Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here
Showing posts with label اقتباسات. Show all posts
Showing posts with label اقتباسات. Show all posts

Saturday, 9 October 2021

کوشش و جدوجہد








کہتے ہیں کہ ایک چھوٹی مچھلی نے بڑی مچھلی سے پوچھا کہ"آپا یہ سمندر کہاں ہوتا ہے؟“ اُس نے کہا جہاں تم کھڑی ہوئی ہو یہ سمندر ہے- اُس نے کہا، آپ نے بھی وہی جاہلوں والی بات کی۔ یہ تو پانی ہے، میں تو سمندر کی تلاش میں ہوں اور میں سمجھتی تھی کہ آپ بڑی عمر کی ہیں، آپ نے بڑا وقت گزارا ہے، آپ مجھے سمندر کا بتائیں گی- وہ اُس کو آوازیں دیتی رہی کہ چھوٹی مچھلی ٹھہرو،ٹھہرو میری بات سُن کے جاؤ اور سمجھو کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں لیکن اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور چلی گئی- بڑی مچھلی نے کہا کہ کوشش کرنے کی، جدّوجہد کرنے کی، بھاگنے دوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، دیکھنے کی اور Straight آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے- مسئلے کے اندر اُترنے کی ضرورت ہے- جب تک تم مسئلے کے اندر اُتر کر نہیں دیکھو گے، تم اسی طرح بے چین و بےقرار رہو گےاور تمہیں سمندر نہیں ملے گا۔





(اشفاق احمد - زاویہ 2)


Read More

عملِ ناقص









کبھی نماز میں دل لگتا ہے، کبھی نہیں لگتا، کبھی ذہن میں سکون ہوتا ہے کبھی انتشار، کبھی وساوس کا ہجوم ہوتا ہے، کبھی پریشان خیالیاں حملہ آور ہوتی ہیں۔ نماز کے وقت یکسوئی شازونادر ہی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے دل میں یہ کھٹک رہتی ہے کہ ایسی ناقص نماز کا کیا فائدہ جو صرف اٹھک بیٹھک پر مشتمل ہو۔ رفتہ رفتہ ایک بات سمجھ میں آئی کہ عمارت کی تعمیرکے لیے ابتداء میں تو صرف بنیاد مضبوط کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسے کے خوشنما ہونے کے پیچھے نہیں پڑتے۔ اس میں روڑے پتھر وغیرہ بھر دیتے ہیں اور بعد میں اس پر عالیشان محل اور بنگلے تعمیر ہوتے ہیں۔ اسی طرح ناقص عمل کی مثال بھی کامل عمل کی بنیاد کے مترادف ہے۔ بُنیاد کی خوبصورتی اور بدصورتی پر نظر نہ کی جائے۔ جو کچھ جس طرح بھی ہو، کرتا رہ، جیسے نماز گویا ناقص ہی ہو مگر ہو حدود میں، وہ ہو جاتی ہے۔ اسی پر عمل کرنے سے نمازِ کامل کا دروازہ بھی اپنے پر کھولنا شروع ہو جاتا ہے۔





(قدرت اللہ شہاب کی کتاب "شہاب نامہ" سے اقتباس)


Read More

Thursday, 14 November 2013

جنگل میں محفل مباحثہ








ایک صوفی تھکا ہارا جنگل میں جا رہا تھا اور چلتے چلتے ایک ایسی جگہ پر پہنچ گیا جہاں جنگل کے جانوروں کا اجتماع تھا اور محفل مباحثہ گرم تھی ۔ اس صوفی کو چونکہ جانوروں کی بولیوں کا علم تھا اس لیے وہ رک کر سننے لگا ۔ مباحثے کی صدارت ایک بوڑھے شیر کی سپرد تھی۔




سب سے پہلے لومڑی اسٹیج پر آئی اور کہا برردارنِ دشت سنئے اور یاد رکھئے کہ "چاند سورج سے بڑا ہے اور اس

زیادہ روشن ہے"۔ ہاتھی نے اپنی باری پر کہا " گرمیاں سردیوں کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہیں۔"




جب باگھ اسٹیج پر آیا تو سارے جانور اس کی خوبصورتی سے مسحور ہو گئے ۔ اس نے اپنے پیلے بدن پر سیاہ دھاریوں کو لہرا کر کہا "سنو بھائیو ! دریا ہمیشہ سے اوپر کو چڑھتے ہیں۔" 




صوفی نے شیر ببر سے کہا صاحبِ صدر! یہ سب غضب کے مقرر ہیں اور ان کی وضاحت نے اس محفل کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن میں حیران ہوں کہ سارے مقررین نے سارے ہی بیان غلط دیئے ہیں اور ہر بات الٹ کہی ہے۔ سامعین کو یا تو پتہ نہیں یا انہوں نے توجہ نہیں دی یا پھر وہ لا تعلقی سے سنتے رہے ہیں ۔ ایسی احمقانہ اور غلط باتیں کرنے کی کس نے اجازت دی۔





شیر نے کہا " صوفی صاحب ! یہ واقعی ایک عیب دار بات ہے اور شرمناک بات ہے لیکن ہمارے سامعین انٹرٹینمنٹ مانگتے ہیں انلائنمنٹ نہیں ۔ پتہ نہیں ہم کو یہ عادت کیسے پڑی لیکن پڑ گئی ہے صوفی صاحب "۔ 





(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)


Read More

Monday, 11 November 2013

رکوع میں جانے کا فن







میں نے ندی کے کنارے لڑکیوں کو پانی بھرتے دیکھا اور میں دیر تک کھڑا ان کو دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ پانی بھرنے کے لئے جھکنا پڑتا ہے اور رکوع میں جائے بغیر پانی نہیں بھرا جا سکتا. ہر شخص کو رکوع میں جانے کا فن اچھی طرح سے آنا چاہیے تاکہ وہ زندگی کی ندی سے پانی بھر سکے اور خوب سیر ہو سکے…. لیکن افسوس کی بات ہے کہ انسان جھکنے کا اور خم کھانے کا آرٹ آہستہ آہستہ بھول رہا ہے اور اس کی زبردست طاقتور انا اس کو یہ کام نہیں کرنے دیتی. یہی وجہ ہے کہ ساری دعائیں اور ساری عبادت اکارت جا رہی ہے اور انسان اکھڑا اکھڑا سا ہو گیا ہے -




اصل میں زندگی ایک کشمکش اور جدوجہد بن کر رہ گئی ہے.اور اس میں وہ مٹھاس، وہ ٹھنڈک اور شیرینی باقی نہیں رہی جو حسن اور توازن اور ہارمنی کی جان تھی. اس وقت زندگی سے چھلکنے اور رکوع کرنے کا پرسرار راز رخصت ہو چکا ہے اور اس کی جگہ محض جدوجہد باقی رہ گئی ہے. ایک کشمکش اور مسلسل تگ و تاز-



لیکن ایک بات یاد رہے کہ یہ جھکنے اور رکوع میں جانے کا آرٹ بلا ارادہ ہو ورنہ یہ بھی تصنع اور ریا کاری بن جائے گا اور یہ جھکنا بھی انا کی ایک شان کہلانے لگے گا.



(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)


Read More

Saturday, 2 November 2013

ریاکار درویش







بیان کیا جاتا ہے کہ ایک ریاکار شخص جو صرف دنیا کو دکھانےکے لئیے نیکیاں کرتا تھا، ایک دن بادشاہ کا مہمان ہوا۔ اس نے بادشاہ پر اپنی بزُرگی کا رعب ڈالنے کے لیے بلکل تھوڑا کھانا کھایا لیکن نماز میں کافی وقت لگایا۔ جب یہ شخص بادشاہ سے رخصت ہو کر اپنے گھر آیا تو آتے ہی کھانا طلب کیا۔ اسکے بیٹے نے کہا، کیا آپ بادشاہ کے ساتھ کھانا کھا کے نہیں آئے؟ اس نے کہا، وہاں میں نے اس خیال سے کم کھایا تھا کہ بادشاہ کو میری پرہیزگاری کا اعتبار ہو آ جائے اور اسکے دل میں میری عزت زیادہ ہو۔

بیٹے نے کہا، پھر تو آپ نماز بھی دوبارہ پڑھیں کیونکہ وہ بھی آپ نے بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے ہی پڑھی تھی۔​


؎ عیب اپنے چھپا لیے تو نے اور ہُنر آشکار کرتا ہے​


تیرا کیا حشر ہوگا، اے مغرور! تُو برا بیوپار کرتا ہے۔​


وضاحت:​



اس حکایت میں شیخ سعدی  نے ریاکاری کی مذمت کی ہے ۔ ریاکار اگرچہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ اپنی چالاکی سے لوگوں کو دھوکا دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ عالم الغیب خُدا کو کس طرح دھوکہ دے گا! قیامت کے دن اسکے اچھے برے سب اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور اسکی ریاکاری سخت عذاب کا موجب بنے گی۔


Read More

Friday, 1 November 2013

اللہ کے ذکر کی طاقت







ایک نامی گرامی بادشاہ کی چہیتی بیٹی بیمار پڑی۔ اس عہد کے بڑے اطباء اور صادق حکیموں سے اس کا علاج کروایا لیکن مرض بگڑتا گیا۔ آخر میں وہاں کے سیانے کو بلاکر مریضہ کو دکھایا گیا۔ اس نے مریضہ کے سرہانے بیٹھ کر لا اِلٰہ کا ورد شروع کر دیا۔ طبیب اور حکیم اس کے اس فعل کو دیکھ کر ہنسنے لگے اور کہا کہ محض الفاظ جسم پر کس طرح اثر انداز ہونگے! تعجب! اس صوفی نے چلا کر کہا "خاموش! تم سب لوگ گدھے ہو اور احمقوں کی سی بات کرتے ہو۔ اس کا علاج ذکر ہی سے ہوگا۔" اپنے لیے گدھے اور احمق کے الفاظ سن کر ان کا چہرہ سرخ ہوگیا اور ان کے جسموں کے اندر خون کا فشار بڑھ گیا۔ اور انہوں نے صوفی کے خلاف مکے تان لیے۔ صوفی نے کہا "اگر گدھے کے لفظ نے تم کو چراغ پا کر دیا ہے اور تم سب کا بلڈ پریشر ایک دم ہائی ہو گیا ہے اور تم نے میرے خلاف مکے تان لیے تو کیا ذکر اللہ اس بیمار بچی کے وجود پر کوئی اثر نہیں کرے گا؟"


اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے، آمین۔




(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)


Read More

Tuesday, 29 October 2013

حضور صلى الله عليه و سلم کے محراب میں کھڑے ہو کر نفل پڑھنا







اس وقت مجھے وہ سہ پہر یاد آ رہی ہے جب شہاب کا بازو کھینچ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی تھی کہ چلو اصحاب صفہ کے چبوترے پر تم بھی جا کر نفل ادا کرلو -


میں وہاں بڑی مشکل سے جگہ بنا کر آیا ہوں – اور ایک عرب صوفی کو اپنے پاکستانی صوفی ہونے کا یقین دلا کے آیا ہوں کہ ابھی میں اپنے بڑے بھائی کو لاتا ہوں - لیکن شہاب نے یہ کہہ کر اپنا بازو چھڑا لیا کہ اتنے بڑے مقام پر اور اتنی اونچی جگہ پر بیٹھ کر میں نفل نہیں ادا کر سکتا… میں یہیں ٹھیک ہوں بلکہ یہ بھی کسی کے کرم سے رعایت ملی ہوئی ہے کہ میں یہاں بیٹھا ہوں -

مجھے اس کی بات پر غصہ بھی آیا ور کفران نعمت پر افسوس بھی ہوا – لیکن وہ ایسا ہی تھا -

صبح بھی جب میں نے اس کو بتایا کہ چلو حضور کے محراب میں لوگ نفل ادا کر رہے ہیں تم بھی میرے ساتھ چلو میں جگہ بنوا دوں گا اور ایک دو دھکے لگا کر محراب خالی کروا دونگا لیکن وہ نہیں مانا اور شرمندہ سا ہو کر کہنے لگا:

” یار حضور کے محراب میں کھڑے ہو کر نفل پڑھنا بڑے دل گردے کا کام ہے وہاں تو حضرت ابو بکر کو بھی تھرتھری آ گئی تھی میرا کیا منہ ہے جو اس جگہ کے قریب بھی جاؤں- میری شکل دیکھتے ہو یہ اس محراب میں کھڑے ہونے کے قابل ہے تم جاؤ اور وہاں جا کر نماز پڑھو اس مسجد کی بہاریں جتنی بھی لوٹ سکتے ہو لوٹ لو– ایسا موقع بار بار ہاتھ نہیں آتا -


ہر ہر مصلے سے، ہرکونے سے، اور ہر صف سے، جہاں جہاں موقع ملے اپنا حصہ بٹور لو اور جو حصہ تمہارا نہیں بھی ہے وہ بھی ہتھیا لو – ایسا چانس روز نہیں ملا کرتا – “


(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)


Read More

Saturday, 26 October 2013

گناہوں کی دوا







حضرت شبلی نے ایک حکیم سے کہا’’مجھے گناہوں کا مرض ہے اگراس کی دوا بھی آپ کے پاس ہو تو عنایت کیجئے، یہاں یہ باتیں ہورہی تھیں اورسامنے میدان میں ایک شخص تنکے چننے میں مصروف تھا،اس نے سراٹھاکر کہا کہ جوتجھ سے لولگاتے ہیں وہ تنکے چنتے ہیں‘‘ شبلی! یہاں آؤ میں اس کی دوابتاتاہوں۔"




حیاکے پھول، صبروشکر کے پھل، عجز ونیاز کی جڑ، غم کی کونیل، سچائی کے درخت کے پتے، ادب کی چھال، حسن اخلاق کے بیج یہ سب اشیا لیکرریاضت کے باون دستہ میں کوٹنا شروع کرو اوراشک پشیمانی کاعرق ان میں روز ملاتے رہو۔ پھر ان سب کو دل کی دیگچی میں بھرکر شوق کے چولھے پرپکاؤ جب پک کرتیار ہوجائے توصفائے قلب کی صافی میں چھان کر شیریں زبان کی شکر ملاکرمحبت کی تیزآنچ دینا، جس وقت تیارہوکر اترے تو اس کو خوف خداکی ہوا سے ٹھنڈاکرکے استعمال کرنا‘‘



حضرت شبلی نے نگاہ اٹھاکر دیکھاتو وہ اللہ کا دیوانہ غائب ہوچکا تھا۔





( سچے موتی۸/۳۸۲)


Read More

ان پڑھ سقراط








میرے پاس ولایت اور یہاں کی بے شمار ڈگریاں ہیں ۔ لیکن اس سب علم اور ڈگریوں کے با وصف میرے پاس وہ کچھ نہیں ہے جو ایک پینڈو مالی کے پاس ہوتا ہے ۔ یہ اللہ کی عطا ہے ۔ بڑی دیر کی بات ہے ہم سمن آباد میں رہتے تھے ، میرا پہلا بچہ جو نہایت ہی پیارا ہوتا ہے وہ میری گود میں تھا ۔ وہاں ایک ڈونگی گراؤنڈ ہے جہاں پاس ہی صوفی غلام مصطفیٰ تبسم صاحب رہا کرتے تھے ، میں اس گراؤنڈ میں بیٹھا تھا اور مالی لوگ کچھ کام کر رہے تھے۔ ایک مالی میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ ماشاءاللہ بہت پیارا بچہ ہے ۔ اللہ اس کی عمر دراز کرے ۔ وہ کہنے لگا کہ جی جو میرا چھوٹے سے بڑا بیٹا ہے وہ بھی تقریباً ایسا ہی ہے ۔ میں نے کہا ماشاء اللہ اس حساب سے تو ہم قریبی رشتے دار ہوئے ۔ وہ کہنے لگا کہ میرے آٹھ بچے ہیں ۔ میں اس زمانے میں ریڈیو میں ملازم تھا اور ہم فیملی پلاننگ کے حوالے سے پروگرام کرتے تھے ۔ جب اس نے آٹھ بچوں کا ذکر کیا تو مین نے کہا اللہ ان سب کو سلامت رکھے لیکن میں اپنی محبت آٹھ بچوں میں تقسیم کرنے پر تیار نہیں ہوں ۔ وہ مسکرایا اور میری طرف چہرہ کر کے کہنے لگا




” صاحب جی محبت کو تقسیم نہیں کیا کرتے ۔ محبت کو ضرب دیا کرتے ہیں ۔ “




وہ بلکل ان پڑھ آدمی تھا اور اس کی جب سے کہی ہوئی بات اب تک میرے دل میں ہے ۔




میں اکثر سوچتا ہوں کہ واقعی یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی کے پاس ہنر یا عقل کی ڈگری ہو ، یہ ضروری نہیں کہ سوچ و فکر کا ڈپلومہ حاصل کیا جائے ۔



(از: اشفاق احمد - اقتباس: زاویہ 2) 


Read More

Thursday, 24 October 2013

ہم کون ہیں؟








ہمارے متعلق ملک شام اور اس کے باغات سے پوچھو۔۔۔۔۔۔ عراق اور اس کے نخلستانوں سے پوچھو، مصر اور اس کی وادیوں سے پوچھو، الجزائر اور اس کے جنگلات سے پوچھو۔۔۔۔۔۔ افریقہ کے ریگستانوں اور ایران کے سبزہ زاروں سے پوچھو۔۔۔۔۔۔



پوچھو روس کی برفانی چوٹیوں سے۔۔۔۔۔۔ پوچھو فرانس کے دریاؤں سے۔۔۔۔۔۔ پوچھو یوگوسلاویہ اور رومانیہ کے پانیوں سے۔۔۔۔۔۔ بلکہ ربع مسکون کےہر ٹکڑے سے پوچھو۔۔۔۔۔۔! آسمان کے نیچے بسنے والی ہر مخلوق سے پوچھو۔۔۔۔۔۔



ان سب کے پاس ہماری شجاعت و بسالت، ایثار و قربانی، علوم و فنون اور عدالت و شرافت کی خبریں ہیں۔


!ہم مسلمان ہیں



ہمارے سوا اور کون تھا جس نے شرافت کے باغوں کو اپنے خون سے سینچا ہو۔ بتاؤ ہمارے علاوہ کس نے شجاعت و بسالت کے گلستان کو مزین کیا ہے۔ بھلا دنیا نے ہم سے زیادہ کوئی شریف، نبیل، مہربان اور شفیق، اعلٰی اور افضل کہیں دیکھا ہے؟ ہم نے جہالت کے اندھیروں میں ہدایت کی شمع روشن کرکے لوگوں کو بتایا کہ راہ ہدایت یہ ہے۔۔۔۔۔۔



وہ زمین ہماری ہی ہے جہاں قرآن پڑھا جاتا ہے اور میناورں سے اذان آتی ہے کہ اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ کاش کہ ہم صحیح معنوں میں مسلمان بن جائیں تو فتح و کامرانی اور جہاں بانی ہمارا مقدر بن جائے۔۔۔۔



(اقتباس: اسلامی تاریخ کے دلچسپ اور ایمان آفرین واقعات؛ از: ابو مسعود عبد الجبار) 


Read More

Tuesday, 22 October 2013

ایسی تنہائی






ایسے اجاڑ سفر میں کون میرے دکھ بانٹنے کو میرے ساتھ چلے گا۔ یہاں تو ہوا کے سہمے ہوئے جھونکے بھی دبے پاؤں اترتے ہیں اور چپ چاپ گزر جاتے ہیں۔ یہاں کون میرے مجروح جذبوں پر دلاسوں کے پھائے رکھے، کس میں اتنا حوصلہ ہے کہ میری روداد سنے؟ کوئی نہیں۔

سوائے میری سخت جان "تنہائی" کے۔ تنہائی چونکہ میری خالی ہتھیلیوں پر قسمت کی لکیروں کی طرح ثبت ہے، میرے رت جگے کی غمگسار اور میری تھکن سے چور آنکھوں میں نیند کی طرح سما گئی ہے۔ ہوا مجھ سے برہم، سناٹا میرے تعاقب میں، مصیبتیں مجھ پر گریزاں اور شامیں میری آنکھیں پر اندھیرا باندھنے کے لیے منتظر اب کوئی چنگاری، کوئی کرن، کوئی آنسو یا پھر کوئی آس ہی مجھے دیرتک جینے کا حوصلہ دے سکتی ہے۔

(محسن نقوی کی کتاب "طلوع اشک" سے اقتباس)


Read More

Sunday, 20 October 2013

بیت اللہ کی کشش






میں بارگاہِ خداوندی کے جاہ و جلال کے تصور سے لرزتا ہوا اندر داخل ہوا۔ صحن میں پاؤں رکھتے ہی خانہ کعبہ پر نظر پڑی اور مجھے اچانک ایسا محسوس ہوا کہ اس کی چھت آسمان کو چھو رہی ہے۔ سینکڑوں آدمی وہاں طواف کر رہے تھے۔ کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنا گوارا نہ تھا۔ جو طواف سے فارغ ہو چکے تھے، ان میں سے کوئی حطیم کے اندر نفل پڑھ رہا تھا اور کوئی غلافِ کعبہ تھام کر گریہ و زاری کر رہا تھا۔ کسی کو کسی سے سروکار نہ تھا۔ کسی کو کسی سے دلچسپی نہ تھی۔ دو تین چکر لگانے کے بعد مجھے خیال آیا کہ میں‌ کون ہوں اور کہاں سے آیا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی میری آواز بیٹھ گئی۔ میری قوت گویائی جواب دے گئی اور آنسوؤں کا سیلاب جو نہ جانے کب سے اس وقت کا منتظر تھا میری آنکھوں سے پھوٹ نکلا۔ یہ ایک ایسا مقام تھا جہاں بچے کی طرح سسکیاں لینا بھی مجھے معیوب معلوم نہیں ہوتا تھا۔ کسی نے میری طرف دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں‌ کی، کسی نے یہ نہ پوچھا کہ تم کیا کر رہے ہو، ان کی بے اعتنائی اور بے توجہی ظاہر کر رہی تھی کہ ایک انسان کے آنسو اسی مقام کے لیے ہیں.

( نسیم حجازی کے سفرنامے "پاکستان سے دیارِ حرم تک" سےاقتباس)


Read More

انسان - ایک عجیب مخلوق






انسان بڑی دلچسپ مخلوق ہے، یہ جانور کو مصیبت میں دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتا لیکن انسان کو مصیبت میں مبتلا کر کے خوش ہوتا ہے ۔

یہ پتھر کے بتوں تلے ریشم اور بانات کی چادریں بچھا کر ان کی پوجا کرتا ہے ۔ لیکن انسان کے دل کو ناخنوں سے کھروچ کے رستا ہوا خون چاٹتا ہے ۔

انسان اپنی کار کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس کا ماتھا پونچھتا اور اس کے پہلو چمکاتا ہے اور میلے کچیلے آدمی کو دھکے دے کر اس لیے پرے گرا دیتا ہے کہ کہیں ہاتھ لگا کر وہ اس مشین کا ماتھا نہ دھندلا کر دے ۔

انسان پتھروں سے مشینوں سے جانوروں سے پیار کر سکتا ہے انسانوں سے نہیں ۔


(از اشفاق احمد)


Read More

Saturday, 19 October 2013

ماں








ماں خدا کی نعمت ہے اور اس کے پیار کا انداز سب سے الگ اور نرالا ہوتا ہے۔ بچپن میں‌ایک بار بادو باراں کا سخت طوفان تھا اور جب اس میں بجلی شدت کے ساتھ کڑکی تو میں خوفزدہ ہو گیا۔ ڈر کے مارے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ میری ماں‌نے میرے اوپر کمبل ڈالا اور مجھے گود میں بٹھا لیا، تو محسوس ہوا گویا میں امان میں ‌آگیا ہوں۔





میں‌ نے کہا، اماں! اتنی بارش کیوں‌ہو رہی ہے؟‌ اس نے کہا، بیٹا! پودے پیاسے ہیں۔ اللہ نے انہیں پانی پلانا ہے اور اسی بندوبست کے تحت بارش ہو رہی ہے۔ میں‌ نے کہا، ٹھیک ہے! پانی تو پلانا ہے، لیکن یہ بجلی کیوں بار بار چمکتی ہے؟ یہ اتنا کیوں‌کڑکتی ہے؟ وہ کہنے لگیں، روشنی کر کے پودوں کو پانی پلایا جائے گا۔ اندھیرے میں تو کسی کے منہ میں، تو کسی کے ناک میں‌ پانی چلا جائے گا۔ اس لئے بجلی کی کڑک چمک ضروری ہے۔




میں ماں کے سینے کے ساتھ لگ کر سو گیا۔ پھر مجھے پتا نہیں چلا کہ بجلی کس قدر چمکتی رہی، یا نہیں۔ یہ ایک بالکل چھوٹا سا واقعہ ہے اور اس کے اندر پوری دنیا پوشیدہ ہے۔ یہ ماں‌کا فعل تھا جو ایک چھوٹے سے بچے کے لئے، جو خوفزدہ ہو گیا تھا۔ اسے خوف سے بچانے کے لئے، پودوں کو پانی پلانے کے مثال دیتی ہے۔ یہ اس کی ایک اپروچ تھی۔ گو وہ کوئی پڑھی لکھی عورت نہیں تھیں۔ دولت مند، بہت عالم فاضل کچھ بھی ایسا نہیں تھا، لیکن وہ ایک ماں تھی۔




(زاویہ دوم، باب پنجم۔ از: اشفاق احمد)



Read More

Thursday, 17 October 2013

تعلق کیا چیز ہے؟







یہ بھی حسیات سے تعلق رکھنے والی غیر مرئی خوبیوں میں سے ایک کیفیت ہے، جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن سمجھنے پر آئیں تو سمجھ نہیں سکتے۔ ماں کی محبت کے تعلق کو مامتا کہہ کر واضع نہیں کر سکتے۔ ڈکشنری میں یا لٹریچر سے اس کی وضاحتیں ملتی ہیں، مامتا نہیں ملتی۔ جہاد پر جان سے گزر جانے والے بہادر کے جذبے کو اس وقت تک سمجھا نہیں جا سکتا، جب تک آپ خود ایسی بہادری کا حصہ نہ بن جائیں۔ تعلق، زندگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے صبر کی مانند ایک ڈھال ہے۔ جب کبھی جہاں بھی سچا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، وہاں قناعت، راحت اور وسعت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔ آپ کو اندر ہی اندر یہ یقین محکم رہتا ہے کہ "آپ کی آگ" میں سلگنے والا کوئی دوسرا بھی موجود ہے، دہرا وزن آدھا رہ جاتا ہے۔


 


(بانو قدسیہ کے ناول "حاصل گھاٹ"  سے اقتباس)








Read More

خلیفہ ہارون الرشید کا استفسار اور بہلول کا انوکھا جواب













ایک دن بہلول بازار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ خلیفہ ہارون الرشید کا گزر ہوا تو انہوں نے پوچھا بہلول کیا کر رہے ہو تو بہلول نے کہا کہ بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں۔




ہارون الرشید نے کہا کہ پھر کیا بنا؟




بہلول نے کہا کہ اللہ تو مان رہا ہے لیکن بندے نہیں مان رہے۔



کچھ دن بعد خلیفہ کا ایک قبرستان کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا بہلول قبرستان میں بیٹھے ہیں۔

قریب جا کر پوچھا بہلول کیا کر رہے ہو۔




بہلول نے کہا بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں۔




ہارون الرشید نے کہا کہ پھر کیا بنا؟




بہلول نے کہا بندے تو مان رہے ہیں مگر آج اللہ نہیں مان رہا ہے۔






دوستوں! اس بارے میں ضرور سوچو، کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہوجائے اور اللہ کو منانے کا موقع ہاتھ سے نکل جائے۔ اب بھی وقت ہے اپنا آپ پہچانو اپنے رب کے پیغام کو جانو۔



Read More

حکایتِ سعدی







شیخ سعدی بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں مجھے عبادت کا بہت شوق تھا۔ میں اپنے والد محترم کے ساتھ ساری ساری رات جاگ کر قرآن مجید کی تلاوت اور نماز میں مشغول رہتا تھا۔ ایک رات والدِمحترم اور میں حسبِ معمول عبادت میں مشغول تھے اور ہمارے قریب ہی کچھ لوگ فرش پر پڑے غافل سورہے تھے۔ میں نے اُن کی یہ حالت دیکھی تو اپنے والد صاحب سے کہا کہ ان لوگوں کی حالت پر افسوس ہے! ان سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اٹھ کر تہجد کی نفلیں ہی ادا کرلیتے۔



والد محترم نے میری یہ بات سنی تو فرمایا: بیٹا! دوسروں کو کم درجہ خیال کرنے اور برائی کرنے سے تو بہتر تھا کہ تو بھی پڑکر سوجاتا۔



(حکایاتِ گلاستانِ سعدی)


Read More

Sunday, 13 October 2013

بکرے کا انتخاب











ایک صاحب نے کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد ایک بکرا منتخب کیا اور اس دوران بکرے کی نسل، شکل و صورت، خاندان اور ماضی اور مستقبل کے بارے میں اتنے سوال کئے جو عام طور پر لوگ ہونے والے داماد کے بارے میں بھی نہیں پوچھتے۔ 





بکرے والا اُن کے ہر سوال کا جواب دیتا رہا لیکن تمام انکوائری کے بعد جب خریدار نے یہ کہا:





"اور تو میاں سب ٹھیک ہے مگر اس کے سینگ چھوٹے ہیں"۔


تو بکرے والے سے رہا نہ گیا۔ اس نے جل کر کہا۔ 





"معاف کیجئے گا۔ آپ نے اس کی قربانی کرنی ہے یا اس پر کپڑے لٹکانے ہیں"۔


(امجد اسلام امجد کی چشم تماشا سے اقتباس) 


 


Read More

Thursday, 10 October 2013

جھوٹ
















اپنی
روزمرہ زندگی سے جھوٹ کو ایسے نکالو اور اتنی کوشش سے نکالو کہ جیسے تم
کائنات سے شیطان کو نکال رہے ہو۔ آپ جھوٹ کو مکمل طور پر چھوڑ دو۔ چھوٹے
چھوٹے جھوٹ بھی چھوڑ دو تاکہ تمہاری زندگی میں سچ داخل ہو جائے اور جب سچ
داخل ہوجائے گا تو زندگی خودبخود سچ میں ڈھل جائے گی۔ اگر حق بیان کرنا پڑے
تو آپ کو صداقت کے بیان میں تذبذب نہ آئے۔ صداقت کا مطلب ہے کہ جھوٹ کو
برملا جھوٹ کہو اور سچ کو برملا سچ کہواور نہ سمجھ آنے والی بات کو بر ملا
نہ سمجھنے والی بات کہو۔ تذبذب میں نہ پڑنا، ورنہ یہ تلوار کی دھار ثابت
ہوگا اور آپ کو گرادےگا، اس طرح آپ کا سفر نہیں ہوگا۔






(واصف علی واصف، گفتگو

(


Read More

Wednesday, 9 October 2013

انوکھا انصاف







ایک رات قصر شاہی میں ایک دعوت ہوئی۔ اس موقع پر ایک آدمی آیا اور اپنے آپ کو شہزادے کے حضور میں پیش کیا۔ تمام مہمان اس کی طرف دیکھنے لگے۔ انہوں نے دیکھا کہ اس کی ایک آنکھ باہر نکل آئی ہے اور خالی جگہ سے خون بہہ رہا ہے۔ شہزادے نے اس سے پوچھا "کہ تم پر کیا واردات گزری؟"



اس نے جواب دیا "عالی جاہ میں ایک پیشہ ور چور ہوں اور آج شپ جب کہ چاند ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔ میں ساہوکار کی دوکان لوٹنے کے لئے گیا لیکن غلطی سے جلاہے کے گھر میں داخل ہوگیا۔ جوں ہی میں کھڑکی سے کودا میرا سر جلاہے کے کرگھے کے ساتھ ٹکرایا۔ اور میری آنکھ پھوٹ گئی۔ اے شہزادے اب میں اس جلاہے کے معلاملے میں انصاف چاہتاہوں ۔ ۔ ۔"



یہ سن کر شہزادے نے جلاہے کو طلب کیا۔ اور یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ اس کی ایک آنکھ نکال دی جائے۔ جلاہا بولا "ظل سبحانی آپ کا فیصلہ درست ہے کہ میری ایک آنکھ نکالی جانی چاہئے۔ لیکن میرے کام میں دونوں آنکھوں کی ضرورت ہے تاکہ میں اس سے کپڑے کی دونوں اطراف دیکھ سکوں جسے میں بنتا ہوں ۔۔۔ میرے پڑوس میں ایک موچی ہے جس کی دونوں آنکھیں سلامت ہیں اس کے پیشے میں ان دونوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔"



یہ سن کر شہزادے نے موچی کو طلب کیا وہ آیا اور اس کی دو آنکھوں میں سے ایک آنکھ نکال دی گئی۔



اس طرح انصاف کا تقاضا پورا ہوگیا۔





(کلیاتِ خلیل جبران سے اقتباس)


Read More

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood