بھینس بہت مفید جانور ہے، پنجاب کے بیشتر علاقوں میں اسے 'مج' کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ قد میں عقل سے تھوڑی بڑی ہوتی ہے۔ چوپایوں میں یہ واحد جانور ہے جو موسیقی کا ذوق رکھتا ہے، اسلئے لوگ اس کے آگے بین بجاتے ہیں۔ بھینس دودھ دیتی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہوتا، لہذا باقی دودھ گوالا دیتا ہے اور ان دونوں کے باہمی تعاون سے ہم شہریوں کا کام چلتا ہے۔ تعاون یوں تو بڑی اچھی چیز ہے، لیکن دودھ کو چھان لینا چاہئے تاکہ مینڈک نکل جائیں۔
ابنِ انشاء کی تصنیف "اردو کی آخری کتاب" سے اقتباس
0 comments:
Post a Comment