Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here
Showing posts with label تاریخ. Show all posts
Showing posts with label تاریخ. Show all posts

Thursday, 14 November 2013

شیخ الاطباء-ابن سینا







شیخ الرئیس بو علی سینا ابن سینا (AVICENNA) کا پورا نام "ابو علی الحسین ابن عبداللہ ابن علی سینا"تھا۔ یہ بخارا کے قریب افشنہ نامی قصبے میں 980ء میں پیدا ہوا۔ تعلیم و تربیت کے لیے اس کے والد نے "شیخ اسمٰعیل زاہد"کے سُپرد کر دیا۔ دس سال کی عمر میں ہی اس نے قرآن حفظ کر لیا اور فنِ ادب پر دسترس حاصل کر لی۔ بعد ازاں اس نے ایک سبزی فروش سے علم ریاضی اور ایک نصرانی عالم "عیسیٰ بن یحییٰ"سے علم طب سیکھا۔ ان علوم کے علاوہ بھی اسے منطق، موسیقی، شاعری، طبیعات، الہیاٰت، ہیئت، کیمیا اور علم الخواص اشیاء پر عبور حاصل تھا۔ شیخ کی علمی قابلیت اور ذہانت کا کچھ ہی دنوں میں دور دور تک شہرہ ہونے لگا۔ انہیں دنوں امیر بخارا "نوح بن منصور" ایک سخت مرض میں مبتلا ہوا۔ اس کے مقرب اطباء علاج سے قاصر رہے۔ امیر کے علاج کی غرض سے ابن سینا کو بلایا گیا۔ اس نے چند ہی دنوں میں امیر بخارا کو اس مرض سے نجات دلا دی۔ امیر بخارا نے خوش ہو کر اسے اپنا طبیب خاص مقرر کر لیا۔



شیخ ابنِ سینا کی پوری زندگی تعلیم و تعّلم اور علاج معا لجہ میں گزری۔ اس کی تصانیف کے مطالعہ سے اس کی ذہانت اور غیر معمولی شخصیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اہل یورپ نے بو علی سینا کے کارناموں کی جو قدر کی اس سے پوری دُنیا واقف ہے۔ اس کی ہمہ گیر شخصیت نے مشرق و مغرب پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں جس کی وجہ سے مورخین نے اسے زبر دست خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور اسے "شیخ الاطباء"اور "شیخ الرئیس" جیسے معزز القاب سے نوازا۔



مشہور جملہ ہے کہ "علم طب ناقص تھا ابن سینا نے اسے مکمل کیا۔"اس نے علمِ طب میں نئے نئے وسائل ایجاد کیے اور جو نقائص اور خامیاں نظر آئیں انہیں دور کر کے اس فن کو ایک مکمل علم کی صورت میں پیش کیا گویا علمِ طب میں اسے مجتہد کا درجہ حاصل ہے۔ ابن سینا پہلا شخص ہے جس نے قناطیر (Catheter)، علم بتر (Amputation) اور دماغی امراض کے لیے برف کی ٹوپی (Ice cap) کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ اس نے آنکھوں کے ناسور کے علاج کا طریقہ



شیخ الرئیس ابن سینا کثیر التصانیف اور ماہر علم جراح تھے۔ "کتاب الشفاء" اور "القانون فی الطب" آج بھی فظعیت کا درجہ رکھتی ہیں۔ "القانون فی الطب"ایک ایسی کتاب ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس کا اصل نسخہ پہلی مرتبہ روم سے 1593ء میں شائع ہوا۔ اس طرح عربی زبان کی یہ پہلی کتاب ہے جو شائع ہوئی۔ اس کے بعد روسی اور فرانسیسی زبان میں بھی اس کے تراجم ہوئے اور صدیوں تک یورپ کی مختلف طبی درس گاہوں میں شامل نصاب رہی۔ مذکورہ بالا کتابوں کے علاوہ بھی "الارشادات"، "کتاب النجات"، "الادویۃ القلبیہ" اور "الار جوزہ فی الطب" "کتاب السیاست"، "تہافتہ التہافتہ"، "منطق المشرکین و القصیدہ المزدوج فی المنطق" کافی مشہور ہیں۔ سرجری سے متعلق اس کا رسالہ"رسالہ فی الفصد"آج بھی ملک کی متعدد لائبریریوں میں محفوظ ہے۔ ابنِ سینا جہاں دیگر علوم اور علمِ طب میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ وہیں فنِ جراحی میں بھی وہ یکتا تھا۔ اتنی خوبیوں کا ما لک 1037ء میں 57 برس کی عمر میں ایران کے شہر ہمدان میں اس دارفانی سے کوچ کرگیا اور اپنے پیچھے بے شمار ایجادات اور تصانیف کا خزانہ چھوڑ گیا تاکہ آنے والی نسلیں اس سے استفادہ کریں۔





(از: طالب انصاری - اجالے ماضی کے)


Read More

Wednesday, 13 November 2013

عمر ؓ ثانی - عمر بن عبدالعزیز








عمر بن عبدالعزیز خلفائے بنو امیہ میں ایک قابل عزت نام ہے۔ ان کے دور خلافت کو خلیفہ ثانی کے دورخلافت کے مماثل قرار دیا جاتا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز کی والدہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پوتی تھی۔ اُن پر نانہال کا بڑا اثر پڑا تھا۔ عادات و خصائل میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کافی ملتے جلتے ہیں۔ عزت و احترام کا جو اونچا مقام انہیں نصیب ہوا، خلفائے بنی اُمیہ میں اور کسی کو نصیب نہ ہوسکا۔ آج بھی لوگ اُن کا نام بڑی عزت سے لیتے ہیں۔ 





عمر بن عبدالعزیز خلافت سے قبل عیش وآرام کی زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے زمانے کے سب سے زیادہ خوش لباس شحص سمجھے جاتے تھے۔ لیکن خلیفہ مقرر ہوتے ہی اُن کا انداز بالکل بدل گیا۔ سیدھی سادی زندگی اختیار کرلی۔ ملکی انتظام کے جن قاعدوں اور اصولوں پر خلفائے راشدین کے زمانے میں عمل کیا جاتا تھا خلفائے بنو امیہ نے اُن پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے اُنہیں دوبارہ رواج دیا اور لوگوں کو ایسا معلوم ہوا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کا مبارک زمانہ پلٹ آیا ہے۔





عمر بن عبدالعزیز عدل و انصاف کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ سچائی کے راستے سے ذرا اِدھر اُدھر نہیں ہوتے تھے اور کسی حالت میں بھی اعتدال کا دامن ہاتھ سے چُھوٹنے نہیں پاتاتھا۔ اِس کےساتھ ساتھ وہ جس قسم کی زندگی بسر کرتے تھے اُس میں بدوؤں کی سی سادگی نظر آتی تھی۔ 





اُن کی خلافت کا انداز خلفائے بنو امیہ سے یکسر جدا تھا۔ اپنی ذمہ داریوں کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ ایک رات عشاء کی نماز کے بعد دعا مانگنے کے لئے ہاتھ اُٹھائے تو جی بھر آیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ بیوی نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے۔ "مجھے مسلمانوں اور غیر مسلم ذمیوں کا حاکم بنا دیا گیا ہے۔ میری حکومت میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں پیٹ بھرنے کو روٹی میسر نہیں۔ اور ایسے بھی ہیں جنہیں تن ڈھانکنے کو کپڑا نہیں۔ کوئی بیمار اپنے بستر پر پڑا کراہ رہا ہے لیکن علاج کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں۔ کسی مظلوم پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے اور کوئی نہیں جو اُس کی مدد کرے۔ کوئی بے وطن قید خانے میں بیٹھا اپنے بچوں کو یاد کررہا ہے اور کوئی سفید ریش بوڑھا اِس خیال سے بیکل ہے کہ کوئی اُسے سہارا دینے والا نہیں۔ پھر ایسے لوگ بھی ہیں جن کا کنبہ بڑا ہے اور آمدنی کم۔ اِس لئے بڑی مشکل سے گزر ہوتی ہے۔ غرض اِس قسم کے مصیبت زدہ کثرت سے ہیں جو مختلف ملکوں اور صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب اللہ مجھ سے سوال کرےگا کہ تم نے اِن لوگوں کے لئے کیا کیا، تو میں کیا جواب دوں گا؟"





عمر بن العزیز نے خلیفہ بننے کے بعد انتہائی سادہ زندگی بسر کی اور اپنے گزارے کے لئے خلیفہ ولید کے زمانے میں ملی ہوئی جاگیر سے بھی دست بردار ہوگئے۔ ساری جمع جتھا حتیٰ کہ بیوی کا سارا زیور بھی بیت المال میں جمع کروا دیا اور اپنے گزارے کے لئے روزانہ دو درہم بیت المال سے لیتے تھے۔ انہیں میں سارے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ 


Read More

Friday, 8 November 2013

ایک عرب بدو کا خلیفہ مامون الرشید سے مکالمہ











عباسی خلیفہ مامون الرشید خرسان سے حج کے لیے مکہ مکرمہ جارہے تھے۔ طوس کے مقام پر اسے ایک شخص ملا۔ کہنے لگا: " اے خلیفہ! میں ایک بدو ہوں۔" مامون یہ سن کر کہنے لگے: "کوئی تعجب کی بات نہیں۔"





یہ سن کر وہ شخص کہنے لگا: "میں حج کے لیے جانا چاہتاہوں۔" مامون کہنے لگے: "اللہ کی زمین وسیع ہے، بڑی خوشی سے جاؤ۔" اس پر بدو کہنے لگا: " میرے پاس زادِ راہ نہیں ہے۔" مامون الرشید نے کہا: "تب تو تجھ پر حج فرض نہیں ہوتا۔" بدو بولا: "امیر المومنین! میں آپ سے کچھ انعام لینے آیا ہوں، فتوی تو نہیں پوچھنے آیا۔"





مامون الرشید ہنس پڑے اور اسے انعام دینے کا حکم دیا۔ 


Read More

سلطان محمود غزنوی








محمود غزنوی 998ء میں غزنی کے سلطان کی حیثیت سے تخت نشین ہوئے۔ اُس زمانے میں غزنی کا علاقہ سامانیوں کے زیر تسلط تھا۔ سامانی، شمال مشرقی ایران سے آئے تھے اور انہوں نے چین سے لیکر خلیج فارس تک ایک وسیع سلطنت قائم کر لی تھی۔ محمود نے انہیں سامانیوں کی ماتحتی سے آزادی حاصل کی پھر آس پاس کی ریاستوں کو نیچا دکھا کے غزنی کی حکومت کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ یہ عباسی خلفاء کا دور تھا۔ اگرچہ تمام سلاطین اور حکمران اپنے اپنے علاقوں میں خود مختار تھے لیکن کمزور خلافت عباسیہ کے باوجود تقریباً سب کے سب خلیفہ کی اطاعت کا دم بھرتے تھے اور خطبہ میں اُس کا نام لیا جاتا تھا۔ عباسی خلیفہ کو محمود کی فتوحات کا حال معلوم ہوا تو خراسان کی حکومت کا پروانہ اور خلعت بھیجا۔ یمین الدولہ امین الملۃ کا خطاب بھی دیا۔ چنانچہ آگے چل کے محمود کے خاندان نے یمینی خاندان کے نام سے شہرت پائی۔ 





یہ وہ وقت تھا جب ہندو راجاؤں کا ایک خاندان جو ہندو شاہی کہلاتا تھا، پنجاب پر حکومت کرتا تھا۔ محمود کے والد امیر سبکتگین کی حکومت کے زمانے میں اِس خاندان کے ایک راجہ جے پال نے بہت سے ہندو راجاؤں کو ساتھ لے کر کابل پر چڑھائی کی۔ لیکن شکست کھائی اور خراج ادا کرنے کا وعدہ کرکے لوٹا۔ گھر پہنچ کر اُس کی نیت ڈانواں ڈول ہوگئی۔ اب کے پھر سبکتگین سے معرکہ ہوا۔ جس میں جے پال نے پھر شکست کھائی۔ محمود ان معرکوں میں والد کے ساتھ ساتھ رہا تھا۔ اور ہندو شاہیوں کی طاقت کو اچھی طرح آزما چکا تھا۔ والد کی وفات کے بعد جب اُسے اندرونی جھگڑوں سے اطمنان نصیب ہوا اور غزنی میں اس کے قدم اچھی طرح جم گئے تو اُس نے ہندوستان پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کیا اور سترہ حملے کرکے اس سرزمین میں ہل چل ڈال دی۔ جے پال کا جانشین انند پال بڑے لاؤلشکر کے ساتھ محمود کا راستہ روکنے آیا۔ کئی راجپوت راجاؤں نے اُس کی مدد کی لیکن محمود نے انہیں ایسی شکست دی کہ وہ اسے راستہ دینے پر مجبور ہوگئے۔ چنانچہ وہ سرکش راجپوتوں کو نیچا دکھاتا جنگلوں اور پہاڑوں کے جنگجو قبیلوں کو دباتا وادئ گنگا جا پہنچا۔ 





محمود غزنوی نے وادئ گنگا پر پورے زور سے پہلے مرتبہ جو حملہ کیا، اُس میں قنوج، بلند شہر، متھرا، اٹاوہ، میرٹھ کے علاوہ کئی اور چھوٹے بڑے شہر فتح ہوئے۔ ان شہروں اور ان کے مندروں سے وہ بے شمار دولت سمیٹ کے غزنی لے گیا۔ اِس موقع پر اُسے جو کامیابی حاصل ہوئی تھی اس کی وجہ سے سارے عالم اسلام میں اُس کی بہادری اور اولوالعزمی کی دھاک بیٹھ گئی اور جابجا اس کا نام بڑی عزت سے لیا جانے لگا۔





ہندو شاہیوں اور دوسرے راجاؤں نے مل کر ایک جتھا بنایا اور محمود غزنوی کا راستہ روکنے کا منصوبہ بنایا۔ جب محمود کو خبر ملی تو وہ لشکر لے کر مقابلے کے لیے روانہ ہوا۔ ہندوشاہیوں کے دلوں پر محمود کی ایس ہیبت چھائی ہوئی تھی کہ جب اس کی فوج سیلاب کی طرح ہندوکش کے پہاڑوں سے اُترا تو یہ جتھہ خودبخود ٹوٹ گیا اور کسی کو اُس کا راستہ روکنے کی ہمت نہ ہوئی۔





محمود غزنوی کا سب سے بڑا کانامہ سومناتھ کی فتح ہے۔ سومناتھ، گجرات کاٹھیاوار کے علاقے میں سمندر کے کنارے واقع ہے۔ یہاں ایک مشہور مندر تھا جس کی یاترا کو دور دور سے لوگ چلے آتے تھے۔ غزنی سے گجرات کافی دور تھا۔ راستے میں ہر طرف لق و دق میدان اور سنسان ریگستان پھیلے ہوئے تھے جن میں دور تک نہ پانی کا پتہ چلتا تھا اور نہ کہیں ہریالی تھی۔ محمود سفر کی صعوبتوں کی پروا کئے بغیر فوج لیکر یلغار کرتا ہوا چلا۔ راجپوت راجہ ہر طرف سے سمٹ کے یہاں جمع ہوگئے تھے۔ فوجوں کا تانتا بندھا ہوا تھا لیکن محمود نے اس طرح جھپٹ جھپٹ کے حملے کئے کہ راجپوتوں کی فوج تتر بتر ہوگئی۔ اس فتح میں ان گنت دولت ملی۔ سومناتھ کا بت بھی ہاتھ آیا۔ چنانچہ اس کامیابی پر اسلامی ملکوں میں جابجا بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ 





(از: تاریخ ہند و پاکستان - ریاض الاسلام)


Read More

Thursday, 5 September 2013

فرض شناسی



ایک بڑھیا بے چاری بڑی مشکل سے ہانپتی کانپتی ٹرین کے ڈبے میں سوار ہوگئی۔ چھوٹی سے گٹھڑی اس کے ساتھ تھی۔ اسے لے کے بمشکل وہ ایک طرف کو تھوڑی سے جگہ بناکر بیٹھ گئی۔ یہ دو آدمیوں کا چھوٹا سا فرسٹ کلاس کا ڈبہ تھا لیکن اسکے اندر بیس آدمی ٹھسے ہوئے تھے، کوئی کھڑا تھا کوئی بیٹھا تھا، جو جگہ لوگوں سے بچ گئی تھی اس میں سامان رکھا ہوا تھا۔ حالات کچھ ایسے تھے کہ کوئی کسی سے پوچھ نہ سکتا تھا کہ بھیاتم کس درجہ کے مسافر ہو؟ یہ فرسٹ کلاس کا ڈبہ ہے اور پہلے سے دو آدمیوں کے لئے ریزرو ہے۔ 










یہ ان دنوں کی بات ہے جب ملک تقسیم ہوا تھا۔ پاکستان وجود میں آیا ہی تھا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر۔ اس لئے یہی مسلمانوں کا وطن تھا۔ ہندوستان سے مسلمان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جان بچا کر کسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچ رہے تھے۔ 





پاکستان، جو اُن کی تمناؤں کا ثمر نورس تھا۔


پاکستان، جس کے لئے انھوں نے تن من دھن کی قربانی دی تھی۔ 


پاکستان، جسے اسلام کی نشاۃِثانیہ کا گہوارہ بننا تھا۔ پاکستان ان کے لئے سب کچھ تھا۔ دین بھی دنیا بھی۔ اس کا چپہ چپہ ان کے لئے مقدس تھا۔ اس گلِ تازہ کی خاطر انہوں نے خیابان و گلزار سب کچھ چھوڑ دئے تھے۔ ایک لمحے کے لئے بھی یہ نہ سوچا تھا کہ ان کا کیا ہوگا۔ انھیں تو بس یہی ایک خوشی تھی کہ دو صدیاں گذرنے کے بعد وہ دن آئے تھے کہ ارضِ ہمالہ کے ایک گوشے میں لا الہٰ کا پرچم لہرارہا تھا۔ وہ پرچم جو مسلمانوں کی عزت و وقار کا مظہر تھا۔ 





یہ بے چاری بڑھیا بھی اپنا سب کچھ لٹا کر نہ جانے کِس طرح بچتی بچاتی پاکستان پہنچ گئی تھی۔ اسے اتنا ہوش ہی کہاں تھا کہ یہ تمیز کر سکتی کہ وہ کس درجہ میں آکر بیٹھ گئی ہے۔ اُسے تو بس ایک بات معلوم تھی کہ یہ ہمارا ملک ہے، یہ ہماری گاڑی ہے۔ جو دوسرے مُسافر تھے ان کا بھی یہی حال تھا۔ ہر ایک کا چہرہ غم و اَلم کی تصویر تھا۔ کیا کیا کچھ کھویا تھا، کہ اس ملک کو پالیں یہ کون کہتا؟ کیسے کہتا؟ کِس سے کہتا؟ مسلسل صدمات برداشت کرتے کرتے دِلوں میں ناسُور پڑگئے تھے اور زبانیں گُنگ ہو گئی تھی۔ 





گاڑی کو پاکستان کی سرحد میں داخل ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک اسٹیشن پر ٹکٹ چیکر ڈبے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاپی تھی، مشتاق احمد صاحب اپنی آپ بیتی کاروانِ حیات میں لکھتے ہیں کہ ٹکٹ چیکر کو دیکھ کر معاً مجھے خیال آیا کہ مدتوں میں ریلوے کا افسر رہا ہوں۔ دیکھوں یہ چیکر کیا کرتا ہے۔ 





چیکر نے بڑھیا کو دیکھا تو اس سے ٹکٹ کا مطالبہ کیا۔ وہ اللہ کی بندی کسی قابل ہوتی تو کچھ کہتی۔ بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ پڑے اس کے پاس ٹکٹ نہ تھا۔ کسی درجہ کا بھی ٹکٹ نہ تھا۔ ملک کے حالات، بڑھیا کی کیفیت، غم و اندوہ کی فضا ایسی تھی کہ عام معمولات کی پابندی بہت مشکل تھی۔ مشتاق صاحب لکھتے ہیں۔ میں نے بڑی حیرت سے دیکھا کہ چیکر نے اپنی نوٹ بک نکالی اور بلا ٹکٹ سفر پر بڑھیا کا چالان کردیا۔ اس نے رسید کاٹ دی تو بڑھیا بے اختیار اُس سے بولی "بیٹا! میرے پاس کچھ نہیں تو یہ رسید نہ کاٹ"۔





جواب ملا،اماں! اگر ہم بلا ٹکٹ سفر کریں تو ہمارے نئے ملک کا کام کیسے چلے گا؟ تمہارا چالان ہوگا، پیسے داخل ہوں گے۔ تم بہت دکھیاری ہو، تمہاے لئے میرا دل بھی دکھی ہے۔ یہ جرمانہ تم نہیں دو گی میں اپنی طرف سے دیدونگا۔





احساسِ فرض، ملک کی محبت اور بے سہاروں کی خدمت کا یہ ایسا انمول واقعہ تھا کہ سب مسافروں کے دلوں پر نقش ہو گیا۔ آج کوئی نہیں جانتا کہ یہ فرض شناس اور ملک دوست ٹکٹ چیکر کون تھا؟ لیکن دل بے اختیار کہتا ہے کہ وہ بہت بڑا آدمی تھا۔



شاہ بلیغ الدین کی کتاب "روشنی" سے اقتباس۔ 


Read More

Social Profiles

Twitter Facebook Google Plus LinkedIn RSS Feed Email Pinterest

Popular Posts

Blog Archive

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood