Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here
Showing posts with label اسلام. Show all posts
Showing posts with label اسلام. Show all posts

Saturday, 9 October 2021

خدا کی محبت









اس مبہم اور غیر واضح دور میں جب ہمارے دلوں میں دشمنیاں پیدا ہو چکی ہیں جب ہمارےضمیر مردہ ہو چکے ہیں جہاں نفرت و عداوت اپنے عروج پر ہے تو بات بالکل واضح ہے کہ ہمیں محبت اور رحمدلی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی پانی اور ہوا کی۔ ایسے لگتا ہے ہم محبت کو بھلا چکے ہیں اور اس سے بڑھ کرشفقت اور کرم ایسا لفظ ہے جو خال خال نظر آتا ہے۔ ہمارے اندر نہ ہی اپنےلئے رحمدلی ہے نہ ہی دوسرے لوگوں کیلئے محبت ہے۔ ہمارے اندر نرمی کا احساس ختم ہو تا جا رہا ہے ہمارے دل سخت ہو چکے ہیں اور ہمارا اردگرد عداوت کے سیاہ بادلوں سے ڈھک چکاہے۔ اسی وجہ سے ہر چیز اور ہر شخص مبہم نظر آتا ہے۔ دنیا میں برداشت اورتحمل کو نقصان پہنچانے والے بہت زیادہ ظالم موجود ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ جنگ کرنے کے بہانےاور مختلف جھوٹوں کے ذریعے دوسروں کو بدنام کرنے کے طریقے ڈھونڈھتے ہیں اور ہم اپنے آپ کو زندان، پنجہ اور ایسے الفاظ سےیاد کرتے ہیں جو خون کھولا دیتا ہے۔



یہ افراد اور لوگوں کے بیچ خطرناک قسم کی تفریق ہے ہم اپنے جملوں کو'ہم'، 'تم' اور 'دوسرے"سےشروع کرتے ہیں۔ ہماری نفرت کبھی ختم نہیں ہو تی۔ ہم اپنی صفیں متلا دینے والے طریقے سے ختم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم جاری رکھیں گے لیکن پھر بھی ایسے احساسات برقرار رکھتے ہیں جومستقبل میں اختلافات کو جنم دیں۔ ہم ایک دوسرے سے الگ رہتے ہیں اور جدائی اور دوری ہمارے ہر عمل سے عیاں ہو تی ہیں۔ ہم کٹی ہوئی مالا کی طرح ادھر ادھر بکھرے ہوئے ہیں۔ ہم غیرمسلموں سے زیادہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔



حقیقت میں ہم نے اپنے خدا کو بھلا دیا ہے جس کے نتیجے میں اس نے ہمیں بکھیر دیا ہے۔ چونکہ ہم نے اس پر ایمان اور محبت کو چھوڑ دیا ہے اس لئے اس نے ہمارے دلوں سے محبت کا احساس چھین لیا ہے۔ ہم اپنے آغوش کی گہری کھائی میں جو کچھ کر رہے ہیں اور جہاں اس کی خواہش میں مبتلا ہیں یہ سب اسی کم عقلی پر مبنی "میں"، "تم" اور ایک دوسرے کو" کافر اجڈ" کا لیبل لگانے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پر غضب ہوا ہےجس سے کہ ہم محبت کرنے اور کئے جانے سے محروم ہو گئے ہیں۔ اور ہم کرم اور شفقت کو گھن لگا رہے ہیں۔ ہم اس سے پیار نہیں کرتے تو اس نے ہم سے پیار چھین لیا۔ پتہ نہیں اس میں کتنا وقت لگے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم اسکی طرف متوجہ ہو کر اس سے محبت نہیں کرٰیں گے وہ ہماری آپس کی محبت ہمیں عطا نہیں کرے گا۔ وہ راہیں جن پر ہم چل رہے ہیں وہ اس تک بالکل نہیں پہنچا تیں۔ اس کے برعکس اس سے دور لے جا رہی ہیں۔ وہ نفوس جو اس کی محبت کی نہروں کا منبع تھے آج بالکل ویران ہٰیں۔ ہمارے دل خشک صحراؤں کی طرح ہیں۔ ہماری اندر کی دنیا میں غار بن چکے ہیں جیسے جانوروں کے کچھار ہو تے ہیں ۔ ان سب منفی باتوں کا علاج صرف اور صرف خدا کی محبت ہے۔خدا کی محبت ہر چیز کی بنیاد ہے اور تمام محبتوں کیلئے خالص ترین اور صاف ترین ذریعہ ہے۔ انسانی رشتےصرف اسی وقت بنیں گے جب اس سے ہمارا رشتہ استوار ہو گا۔ خد کی محبت ہمارا ایمان، یقین جسم میں داخل روح کی طرح ہے۔ اس نے ہمیں جینا سکھایا اگر آج ہم زندہ ہیں تو صرف اسی وجہ سے زندہ ہیں۔ ہر وجود کی بنیاد اس کی محبت ہے اور آخر میں خدا کی الہی محبت کی وسعت بشکل جنت عطا ہو تی ہے۔ جو کچھ اس نےپیدا کیا ہے وہ محبت پر مبنی ہے اور اس نے انسان کے اپنے ساتھ تعلق کو محبوب ہو نے کے مقدس جذبے میں رکھ دیا ہے۔



(یہ تحریر ترک مصنف جناب محمد فتح اللہ گولن کے مضمون "انسان پرستی اور انسانی محبت" سے لی گئی ہے)


Read More

Friday, 8 November 2013

ایک عرب بدو کا خلیفہ مامون الرشید سے مکالمہ











عباسی خلیفہ مامون الرشید خرسان سے حج کے لیے مکہ مکرمہ جارہے تھے۔ طوس کے مقام پر اسے ایک شخص ملا۔ کہنے لگا: " اے خلیفہ! میں ایک بدو ہوں۔" مامون یہ سن کر کہنے لگے: "کوئی تعجب کی بات نہیں۔"





یہ سن کر وہ شخص کہنے لگا: "میں حج کے لیے جانا چاہتاہوں۔" مامون کہنے لگے: "اللہ کی زمین وسیع ہے، بڑی خوشی سے جاؤ۔" اس پر بدو کہنے لگا: " میرے پاس زادِ راہ نہیں ہے۔" مامون الرشید نے کہا: "تب تو تجھ پر حج فرض نہیں ہوتا۔" بدو بولا: "امیر المومنین! میں آپ سے کچھ انعام لینے آیا ہوں، فتوی تو نہیں پوچھنے آیا۔"





مامون الرشید ہنس پڑے اور اسے انعام دینے کا حکم دیا۔ 


Read More

Thursday, 7 November 2013

غلافِ کعبہ : تاریخ کے آئینے میں





1962ء میں غلاف کی تیاری کی سعادت پاکستان کے حصے میں بھی آئی۔ 



کعبة اللہ پر غلاف چڑھانے کی رسم بہت پرانی ہے خانہ کعبہ پر سب سے پہلے غلاف حضرت اسماعیل نے چڑھایا تھا۔ ظہو ر اسلام سے قبل بھی حضور اکرمﷺ کا خاندان مکہ مکرمہ میں بہت عزت واحترام سے دیکھا جاتا تھا‘ آپﷺکے جدامجد بھی تمام قبائل میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے‘ انہوں نے بڑی سمجھداری اور فراست سے کام لیتے ہوئے غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے خصوصی بیت المال قائم کیا تاکہ تمام قبائل اپنی حیثیت کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لے سکیں۔ فتح مکہ کی خوشی پر حضور اکرمﷺ نے یمن کا تیار کیا ہوا‘ سیاہ رنگ کا غلاف اسلامی تاریخ میں پہلی بار چڑھانے کا حکم دیا۔ آپﷺ کے عہد میں دس محرم کو نیا غلاف چڑھایا جاتا تھا‘ بعد میں یہ غلاف عیدالفطر کو اور دوسرا دس محرم کو چڑھایا جانے لگا۔ بعدازاں حج کے موقع پر غلاف کعبہ چڑھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا‘ 9اور 10ہجری میں بھی آپﷺ نے حجتہ الوداع فرمایا تو غلاف چڑھایا گیا۔





اس زمانے سے آج تک ملت اسلامیہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ غلاف خوبصورت اور قیمتی کپڑے سے بنا کر اس پر چڑھاتے ہیں۔ حضور اکرمﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے دور میں مصری کپڑے کا قباطی غلاف چڑھایا کرتے تھے۔ سیدنا عمر فاروق پہلے پرانا غلاف اتار کر زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے لیکن بعد میں اسکے ٹکڑے حجاج اور غربا میں تقسیم کر دیئے جاتے۔ آج کل یہ ٹکڑے اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور اہم شخصیات کو تحفہ میں دیئے جاتے ہیں۔حضرت عثمان غنی اسلام کی پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے پرانے غلاف پر غلاف چڑھایا اور سال میں دو مرتبہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی رسم ڈالی۔





بنو عباس نے اپنے 500 سالہ دور حکومت میں ہر سال بغداد سے غلاف بنوا کر مکہ مکرمہ روانہ کئے۔ عباسیوں نے اپنے دور حکومت میں غلاف کعبہ کی بنوائی میں خصوصی دلچسپی لی اور اسکو انتہائی خوبصورت بنایا۔ خلیفہ ہارون الرشید نے سال میں 2 مرتبہ اور مامون الرشید نے سال میں تین مرتبہ غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے کا اہتما م کیا۔ مامون الرشید نے سفید رنگ کا غلاف چڑھایا تھا‘ خلیفہ الناصر عباس نے پہلے سبز رنگ کا غلاف بنوایا لیکن پھر اس نے سیاہ ریشم سے تیار کروایا‘ اسکے دور سے آج تک غلاف کعبہ کا رنگ سیاہ ہی چلا آرہا ہے البتہ اوپر زری کا کام ہوتا ہے۔140ھ سے غلاف پر لکھائی شروع ہوگئی جو آج تک جاری ہے ۔





761 ہجری میں والی مصر سلطان حسن نے پہلی مرتبہ کعبہ کے بارے میں آیات قرآنی کو زری سے کاڑھنے کا حکم دیا۔ 810 ہجری میں غلاف کعبہ بڑے خوبصورت انداز میں جاذب نظر بنایا جانے لگا‘ جیسا کہ آج بھی نظر آتا ہے۔ محمود غزنوی نے ایک مرتبہ زرد رنگ کا غلاف بھیجا۔ سلمان دوم کے عہد حکومت تک غلاف مصر سے جاتا تھا‘ جب اس رسم میں جاہلانہ باتیں شامل کرلی گئیں تو سعودیہ عرب سے مصریوں کے اختلافات بڑھ گئے اور مصریوں کا تیار کردہ غلاف لینے سے انکار کر دیا گیا۔ شریف حسین والی مکہ کے تعلقات مصریوں سے 1923ء میں خراب ہوئے چنانچہ مصری حکومت نے غلاف جدہ سے واپس منگوا لئے۔





1927ءمیں شاہ عبد العزیز السعود نے وزیر مال عبداللہ سلیمان المدن اور اپنے فرزند شہزادہ فیصل کو حکم دیا کہ وہ غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے جلدازجلد ایک کارخانہ قائم کریں اور 1346 ہجری کےلئے غلاف کی تیاری شروع کر دیں چنانچہ انہوں نے فوری طور پر ایک کارخانہ قائم کرکے ہندوستانی کاریگروں کی نگرانی میں غلاف کی تیاری شروع کر دی اور یوں سعودیہ کے کارخانے میں تیار ہونیوالا یہ پہلا غلاف کعبہ تھا۔ مکہ میں قائم ہونیوالی اس فیکٹری کا نام ”دارالکسوہ“ ہے۔غلاف میں 150کلو سونے اور چاندی کا استعمال کیا جاتا ہے۔





(بشکریہ: فضل حسین اعوان-نوائے وقت)


Read More

Saturday, 2 November 2013

امیر کی اطاعت








ایک درویش بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کوفہ سے مکہ مکرمہ کے ارادے سے چلا۔ راستہ میں حضرت ابراہیم خواص  سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے صحبت میں رہنے کی اجازت مانگی انہوں نے فرمایا صحبت میں ایک امیر ہوتا ہے، اور دوسرا فرمانبردار۔ تم کیا منظور کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا، آپ امیر بنیں اور میں فرمابنردار، انہوں نے کہا اگر فرمابنردار بننا پسند کرتے ہو تو میرے کسی حکم سے باہر نہ ہونا۔ میں نے کہا۔ یہی ہوگا۔ جب ہم منزل پر پہنچے تو انھوں نے کہا بیٹھ جاؤ۔ میں بیٹھ گیا۔ انہوں نے کنویں سے پانی کھینچا جو بہت سرد تھا پھر لکڑیاں جمع کر کے ایک جگہ پر آگ جلائی اور پانی گرم کیا۔ میں جس کام کا ارادہ کرنے کی جسارت کرتا وہ فرماتے بیٹھ جاؤ۔ فرمانبرداری کی شرط کو ملخوظ رکھو۔ جب رات ہوئی تو شدید بارش نے گھیر لیا۔انہوں نے اپنی گڈری اتار کر کندھے پر ڈالی اور رات بھر میرے سر پر سایہ کئے کھڑے رہے۔ میں ندامت سے پانی پانی ہوا جارہا تھا مگر شرط کے مطابق کچھ نہ کر سکتا تھا۔



 جب صبح ہوئی تو میں نے کہا اے شیخ! آج میں امیر بنوں گا۔ انہوں نے فرمایا ٹھیک ہے، جب ہم منزل پر پہنچے تو انہوں نے پھر وہی خدمت اختیار کی میں نے کہا اب آپ میرے حکم سے باہر نہ ہوجائیے۔ فرمایا! فرمان سے وہ شخص باہر ہوتا ہے جو اپنے امیر سے خدمت کرائے۔ وہ مکہ مکرمہ تک اسی طرح میرے ہم سفر رہے جب ہم مکہ پہنچے تو میں شرم کے مارے بھاگ کھڑا ہوا یہاں تک کہ انہوں نے مجھے منیٰ میں‌دیکھ کر فرمایا اے فرزند! تم پر لازم ہے کہ درویشوں کے ساتھ ایسی صحبت کرنا جیسی کہ میں نے تمہارے ساتھ کی ہے۔


("کشف المحجوب" - مترجم غلام معین الدین نعیمی)


Read More

Friday, 1 November 2013

اللہ کے ذکر کی طاقت







ایک نامی گرامی بادشاہ کی چہیتی بیٹی بیمار پڑی۔ اس عہد کے بڑے اطباء اور صادق حکیموں سے اس کا علاج کروایا لیکن مرض بگڑتا گیا۔ آخر میں وہاں کے سیانے کو بلاکر مریضہ کو دکھایا گیا۔ اس نے مریضہ کے سرہانے بیٹھ کر لا اِلٰہ کا ورد شروع کر دیا۔ طبیب اور حکیم اس کے اس فعل کو دیکھ کر ہنسنے لگے اور کہا کہ محض الفاظ جسم پر کس طرح اثر انداز ہونگے! تعجب! اس صوفی نے چلا کر کہا "خاموش! تم سب لوگ گدھے ہو اور احمقوں کی سی بات کرتے ہو۔ اس کا علاج ذکر ہی سے ہوگا۔" اپنے لیے گدھے اور احمق کے الفاظ سن کر ان کا چہرہ سرخ ہوگیا اور ان کے جسموں کے اندر خون کا فشار بڑھ گیا۔ اور انہوں نے صوفی کے خلاف مکے تان لیے۔ صوفی نے کہا "اگر گدھے کے لفظ نے تم کو چراغ پا کر دیا ہے اور تم سب کا بلڈ پریشر ایک دم ہائی ہو گیا ہے اور تم نے میرے خلاف مکے تان لیے تو کیا ذکر اللہ اس بیمار بچی کے وجود پر کوئی اثر نہیں کرے گا؟"


اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے، آمین۔




(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)


Read More

حقوق اللہ اور حقوق العباد






انسان پر سب سے پہلے حقوق اللہ کی ادائیگی کو ضروری قرار دیا گیا ہے، کیونکہ انسان کو عدم سے وجود بخشنے والا صرف ایک اللہ ہے، لہذا انسان کے خالق و مالک ہونے کے ناطے اللہ تعالی کے حقوق ہر لحاظ سے فائق و برتر ہیں اور حقوق اللہ میں سرفہرست حق یہ ہے کہ اللہ تعالی کو وحدہ لاشریک مانا جاۓ اور توحید باری تعالی کا قولی وعملی اقرار کیا جاۓ- روز آخرت انسان کی نجات کا معیار یہی توحید باری تعالی ہے۔

حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد کا معاملہ ہے- حقوق العباد میں سرفہرست والدین کا حق ہے- اللہ تعالی کے بعد انسان کا سب سے قریبی تعلق اپنے والدین سے ہوتا ہے- والدین ہی اسکی پیدائش کا ذریعہ بنتے ہیں اور اسکی تعلیم وتربیت کی وجہ سے دیگر انسانوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ وہی اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ انکے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کیا جاۓ۔

قرآن مجید کی کم وبیش چار آیات میں اللہ تعالی نے والدین کے حق کو اپنے حق کے متصل بعد ذکر کیا ہے جس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ کی نگاہ میں والدین کے حقوق کی کیا اہمیت ہے۔

اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو


Read More

Wednesday, 30 October 2013

قرآن ایک عظیم نعمت








اللہ تعالٰی نے انسانوں کے لئے بے شمار نعمتیں دنیا میں پیدا کی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی نعمت قرآن مجید ہے۔قرآن مجید ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ دنیا میں ہم کس طرح زندگی گزاریں تاکہ ہماری دنیا بھی اچھی ہو اور آخرت بھی اور مرنے کے بعد اللہ تعالٰی ہم کو جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائیں۔





یہ سب کسی بھی طور مشکل نہیں ہے۔ ہمیں کرنا صرف یہ ہے کہ ہم قرآن مجید سمجھ کر پڑھیں اور اس پر عمل کریں۔ اس میں جن باتوں کا حکم ہے اسے پورا کریں اور جن چیزوں سے روکا گیا ہے، اس سے خود بھی بچنے کی کوشش کریں اور دوسروں کو بھی تلقین کریں۔ ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ قرآن مجید کی تعلیم ہر جگہ پھیلانے کی کوشش کریں۔ 





اللہ تعالٰی ہمارا مددگار ہو۔ آمین۔ 


Read More

Saturday, 26 October 2013

گناہوں کی دوا







حضرت شبلی نے ایک حکیم سے کہا’’مجھے گناہوں کا مرض ہے اگراس کی دوا بھی آپ کے پاس ہو تو عنایت کیجئے، یہاں یہ باتیں ہورہی تھیں اورسامنے میدان میں ایک شخص تنکے چننے میں مصروف تھا،اس نے سراٹھاکر کہا کہ جوتجھ سے لولگاتے ہیں وہ تنکے چنتے ہیں‘‘ شبلی! یہاں آؤ میں اس کی دوابتاتاہوں۔"




حیاکے پھول، صبروشکر کے پھل، عجز ونیاز کی جڑ، غم کی کونیل، سچائی کے درخت کے پتے، ادب کی چھال، حسن اخلاق کے بیج یہ سب اشیا لیکرریاضت کے باون دستہ میں کوٹنا شروع کرو اوراشک پشیمانی کاعرق ان میں روز ملاتے رہو۔ پھر ان سب کو دل کی دیگچی میں بھرکر شوق کے چولھے پرپکاؤ جب پک کرتیار ہوجائے توصفائے قلب کی صافی میں چھان کر شیریں زبان کی شکر ملاکرمحبت کی تیزآنچ دینا، جس وقت تیارہوکر اترے تو اس کو خوف خداکی ہوا سے ٹھنڈاکرکے استعمال کرنا‘‘



حضرت شبلی نے نگاہ اٹھاکر دیکھاتو وہ اللہ کا دیوانہ غائب ہوچکا تھا۔





( سچے موتی۸/۳۸۲)


Read More

Sunday, 20 October 2013

بیت اللہ کی کشش






میں بارگاہِ خداوندی کے جاہ و جلال کے تصور سے لرزتا ہوا اندر داخل ہوا۔ صحن میں پاؤں رکھتے ہی خانہ کعبہ پر نظر پڑی اور مجھے اچانک ایسا محسوس ہوا کہ اس کی چھت آسمان کو چھو رہی ہے۔ سینکڑوں آدمی وہاں طواف کر رہے تھے۔ کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنا گوارا نہ تھا۔ جو طواف سے فارغ ہو چکے تھے، ان میں سے کوئی حطیم کے اندر نفل پڑھ رہا تھا اور کوئی غلافِ کعبہ تھام کر گریہ و زاری کر رہا تھا۔ کسی کو کسی سے سروکار نہ تھا۔ کسی کو کسی سے دلچسپی نہ تھی۔ دو تین چکر لگانے کے بعد مجھے خیال آیا کہ میں‌ کون ہوں اور کہاں سے آیا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی میری آواز بیٹھ گئی۔ میری قوت گویائی جواب دے گئی اور آنسوؤں کا سیلاب جو نہ جانے کب سے اس وقت کا منتظر تھا میری آنکھوں سے پھوٹ نکلا۔ یہ ایک ایسا مقام تھا جہاں بچے کی طرح سسکیاں لینا بھی مجھے معیوب معلوم نہیں ہوتا تھا۔ کسی نے میری طرف دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں‌ کی، کسی نے یہ نہ پوچھا کہ تم کیا کر رہے ہو، ان کی بے اعتنائی اور بے توجہی ظاہر کر رہی تھی کہ ایک انسان کے آنسو اسی مقام کے لیے ہیں.

( نسیم حجازی کے سفرنامے "پاکستان سے دیارِ حرم تک" سےاقتباس)


Read More

Thursday, 17 October 2013

خلیفہ ہارون الرشید کا استفسار اور بہلول کا انوکھا جواب













ایک دن بہلول بازار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ خلیفہ ہارون الرشید کا گزر ہوا تو انہوں نے پوچھا بہلول کیا کر رہے ہو تو بہلول نے کہا کہ بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں۔




ہارون الرشید نے کہا کہ پھر کیا بنا؟




بہلول نے کہا کہ اللہ تو مان رہا ہے لیکن بندے نہیں مان رہے۔



کچھ دن بعد خلیفہ کا ایک قبرستان کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا بہلول قبرستان میں بیٹھے ہیں۔

قریب جا کر پوچھا بہلول کیا کر رہے ہو۔




بہلول نے کہا بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں۔




ہارون الرشید نے کہا کہ پھر کیا بنا؟




بہلول نے کہا بندے تو مان رہے ہیں مگر آج اللہ نہیں مان رہا ہے۔






دوستوں! اس بارے میں ضرور سوچو، کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہوجائے اور اللہ کو منانے کا موقع ہاتھ سے نکل جائے۔ اب بھی وقت ہے اپنا آپ پہچانو اپنے رب کے پیغام کو جانو۔



Read More

Tuesday, 15 October 2013

قربانی کی اہمیت







سنت ابراہیمی کا دن قریب آ رہاہے جو ہمارے اخلاص و ایثار کا امتحان ہے۔ یہ دن عید الضحیٰ کہلاتا ہے جو حضرت ابرہیم خلیل اللہ کی جانب سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے۔قربانی کا تصور ہر آسمانی مذہب میں پایا جاتا ہے۔ جذبہ ایثار کا یہ ایک بہترین محرک ہے۔ اس کی ابتدا قابیل کے واقعہ سے ہوتی ہے، لیکن جس کی یاد گار کو ہم مناتے ہیں اس کا اجرا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا تھا کہ یہ قربانی کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ نے عرض کی! ہمیں اس میں کیا ملے گا۔ فرمایا جانور کے ہر بال کے عوض ایک نیکی ۔



حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا قربانی کے دن اﷲ کے ہاں خون بہانے سے کوئی عمل زیادہ محبوب نہیں۔ قربانی کے جانور کے سینگ ‘ بال کھر قیامت کے روز سب اجر وثواب بن جائیں گے۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اﷲ تعالیٰ کے ہاں بلند درجہ پا لیتا ہے۔ لہذا ایسی قربانیوں سے اپنے دل خوش کرو۔



قربانی کا گوشت تقسیم بھی کیا جا سکتا ہے اور حسب ضرورت رکھا بھی جا سکتا ہے۔ کوئی پابندی نہیں۔ شریعت کی رو سے قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جاتے ہیں۔ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں اور تیسرا حصہ مساکین کیلئے مختص کیا جاتا ہے۔ اسی قربانی کی یہ حکمت وبرکت ہے کہ غریب سے غریب شخص بھی ان دنوں گوشت سے محروم نہیں رہتے۔



قربانی کا گوشت تقسیم ہو یا نہ ہو استعمال میں آئے یا نہ آئے اس سے قربانی کی اہمیت کسی صورت بھی کم نہیں ہوتی ۔قرآن کریم میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ’’اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے بلکہ تمہارا تقوی پہنچتا ہے-" (سورۃ الحج آیت نمبر 37)



آخر میں قربانی کی استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں کے بارے میں رسول اکرم ﷺ کا ایک ارشاد مبارک بھی پڑھ لیجئے- ارشاد نبوی ﷺ ہے:



’’جو شخص قربانی کی استطاعت رکھتا ہو پھر بھی قربانی نہ کرے وہ (نماز عید کے لئے) ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے"۔ (مسند احمد)



قربانی کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث ہیں، اس لئے اس عبادت کو ہرگز ترک نہ کریں جو اسلام کے شعائر میں سے ہے اور اس سلسلہ میں جن شرائط و آداب کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے، انہیں اپنے سامنے رکھیں اور قربانی کا جانور خوب دیکھ بھال کر خریدیں۔


Read More

Friday, 11 October 2013

سورۃ یٰسین کے فوائد








حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "ہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورۃ یٰسین ہے"۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اپنے مجربات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں:"تم یٰسین کو لازم کرلو، اس میں بے شمار فوائد ہیں"۔





اس سورۃ کے چند فوائد درج ذیل ہیں:







  • اگر کوئی بھوکا آدمی اسے پڑھے تو اس کی طبیعت سیر ہوجائے گی۔

  • اگر پیاسا آدمی پڑھے تو اس کی پیاس بجھ جائے گی۔

  • اگر لباس نہیں تو پڑھنے سے لباس میسر آجائے گا۔

  • اگر غیر شادی شدہ مرد یا عورت پڑھے تو اس کی شادی ہوجائے گی۔

  • اگر خوف زدہ پڑھے تو اس کا خوف ختم ہوجائے گا۔

  • اگر قیدی اس کو پڑھا کرے تو رہائی پائے گا۔

  • اگر مسافر پڑھے تو سفر میں اس کی اعانت ہوگی۔

  • اگر غم یا وہم والا پڑھے تو وہ شفا پائے گا۔

  • اگر گم شدہ آدمی یا چیز کی واپسی کے لیے پڑھیں تو دستیاب ہوگی۔

  • اگر بیمار کے لیے پڑھے تو مریض صحت یاب ہوجائےگا۔



(ماخوذ از مجربات امام سیوطی رحمہ اللہ)


Read More

Sunday, 6 October 2013

علم کے حقیقی فوائد







حضرات حاتم اصم خراسانی رحمہ اللہ اپنے دورکے ظاہری علوم میں دسترس حاصل کرنے کے بعد کسی دارالعلوم میں مسند تدریس پر فائز ہونے کی بجائے علم کی خوشبو سونگھنے اور اس کی لذت سے لطف اندوز ہونے کے لئے حضرت شقیق بلخی کی صحبت میں چلے گئے۔ وہاں تیس سال تک صدق و صفا، تسلیم و رضا، زہد و ورع، ایثار و قربانی، تواضع و انکساری، ہمدردی و غمگساری،صبر و حلم، عفو و کرم، طیب الکلام، افشاء السلام کا درس لیتے رہے۔ ایک دن ان کے شیخ محترم نے ان سے پوچھا: اے حاتم! تمہیں میرے حلقہ درس میں شامل ہوئے تیس برس گزرگئےہیں بتاؤ اس عرصے میں تم نے علم سے کیا کیا فوائد حاصل کیے ہیں۔



انہوں نے جواب دیا: "حضرت! میں نے مخلوق کی حالت پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہر انسان کا کوئی نہ کوئی محبوب اور معشوق ہے، جس سے وہ محبت اور عشق کرتا ہے۔ لیکن اس کا کوئی محبوب تو مرض الموت تک اس کی محبت کا دم بھرتا ہے اور کوئی قبر کے کنارے تک ساتھ رہتا ہے۔ پھر اسے قبر کی تاریک کوٹھری میں بند کرکے واپس آجاتا ہے۔ لیکن گھڑی بھر اس کے ساتھ نہیں لیٹتا، لہٰذامیں نے سوچا کہ میں اس کو اپنا محبوب بناؤں جو قبر میں میرے ساتھ داخل ہو اور وہاں میری وحشت اور تنہائی کو دور کرے۔ میرا غمگسار اور ساتھی بنے۔ چنانچہ میں نے اعمال صالحہ کو اپنا محبوب بنالیا کیونکہ ان کے علاوہ کوئی بھی قبر میں داخل ہوتا اور نہ اندر کسی طرح کی روشنی کا ہی اہتمام کرتا ہے۔"


Read More

Tuesday, 24 September 2013

نیکی کرنے میں جلدی کا حکم







حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نیکی کرنے میں جلدی کرو اِس سے پہلے کے ( یہ ) 6 چیزیں واقع ہوں .




  1. دجال کا ظہور 

  2. دھواں 

  3. زمین کا جانور 

  4. سورج کا مغرب سے نکلنا     اور 

  5. انتشار کا عام ہونا  

  6. جس سے بڑے پیمانے پہ قتل عام ہو گا . 



( رواہ مسلم ، کتاب 41 ، حدیث 7040 )






Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Hasten in performing these good deeds (before these) six things (happen): (the appearance) of tribe Dijjal, the smoke, the beast of the earth, the rising of the sun from the west, the general turmoil (leading to large-scale massacre) and death of masses and individuals.

Read More

زلزلے کیوں آتے ہیں؟







 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کی جو بیشمار نشانیاں بیان کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس زمانے میں زلزلوں کی کثرت ہوگی۔ کسی زمانے میں جب کہیں سے یہ اطلاع آتی  کہ فلاں جگہ زلزلہ آیا ہے اور اتنے لوگ اسکے نتیجے میں لقمہ اجل بن گئے ہیں تو دیندار اور خوف خدا رکھنے والے لوگ توبہ استغفار کرنے لگتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کی رو سے یہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ مگر آجکل روزانہ ہی کہیں نہ کہیں زلزلے نمودار ہو رہے ہیں اور انکے نتیجے میں جانی اور مالی خسارےوقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں. مگر لوگوں کے دلوں میں اس بات کا خوف پیدا نہیں ہوتا بلکہ دلوں پر خوف کی جگہ ایک بے حسی کی کیفیت طاری ہو چکی ہے اور نصیحت حاصل کرنے کی بجائے تجاہل سے کام لیا جانے لگا ہے. قرآن مجید میں اللہ تعالی نے سورۃالزلزال میں وقوع قیامت کے حوالے سے ارشاد فرمایا ہے کہ"جب زمیں اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائیگی" (سورۃ الزلزال۔ آیت ۱) مفسرین اس آیت سے یہ معنی لیتے ہیں کہ اس وقت زمین کا کوئی مخصوص حصہ نہیں بلکہ پورے کا پورا کرہ ارض ہلا دیا جائیگا جسکے نتیجے میں دنیا کا وجود ختم ہو جائیگا۔ مگر اس عظیم زلزلے کے واقع ہو نے سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق زمین کے مختلف حصوں پر زلزلوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوجائیگا۔


(بشکریہ: اردو کو)


Read More

Monday, 23 September 2013

حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حیات طیبہ







حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) لق و دق صحرا میں صاف پانی کے فوارے کی طرح ہیں اور گھٹا توپ اندھیروں میں روشنی کا ذریعہ ہیں۔ جو اس فوارے تک پہنچ جاتے ہیں وہ اتنا پانی لے لیتے ہیں جس سے انکی پیاس بجھ سکے تا کہ وہ اپنے گناہوں سے پاک ہو سکیں اور ایمان کی روشنی سے منور ہو سکیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہاتھوں میں رحم، ایک کنجی کی طرح تھا، جس کےذریعے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایسے قلوب کو کھولا جو سخت اور زنگ آلود ہو چکے تھے اور جنہیں کھولنے کا کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) تو اس سے زیادہ کر گئے کہ ان دلوں میں ایمان کی شمع روشن کر دی۔





اہل مکہ جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اپنے تھے انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اتنا ستایا کہ آخر کار آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مدینہ ہجرت کرنا پڑی۔ حتی کہ ہجرت کے بعد بھی ۵ برس تک امن نہ تھا۔ لیکن نبوت کے اکیسویں برس جب مکہ فتح ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اہل مکہ سے پوچھا "تم مجھ سے کیا توقع رکھتے ہو کہ تمہارے ساتھ معاملہ کروں گا؟" ان سب نے جواب دیا: "آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) شریف ہیں اور شریف باپ کے بیٹے ہیں۔"  پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنا فیصلہ یوں سنایا "آج تم پر کوئی قدغن نہیں؛ اللہ تمہیں معاف کرے! اس لئے کہ وہ بہت معاف کرنے والاہے"۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) مسلمانوں کے لئے انتہائی رحیم اور شفیق تھے؛ چنانچہ قرآن میں ہے:





"تحقیق تمہارے پاس، تم میں سے ہی پیغمبر آگئے ہیں، جن کو تمہاری تکلیف گراں گزرتی ہے، تمہارے بارے میں حریص ہیں اور مومنوں کیساتھ رحمدل اور مہربان ہیں"۔ (التوبہ:128)





"(وہ پیغمبر) مومنوں کا نگہبان ہے اور خود انکی ذات سے بھی زیادہ انکے قریب ہے۔"(الاحزاب:33)





آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)  کی حیات طیبہ بھی عفو و درگزر اور برداشت میں گزری۔ حتی کہ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)  نے ابو سفیان کے ساتھ بھی نرمی والا معاملہ کیا، حالانکہ اس نے ساری زندگی آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)  پر طعن و تشنیع کی تھی۔ فتح مکہ کے دوران، اسکے باوجود کہ ابو سفیان نے کہا کہ وہ ابھی بھی اسلام کے متعلق شک میں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)  نے اعلان کروایا کہ جو ابو سفیان کے گھر پناہ لے لے اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ بالکل اسی طرح جس طرح خانہ کعبہ میں داخل ہونے والامامون قرار دیا اسی طرح ابو سفیان کا گھر تحفظ کے اعتبار سے خانہ کعبہ کے ساتھ مذکور ہوا۔





(یہ تحریر ترک مصنف جناب محمد فتح اللہ گولن کے مضمون "اسلام – تحمل و برداشت کا مذہب" سے لی گئی ہے)


Read More

Tuesday, 17 September 2013

علم و عمل میں فرق








علم و عمل میں اگر فرق ہو تو یہ ایک طرح کی منافقت ہے بلکہ کھلی منافقت! علم سکھاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو۔ آدمی اللہ سے ڈرنے کے بجائے سرکش ہوجاتا ہے۔ سیدھی راہ چھوڑ کر الٹی راہ پر چلنے لگتا ہے تو ایسے علم کا کیا فائدہ؟ علم دھوکے اور ریاکاری سے روکتا ہے اور اگر کوئی پڑھ لکھ کر بھی دھوکے باز اور ریاکار ہوجائے تو کیا کہا جائے۔ 





جس کی نیت نیک ہوگی اس کا عمل بھی ویسا ہی ہوگا۔ علم وہ جوہر ہے جو نیت کو نیک اور عمل کو بہتر بناتا ہے۔  


Read More

Social Profiles

Twitter Facebook Google Plus LinkedIn RSS Feed Email Pinterest

Popular Posts

Blog Archive

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood