرورت ہے۔ 





تیسرے دن وہ پھر منبر پر پہنچ گئے اور وہی سوال دوبارہ دہرایا، لوگ چونکہ دو روز کے جوابات سے تنگ آچکے تھے اس لیے کچھ لوگوں نے کہا کہ خبر ہے اور کچھ کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے۔ ملا نصرالدین یہ سن کر منبر سے اترے اور کہنے لگے: جنہیں خبر ہے وہ دوسروں کو بھی بتا دیں، میرے بتانے کی کیا ضرورت ہے۔





Read More

Thursday, 17 October 2013

ایک باز اور مرغ کا مکالمہ








ایک جگہ پہ ایک باز اور ایک مرغ اکٹھے بیٹھے تھے۔ باز مرغ سے کہنے لگا کہ میں نے تیرے جیسا بے وفا پرندہ نہیں دیکھا۔ تو ایک انڈے میں بند تھا۔ تیرے مالک نے اس وقت سے تیری حفاظت اور خاطر خدمت کی، تجھے زمانے کے سرد و گرم سے بچایا۔ جب تو چوزہ تھا تو تجھے اپنے ہاتھوں سے دانہ کھلایا اور اب تو اسی مالک سے بھاگا پھرتا ہے۔

مجھے دیکھ، میں آزاد پرندہ تھا، میرے مالک نے مجھے پکڑا تو سخت قیدو بند میں بھوکا پیاسا رہا، مالک نے بہت سختیاں کیں لیکن جب بھی مالک شکار کے پیچھے چھوڑتا ہے تو شکار کو پکڑ کر اسی مالک کے پاس ہی لاتا ہوں۔

مرغ کہنے لگا۔ "تیرا اندازِ بیان شاندار ہے اور تیری دلیل میں بہت وزنی لگتی ہے، لیکن اگر تو دو باز بھی سیخ پہ ٹنگے ہوئے دیکھ لے تو تیری دلیل دھری کی دھری رہ جائے اور کبھی لوٹ کر مالک کے پاس واپس نہ آئے۔"


Read More

Sunday, 13 October 2013

بکرے کا انتخاب











ایک صاحب نے کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد ایک بکرا منتخب کیا اور اس دوران بکرے کی نسل، شکل و صورت، خاندان اور ماضی اور مستقبل کے بارے میں اتنے سوال کئے جو عام طور پر لوگ ہونے والے داماد کے بارے میں بھی نہیں پوچھتے۔ 





بکرے والا اُن کے ہر سوال کا جواب دیتا رہا لیکن تمام انکوائری کے بعد جب خریدار نے یہ کہا:





"اور تو میاں سب ٹھیک ہے مگر اس کے سینگ چھوٹے ہیں"۔


تو بکرے والے سے رہا نہ گیا۔ اس نے جل کر کہا۔ 





"معاف کیجئے گا۔ آپ نے اس کی قربانی کرنی ہے یا اس پر کپڑے لٹکانے ہیں"۔


(امجد اسلام امجد کی چشم تماشا سے اقتباس) 


 


Read More

Saturday, 12 October 2013

اکبر بادشاہ







آپ نے حضرت ملا دو پیازہ اور بیربل کے ملفوظات میں اس بادشاہ کا حال پڑھا ہو گا، راجپوت مصوری کے شاہکاروں میں اس کی تصویر بھی دیکھی ہوگی، ان تحریروں اور تصویروں سے یہ گمان ہوتا ہے، کہ بادشاہ سارا وقت داڑھی گھٹوانے، مونچھیں تراشوائے، اکڑوں بیٹھا پھول سونگھتا رہتا تھا یا لطیفے سنتا رہتا تھا، یہ بات نہیں اور کام بھی کرتا تھا۔











اکبر قسمت کا دھنی تھا، چھوٹا سا تھا کہ باپ بادشاہ ستارے دیکھنے کے شوق میں کوٹھے سے گر کر جاں بحق ہو گیا اور تاج و تخت اسے مل گیا۔



ایڈورڈ ہفتم کی طرح چونسٹھ برس ولی عہدی میں نہیں گزارنے پڑے۔ ویسے اس زمانے میں اتنی لمبی ولی عہدی کا رواج بھی نہ تھا، ولی عہد لوگ جونہی باپ کی عمر کو معقول حد سے تجاوز کرتا دیکھتے تھے اسے قتل کرکے، یا زیادہ رحم دل ہوتے تو قید کرکے، تخت حکومت پر جلوہ افروز ہو جایا کرتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ دن رعایا کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔



(اقتباس: ابنِ انشاء کے مضامین)


Read More

Wednesday, 2 October 2013

مے دان سیاست








ہمیں آج تک سمجھ نہیں آئی کہ لوگ ہماری سنجیدہ باتوں پر ہنسنے کیوں لگتے ہیں اور ہماری مزاحیہ باتوں پر سنجیدہ کیوں ہو جاتے ہیں، کبھی کبھی تو لگتا ہے وہ ہمیں بھی سیاست دان سمجھتے ہیں۔ بچپن میں ایک بار اسکول جاتے ہوئے ایک فیملی نے گاڑی روک کر راستہ پوچھا، "بیٹا کیا آپ بتاسکتے ہیں اس وقت ہم کہاں ہیں؟" ہم نے کہا "اپنی گاڑی میں" تو اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا "یہ بڑا ہوکر سیاستدان بنےگا۔" اس نے جو بتایا وہ درست ہے لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کہا جس کا ہمیں پہلے علم نہیں۔ لوگ اب یہ تو نہیں کہتے کہ بڑا ہوکر سیاستدان بنے گا یہ کہتے ہیں چھوٹا ہر کر سیستدان بنے گا، جو ہمیں پہلے سے علم نہیں۔ 





سیاستدانوں کے بارے میں ہم یہی جانتے تھے کہ عوام کے مسلئے حل کرتےہیں، کس میں حل کرتے ہیں؟ آپ کو پتا ہی ہے سب سے اچھا محلل کونسا ہے؟ ہم سمجھتے تھے کہ سیاستدانوں کے لئے سب سے بڑا مسلئہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی مسلئہ نہ ہو لیکن پچھلے دنوں ایک سروے رپورٹ میں زندگی کے کے ہر شعبے کے لوگوں سے پوچھا گیا کہ پاستان کا سب سے بڑا مسلئہ کیا ہے تو اکثریت کا جواب تھا، "سیاستدان"۔ یہ پڑھ کر لگا کہ چلو ہم نے سیاستدان نہ بن کر قوم کو ایک مسلئے سے تو نجات دلائی۔





(ڈاکٹر یونس بٹ)


Read More

Saturday, 28 September 2013

آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔










ذرا نظر اُٹھا کر آسمان کی طرف دیکھو کتنا اونچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی اس پر سے گرے تو بہت چوٹ آتی ہے۔ بعض لوگ آسمان سے گرتے ہیں تو کھجور میں اٹک جاتے ہیں، وہیں بیٹھے کھجوریں کھاتے رہتے ہیں۔ لیکن کھجوریں بھی تو کہیں کہیں ہوتی ہیں، ہر جگہ نہیں ہوتیں۔



کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں آسمان اتنا اونچا نہیں ہوتا تھا۔ غالب نام کا شاعر جو دو سوسال پہلے ہوا ہے، ایک جگہ کسی سے کہتا ہے ؂  کیا آسمان کے برابر نہیں ہوں میں؟ جوں جوں چیزوں کی قیمتیں اونچی ہوتی گئیں، آسمان ان سے باتیں کرنے کے لئے اوپر اُٹھتا گیا۔ اب نہ چیزوں کی قیمتیں نیچے آئیں نہ آسمان نیچے اُترا۔



ایک زمانے میں آسمان پر صرف فرشتے رہا کرتے تھے پھر ہماشما جانے لگے۔ جو خود نہیں جاسکتے تھے ان کا دماغ چلا جاتا تھا۔ یہ نیچے دماغ کے بغیر ہی کام چلالیتے تھے۔ بڑی حد تک اب بھی یہی صورت حال ہے۔



(ابنِ انشاء کے تصنیف"اردو کی آخری کتاب" سے اقتباس)


Read More

Saturday, 14 September 2013

گوالا











بھینس بہت مفید جانور ہے، پنجاب کے بیشتر علاقوں میں اسے 'مج' کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ قد میں عقل سے تھوڑی بڑی ہوتی ہے۔ چوپایوں میں یہ واحد جانور ہے جو موسیقی کا ذوق رکھتا ہے، اسلئے لوگ اس کے آگے بین بجاتے ہیں۔ بھینس دودھ دیتی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہوتا، لہذا باقی دودھ گوالا دیتا ہے اور ان دونوں کے باہمی تعاون سے ہم شہریوں کا کام چلتا ہے۔ تعاون یوں تو بڑی اچھی چیز ہے، لیکن دودھ کو چھان لینا چاہئے تاکہ مینڈک نکل جائیں۔ 





ابنِ انشاء کی تصنیف "اردو کی آخری کتاب" سے اقتباس


Read More

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood