Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here
Showing posts with label مناظرِپاکستان. Show all posts
Showing posts with label مناظرِپاکستان. Show all posts

Saturday, 9 October 2021

وادیٔ کونش –قدرتی حسن سے مالامال ایک دلکش تفریحی مقام













اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو تمام تر رعنائیوں اور خوبصورتیوں نوازاہے۔ اس کے فلک بوس پہاڑ، شور مچاتے دریا،جھیلیں، سمندر، سبزہ زار، اور بے پناہ قدرتی حسن پاکستان کودنیا بھر کے سیاحوں کے لئے گوشہ ٔجنت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ سوات، مرغزار،کالام، مالم جبہ، کاغان، ناران، شوگراں، ایوبیہ، ٹھنڈیانی، مری، کلرکہار، وادیٔ سون،ہنزہ ، کالاش اور شمالی علاقہ جات اپنی اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں ۔ انہیں میں سے ایک مقام وادیٔ کونش بھی ہے۔ پاکستان کی یہ خوبصورت وادی اپنے دلفریب اور دل موہ لینے والے مناظر ،صحت بخش آب و ہوا، بلند و بالا پہاڑ، دیدہ زیب اور دل کشا مرغزاراور جنگلات ،جازبِ نظر آبشار، حد درجہ خوبصورت، پُر اسرار اور طسلماتی نیلگوں جھیلوں کے باعث جنت اراضی کا درجہ رکھتی ہے ۔وادی ٔکونش مانسہرہ شہر کے شمال واقع ہے۔




دنیا کا آٹھواں عجوبہ شاہراہ ِقراقرم جو شاہراہِ ریشم کے نام سے بھی مشہور ہے اسی ضلع سے گزرتی ہے۔ یہ بین الاقوامی شاہراہ چین کے صوبہ سنکیانگ کے شہر کاشغر سے شروع ہوتی ہے اور ہنزہ، گلگت، چلاس، داسو، بشام، بٹ گرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور سے ہوتی ہوئی حسن ابدال کے مقام پر جی ٹی روڈ سے ملتی ہے۔






یہ وادی اسلام آباد کے شمال میں تقریباً ایک سو پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ مانسہرہ سے اس کی مسافت محض پچاس کلومیٹر ہے۔اسلام آباد سے بذریعہ جی ٹی روڈ ٹیکسلا اور پھر حسن ابدال سے شاہراہ قراقرم کے ذریعے ہری پور، حویلیاں، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور شنکیاری سے ہوتے ہوئے آپ اس دلکش وادی میں پہنچ سکتے ہیں۔ راستے میں بل کھاتی ندیاں، سرسبز وادیاں اور چیڑ کے درخت سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑدیتے ہیں ۔ قراقرم ہائی وے کے ذریعے اس وادی میں داخل ہوتے ہی آپ پہاڑوں کی گود میں واقع ایک سرسبز وشاداب شہر بٹل پہنچ جائیں گے۔ بٹل 1857کی جنگ ِآزادی کے حوالے سے ایک تاریخی حیثیت کا حامل ایک خوبصورت شہر ہے۔ بٹل سے بذریعہ سڑک صرف پانچ منٹ کی مسافت پر وادیٔ کونش کا ایک حسین اور دلکش مقام چھترپلین آتا ہے اور اس سے آگے ضلع بٹ گرام کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ وادی کونش ،بٹل اور چھترپلین کے مشرق میں برف سے ڈھکی ایک بلند پہاڑی چوٹی موسیٰ کا مصلیٰ اور وادیٔ کاغان، مغرب میں وادیٔ سوات، شمال میں ضلع شانگلہ کا ایک خوبصورت علاقہ بشام جبکہ جنوب میں شنکیاری کے خوبصورت مقامات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک طرف موسیٰ کا مصلیٰ اپنے جلوے دکھا کر باہمت سیاحوں کو اپنی چٹانوں پر آنے کی دعوت دیتا ہے تو دوسری جانب سوات اور کاغان کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے وادیٔ کونش کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ 






وادی کونش اپنے حدود اربعہ کے لحاظ سے کچھ یوں وضاحت ِ طلب ہے کہ اس کے مشرق میں درہ بھوگڑ منگ واقع ہے جس میں دھڑیال ۔سُم ڈاڈر ، جبوڑی ،نواز آباد ، سچہ کلاں جیسے خاص خاص مضافات ہیں ۔ جبکہ مغرب میں وادی اگرور جسے عرفِ عام میں میدانِ اگرور بھی کہا جاتا ہے کے مشہور و معروف گاؤں کھبل، شمدھڑہ ، اوگی ، دلبوڑی ، شیرگڑھ ، اور تربیلہ جھیل واقع ہیں ۔ شمال مغرب میں کوزہ بانڈہ ، کے چھوٹے مضافات اور بستیاں واقع ہیں جبکہ جنوب میں مانسہر شہر ، ہزارہ یونیورسٹی ، عطر شیشہ ، کا وسیع و عریض علاقہ اپنے اپنے قدرتی مناظر کو سموئے ہوئے ہیں ۔



وادیٔ کونش کے گردونواح کاہرعلاقہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ جہاں تک نظر دوڑائی جائے قدرتی مناظر کا ایک دلکش سلسلہ پھیلا دکھائی دیتا ہے۔ بہار کاموسم ان قدرتی مناظر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ پہاڑ، جنگلات اور خوبصورت بل کھاتے ندی نالے اس وادی کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔ یہاں پہاڑوں کے درمیان ایک دریا گزرتا ہے جسےمقامی آبادی دریائے کونش ، کٹھا اور بٹ کَس کے ناموں سے پکارتے ہیں ۔ یہ دریا اس وادی کی خوبصورتی اور رعنائی کو مزید بڑھا تا ہے ۔ اس وادی میں چھترپلین ، بٹل اور مضافاتی علاقے سیاحوں کے لئے نہایت کشش اور جاذبیت کے حامل ہیں۔یہ علاقہ شہد، مرغ اور مچھلی کی فارمنگ کیلئے بھی نہایت موزوں ہے۔



وادیٔ کونش جغرافیائی لحاظ سے بہت خوبصورت علاقہ ہے۔موسمِ گرما میں بھی یہاں رات کا آخری پہر سرد ہوتا ہے حتیٰ کہ لحاف یا کمبل میں بھی ٹھنڈ لگتی ہے۔ یہ علاقہ شہد، مرغی اور مچھلی فارمنگ کیلئے بھی انتہائی موزوں ہے۔


Read More

Saturday, 19 October 2013

بادشاہی مسجد، لاہور








ہندوستان کے چھٹے مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی سرپرستی میں ان کے سوتیلے بھائی، مضفرحسین( جو فدائی خان کوکا کے نام سے مشہور ہوئے) نے یہ عظیم الشان مسجد بنوائی۔  مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر تمام مغلوں میں سے سب سے زیادہ مذہبی بادشاہ تھے۔ اس کی تعمیر ی کام کا آغاز1671ء میں شروع ہوا اور مسجد 1673ء میں مکمل ہوئی۔یہ مسجد مغلوں کے دور کی ایک شاندار مثال ہے اور لاہور شہر کی شناخت بن چکی ہے۔ مسجد کا طرز ِ تعمیردلی کی جامع مسجد سے کافی ملتا جلتا ہے جسے اورنگزیب کے والد شاہجاں نے تعمیر کروایا تھا۔ بادشاہی مسجد ، فیصل مسجداسلام آباد کے بعد پاکستان کی دوسری اور جنوبی ایشیاء کی پانچویں بڑی مسجد ہے جس میں بیک وقت 60 ہزار نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اس مسجد کو تین سو تیرہ (313) سال تک دنیا کی سب سی بڑی مسجدہونے کا اعزاز حاصل رہا۔ اس کے چار مینار ہیں جن کی بلندی 54 میٹر ہے۔ میناروں کی اونچائی تاج محل کے میناروں سے بھی زیادہ ہے۔






بادشاہی مسجد کی ایک نایاب تصویر

 1799ء میں رنجیت سنگھ کی زیر قیادت سکھ افواج نے لاہور پر قبضہ کیا تو انہوں نے اس تاریخی مسجد کو شدید نقصان پہنچایا۔ مسجد کا صحن سکھ سپاہیوں کے اصطبل اور اس کے صحن کے گرد بنے ہوئے حجرے سپاہیوں کی قیام گاہ اور اسلحہ خانے کے طور پر استعمال ہونے لگے اور مسجد اور شاہی قلعے کے درمیان واقع حضوری باغ رنجیت سنگھ کے دربار کے طور پر سجنے لگا۔ صرف یہیں پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ رنجیت سنگھ کے بعد سکھوں میں پڑنے والی پھوٹ اور خانہ جنگی میں مسجد کے مینار تک گولہ باری کے لیے استعمال ہوئے، جس سے قلعے اور مسجد کو سخت نقصان پہنچا۔







جب انگریزوں نے سکھوں سے پنجاب حاصل کیا تو امید تھی کہ مسجد کی حالت کچھ بہتر ہوگی لیکن انہوں نے مسجد کو بد سے بدترین حالت تک پہنچا دیا۔ انگریزوں نے نہ صرف یہ کہ قلعے کا بحیثیت چھاؤنی استعمال جاری رکھا بلکہ بادشاہی مسجد کے صحن کے گرد واقعے تمام حجرے اور مینار کے بالائی حصے ڈھا دیے تاکہ مسجد کا دوبارہ کسی عسکری مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے اور اسے اصطبل اور اسلحہ خانے کی حیثیت سے استعمال کیا۔ اس فعل پر مسلمانوں میں پائے جانے والے جذبات کے باعث بالآخر انگریزوں نے طویل عرصے کے بعد اسے مسلمانوں کے حوالے کیا، لیکن اس کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھانا نہ مسلمانوں کے بس کی بات تھی اور نہ انگریز سرکار کو اس سے کچھ دلچسپی تھی۔ کچھ نیم دلانہ کوششیں ضرور ہوئیں لیکن اتنی بڑی مسجد کو اپنے عظیم نقصان کے بعد پرانی شان و شوکت کے ساتھ بحال کرنا ایک بہت بڑے منصوبے کا متقاضی تھا۔







قیام پاکستان کے بعد 1960ء میں حکومت پاکستان نے اس تاریخی مسجد کی اصل شکل میں بحالی کے لیے ایک منصوبے کا آغاز کیا اور بالآخر لاکھوں روپے کی لاگت سے مسجد کو اس کی اصلی شکل میں بحال کردیا گیا۔ میناروں کے بالائی حصے اور صحن کے گرد تمام حجرے اپنی اصلی شکل و صورت میں تعمیر کیے گئے۔ آج مسجد ہر سال لاکھوں سیاحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتی ہے اور لاہور میں سب سے زيادہ دیکھے جانے والے مقامات میں شامل ہے۔










Read More

Friday, 18 October 2013

ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک








ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک کوئٹہ سے 20کلو میٹر دور جنوب مغرب میں واقع ایک انتہائی خوبصورت پارک ہے۔ اسکا رقبہ 32,500ایکڑ ہے۔ یہ پارک سطح سمندر سے 2021 سے 3264 میٹر بلندی پر واقع ہے ۔ اسے 1980ء میں جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے قائم کیا گیا۔یہ پارک قدرتی پہاڑی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں مغرب میں چلتن اور مشرق میں ہزار گنجی پہاڑی سلسلہ ہے۔چلتن کا شمار بلوچستان کے سب سے اونچی چوٹیوں میں ہوتا ہے۔ اس پارک میں ایک بہترین عجائب گھر دیکھنے کے لائق ہے۔ یہاں آرام گاہ (ریسٹ ہاؤس) بھی ہے اور تفریح کیلئے خوبصورت مقامات بھی، جس کے باعث باہر سے سیر کیلئے آنے والے یہاں رہتے ہوئے اس خوبصورتی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔







ہزار گنجی نیشنل پارک میں پائے جانے والے جنگلی حیات







ہزار گنجی کا مطلب ہزار خزانوں والی جگہ ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں پہاڑوں کی تہوں میں ہزاروں خزانے دفن ہیں، اس تاثر کی وجہ اسکا مخلتلف تاریخی افواج اور بلوچ قبائل کی گزرگاہ ہونا ہے۔ابتدا میں اس پارک کے قیام کا مقصد چلتن جنگلی بکری اورمارخور کی نسل کو بچانا تھا جو 1950ء کی تعداد 1200 سے کم ہو کر 1970ء میں صرف 200 رہ گئے تھے۔ اب ان کی تعداد دوبارہ 800 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اب یہاں سلیمان مارخور بھی محفوظ ہیں اور دھاری دار چیتا اور لومڑیاں بھی ہیں۔ پارک کے قیام سے یہ جانور غیر قانونی شکاری کاروائیوں سے بچے ہوئے ہیں۔انکے علاوہ کئی اور نایاب جانور ور پرندے بھی یہاں موجود ہیں۔



(ویکیپیڈیا)





Read More

Monday, 7 October 2013

پاکستان کا سب سے بڑا سمندری جزیرہ - جزیرہ استولا







جزیرہ استولا جسے جزیرہ ہفت تلار یا 'سات پہاڑوں کا جزیرہ' بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کا ایک غیر آباد جزیرہ ہے۔ پسنی کے ساحل سے قریب یہ جزیرہ تقریباً 40کلو میٹر بحیرہ عرب کے اندر واقع  پاکستان کا سب سے بڑا سمندری جزیرہ ہے۔ تقریباً 6.7کلومیٹر طویل اور 2.3کلو میٹر چوڑے اس جزیرہ کا بلند ترین مقام سطح سمندر سے 75میٹر (246فٹ) ہے۔ یہ جزیرہ پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کا حصہ ہے۔ پسنی کے ساحل سے اسکی مسافت تقریباً 5 گھنٹے ہوتی ہے۔ جزیرہ تک پہنچنے کے لئے پسنی سے موٹر بوٹ حاصل کی جاسکتی ہیں۔











تاریخ میں اس جزیرہ کا ذکر ایڈمرل Nearchos کے حوالے سے ملتا ہے جسے 325قبل مسیح میں سکندراعظم نے بحیرہ عرب اور خلیج فارس کے ساحلی علاقوں کی کھوج میں روانہ کیا تھا۔ 1982 میں حکومت پاکستان نے یہاں گیس سے چلنے والا ایک روشنی کا مینار (لائٹ ہاؤس) بحری جہازوں کی رہنمائی کےلئے تعمیر کیا تھا جسے بعد میں 1987 میں شمسی توانائی کے نظام میں تبدیل کردیا۔ ستمبر سے مئی کے مہینوں کے درمیان ماہی گیر یہاں کیکڑوں اور جھینگوں کے شکار کے لئے آتے ہیں۔ 









یہاں ایک چھوٹی مسجد بھی ہے جسے حضرت خضر منصوب سمجھا جاتاہے۔ ہندؤں کے ایک پرانے مندر کے کھنڈرات کے آثار بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔


















Read More

Saturday, 5 October 2013

خیبر ریلوے لائن








برطانوی حکومت نے خیبر ریلوے لائن کی تعمیر کا فیصلہ 1890ء میں کیا تھا۔ خیبر ایجنسی میں غیر یقینی صورت حال اور برطانیہ اور افغانستان کی سرحدی صورت حال کے باعث تعمیراتی کام 1920ء میں شروع ہو سکا۔ اسکا تخمینہ اس وقت 210ملین روپے لگایا گیا۔ اس ریلوے لائن کے بچھانے کا بنیادی مقصد جنگ کے زمانے میں فوجی دستے اور اسلحہ افغان سرحد تک پہنچانا تھا جس کی تکمیل 1925ء میں ہوئی۔ 3 اپریل 1926ء میں اس ریلوے ٹریک کو لنڈی خانہ کے مقام تک توسیع دے دی گئی۔ 15 دسمبر 1932ء کو افغان حکومت کے احتجاج پر لنڈی کوتل سے لنڈی خانہ سیکشن کو بند کر دیا گیا۔ درہ خیبر کے راستے پشاور کو لنڈی کوتل سے ریلوے کے ذریعے جوڑنے پر انگریز حکومت نے 1926ء میں فی کلومیٹر پر چار لاکھ پچاسی ہزار روپے خرچ کیے۔ اس قدر بھاری اخراجات کے باوجود ٹریک کو بھاری ٹریفک کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکا۔



دوسری طرف یہ ٹریک انجینئرنگ کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔ خیبر ریلوے ٹریک کی ایک نایاب اور انوکھی خاصیت یہ ہے دنیا میں کوئی بھی ائیر پورٹ ایسا نہیں جس کے رن وے یا کسی بھی حصے کو ریلوے لائن کراس کرتی ہو۔پشاور ائیر پورٹ کی تعمیر کے وقت مزکورہ ٹریک پشاور ائیر پورٹ کے لیے بنے ہوئے 9000 فٹ طویل رن وے کے درمیان سے گزارا گیا ہے)فل وقت یہ ٹریک آپریشنل نہیں ہے(۔ یہاں گاڑی کو ائیر پورٹ کنٹرول ٹاور سے کلیئرنس لینی پڑتی ہے۔ بعض اوقات کلیئرنس فون پر دے دی جاتی ہے اور بعض اوقات ٹرین کا کنڈیکٹر خود جاکر ٹاور سے کیئرنس حاصل کرتا ہے۔ جون2007ء کی طوفانی بارش کے باعث ریلوے لائن کے قابل استعمال حصے کو شدید نقصان پہنچا۔ یوں خیبر سفاری ٹرین کی آمد ورفت بھی مکمل طور پر بند ہوگئی۔



آخری بار 2006ء میں پاکستان ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن نے نجی ٹریول ایجنسیوں کی شراکت سے یکم اکتوبر، 5 نومبر اور 3 دسمبر کو خیبر سٹیم سفاری کے ذریعے سیاحوں کو ریلوے کے ذریعے اس تاریخی ٹریک کی سیر کرانے کا پروگرام بنایا۔






Read More

ہنگول نیشیل پارک، بلوچستان








ہنگول نیشنل پارک بلوچستان اور پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے جو چھ لاکھ انیس ہزار ترتالیس ہیکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ کراچی سے 190 کلومیٹر دور یہ پارک بلوچستان کے تین اضلاع گوادر،لسبیلہ اورآواران کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقہ میں بہنے والے دریائے ہنگول کی وجہ سے اسکا نام ہنگول نیشنل پارک رکھا گیا ہے۔ اس علاقہ کو 1988 میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ہنگول نیشنل پارک اس وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں‌چار مختلف قسم کے ماحولیاتی نظام یا Eco Systemsکا پایا جانا ہے۔ہندوؤں کا ہنگلاج مندر بھی اس پارک میں‌واقع ہے ۔

ہنگول نیشنل پارک طبعی طور پر پہاڑ، ریت کے ٹیلوں اور دریا کے ساتھ سیلابی میدان وغیرہ میں‌بٹا ہوا ہے ۔ہنگول ندی نیشنل پاک سے ہوکر گزرتی ہے اور سمندر میں گرنے سے پہلے ایک مدو جزر والا دھانہ بناتی ہے جو کئی ہجرت کرنے والے آبی پرندوں‌اور دلدلی مگر مچھوں ، لمبی چھپکلی، موٹی زبان والی چھپکلی، وائپر اور کوبرا ناگ کا مسکن ہے۔

 












Read More

Sunday, 29 September 2013

چکور - پاکستان کا قومی پرندہ





چکور - پاکستان کا قومی پرندہ



Read More

Saturday, 28 September 2013

لوئی بنڑ، وادی سوات





لوئی بنڑ، وادی سوات۔ فوٹوگرافی: جمال الدین



Read More

Social Profiles

Twitter Facebook Google Plus LinkedIn RSS Feed Email Pinterest

Popular Posts

Blog Archive

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood