Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here

Friday, 11 October 2013

اب کھانے "پرنٹ" کئے جائیں گے










امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے ایک ایسے 3D پرنٹر کی تیاری پر کام شروع کیا ہے جو ہمارے لئے کھانا "پرنٹ" کر سکے۔ ناسا کا خیال ہے کہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن پر خوارک عام گھریلو طریقے سے پکانے کے بجائے خصوصی 3D پرنٹر کی مدد سے پرنٹر کئے جائیں جو ذائقے اور معیار میں کسی بھی طرح گھریلو کھانے سے کم نہ ہو۔ اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو ریلیز کی گئی ہے جس میں ایک 3D پرنٹر کی مدد سے پیزا کی تیاری کا عمل دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں پیزا کو تیاری کے بعد ایک گرم سطح پر پکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔





اگرچہ اس پیزا کا معیار فی الحال اچھا نہیں ہے لیکن اس کامیابی کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جارہاہے۔ پرنٹر ابھی اپنی تیاری کے ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ماہرین کے خیال میں وہ بہت جلد اسے مزید بہتر بناسکیں گے۔ اگر یہ پرنٹرز مارکیٹ میں آگئے تو آپ کسی بھی وقت بھیڑ کی بھنی ہوئی "پرنٹڈ" ران اور "پرنٹڈ" تکے، آلو کے "پرنٹڈ" قتلوں اور مزیدار "پرنٹڈ" چھٹنی کےساتھ تناول کرسکیں گے۔


Read More

Thursday, 10 October 2013

آنسوؤں سے کینوس پر رنگ بکھیرے والا مصور







ارجنٹائن میں ایک مصور نے آنکھوں سے کینوس پر
رنگ بکھیرنا شروع کردئیے۔ لیونارڈو گرانٹو نامی مصور اپنی ناک کے ذریعے آنکھوں میں
رنگ ڈال کر انہیں آنسوؤں کی شکل میں کینوس پر بکھیرتا ہے۔










 آنکھ سے نکلے ہوئے آنسو
کینوس پر گرتے ہیں تو مصور کے احساسات رنگوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ لیونارڈو کا کہنا
ہے کہ وہ ایک خاص طریقے سے ناک کے ذریعے رنگ آنکھوں تک پہنچاتا ہے جسے آنسوؤں کی
لڑی کی شکل میں کینوس پر بکھیرتا ہے۔










 لیونارڈو کے مطابق وہ ایک وقت میں آٹھ سو ملی
لیٹر تک رنگ اپنی آنکھوں کے ذریعے کینوس پر گراسکتا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ جو رنگ
استعمال کرتا ہے وہ انکھوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچاتا۔ لیونارڈو خریدار کو پینٹنگ
کے ساتھ ایک وڈیو فلم بھی دیتا ہے جس میں پینٹنگ کے سارے عمل کو دکھایا جاتا ہے۔
اکثر خریدار ویڈیو دیکھ کر خود بھی اپنی آنکھوں سے آنسو رواں دیکھتے ہیں۔ 







Read More

غذائیت سے بھرپور صحت بخش سیاہ ٹماٹر








برطانوی شہری نے سیاہ رنگ کےانوکھے ٹماٹر اگالیے۔ یہ ٹماٹر مکمل طور پر سیاہ رنگ کے ہیں لیکن اندر سے سرخ ہیں۔  ٹماٹر میں ایسے anthocyanins اور antioxidant  اجزاء شامل ہیں جو صحت کے لئے انتہائی مفید سمجھے جاتے ہیں۔ برطانیہ کے شہر نیو ٹاؤن کے رہائشی 66 سالہ نرسری مالک رے براؤن نے مکمل سیاہ رنگ کے  ٹماٹر اگالئے  جو نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہیں بلکہ اس میں شامل اجزاء کینسراور ذیابیطس سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ رے براؤن نے کہا:


"ہم ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے سیاہ ٹماٹر اگانے کی کوشش کی لیکن وہ اسے حاصل نہیں کرسکے۔ انہیں صرف بھورے یانارنجی ٹماٹر اگانے میں کامیابی ملی۔ لوگوں نے ہمیشہ یہی سوچا کہ ایسا کرنا ناممکن ہے۔"


 لوگوں کے استفسار کے بارے میں رے براؤن نے کہا:


"کوئی اس بات پر یقین نہیں کر رہا تھا کہ ہم کیا کرنے جارہے ہیں۔ وہ اسے مزاق سمجھ رہے تھے۔ لوگ یہاں تک شش وپنج میں مبتلا تھے کہ آیا یہ ٹماٹر کھانے کے لائق بھی ہیں یا نہیں۔ ہم نے بہت سے کھائے ہیں۔ یہ خوش ذائقہ ہیں۔"







  سیاہ رنگ کے اس ٹماٹر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ امریکا کے Oregon  اسٹیٹ یونیورسٹی کے 'اینڈیگو روز' پروجیکٹ کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ پھلوں میں پائے جانے والےاجراء Anthocyanins کینسر، ذیابیطس اور موٹاپا روکنے میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔





Read More

قلم کی دھار








یہ درست ہے کہ قلم کی دھار نہایت ہی تیز اور پُر اثر ہوتی ہے۔ کوئی بھی دوسری دھار اس پر غالب نہیں آسکتی۔ یا یوں کہہ لیں کہ چاقو کی دھار، تلوار کی دھار یا زبان کی دھار، سب قلم کی دھار کی پیدا کردہ دھاریں ہیں۔ قلم کی دھار نے ہر جگہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہت سی پست، محکوم اور زوال پزیرقومیں اسکی بدولت بامِ عروج پر پہنچی۔ 





قلم نے بہت سے واقعات قید کرکے آئندہ نسلوں کو تاریخ کی شکل میں پیش کئے۔ خوبصورت الفاظ کو موتیوں کی طرح پرو کر ایک لڑی کی شکل میں ڈھال کر شاعری کا لباس پہنایا۔ اگر اس کا استعمال صحیح اور بغیر کسی مفاد کے کیا جائے تو حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ 





آج ہم جو کچھ جانتے ہیں، سب قلم کا مرہونِ منت ہے۔ قلم کی زبان دلوں میں جذبہ، ولولہ اور حقیقت سے آشنا کرتی ہے۔ حق و باطل کے معرکوں سے شناسائی ہمیں قلم ہی نے بخشی ہے۔ ظالم و مظلوم کی صداہمیں قلم نے ہی پہنچائی ہے۔ اگر اہلِ قلم حقیقت پسند ہوں تو ہمیشہ حقیقت ہی سامنے آتی ہے اور جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔





پس! یہ قلم ہی ہے کہ جس کے ذریعے ہم تمام عالم میں ایک خاص اور جداگانہ حیثیت حاصل کر سکتے ہیں۔


Read More

جھوٹ
















اپنی
روزمرہ زندگی سے جھوٹ کو ایسے نکالو اور اتنی کوشش سے نکالو کہ جیسے تم
کائنات سے شیطان کو نکال رہے ہو۔ آپ جھوٹ کو مکمل طور پر چھوڑ دو۔ چھوٹے
چھوٹے جھوٹ بھی چھوڑ دو تاکہ تمہاری زندگی میں سچ داخل ہو جائے اور جب سچ
داخل ہوجائے گا تو زندگی خودبخود سچ میں ڈھل جائے گی۔ اگر حق بیان کرنا پڑے
تو آپ کو صداقت کے بیان میں تذبذب نہ آئے۔ صداقت کا مطلب ہے کہ جھوٹ کو
برملا جھوٹ کہو اور سچ کو برملا سچ کہواور نہ سمجھ آنے والی بات کو بر ملا
نہ سمجھنے والی بات کہو۔ تذبذب میں نہ پڑنا، ورنہ یہ تلوار کی دھار ثابت
ہوگا اور آپ کو گرادےگا، اس طرح آپ کا سفر نہیں ہوگا۔






(واصف علی واصف، گفتگو

(


Read More

Wednesday, 9 October 2013

انوکھا انصاف







ایک رات قصر شاہی میں ایک دعوت ہوئی۔ اس موقع پر ایک آدمی آیا اور اپنے آپ کو شہزادے کے حضور میں پیش کیا۔ تمام مہمان اس کی طرف دیکھنے لگے۔ انہوں نے دیکھا کہ اس کی ایک آنکھ باہر نکل آئی ہے اور خالی جگہ سے خون بہہ رہا ہے۔ شہزادے نے اس سے پوچھا "کہ تم پر کیا واردات گزری؟"



اس نے جواب دیا "عالی جاہ میں ایک پیشہ ور چور ہوں اور آج شپ جب کہ چاند ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔ میں ساہوکار کی دوکان لوٹنے کے لئے گیا لیکن غلطی سے جلاہے کے گھر میں داخل ہوگیا۔ جوں ہی میں کھڑکی سے کودا میرا سر جلاہے کے کرگھے کے ساتھ ٹکرایا۔ اور میری آنکھ پھوٹ گئی۔ اے شہزادے اب میں اس جلاہے کے معلاملے میں انصاف چاہتاہوں ۔ ۔ ۔"



یہ سن کر شہزادے نے جلاہے کو طلب کیا۔ اور یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ اس کی ایک آنکھ نکال دی جائے۔ جلاہا بولا "ظل سبحانی آپ کا فیصلہ درست ہے کہ میری ایک آنکھ نکالی جانی چاہئے۔ لیکن میرے کام میں دونوں آنکھوں کی ضرورت ہے تاکہ میں اس سے کپڑے کی دونوں اطراف دیکھ سکوں جسے میں بنتا ہوں ۔۔۔ میرے پڑوس میں ایک موچی ہے جس کی دونوں آنکھیں سلامت ہیں اس کے پیشے میں ان دونوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔"



یہ سن کر شہزادے نے موچی کو طلب کیا وہ آیا اور اس کی دو آنکھوں میں سے ایک آنکھ نکال دی گئی۔



اس طرح انصاف کا تقاضا پورا ہوگیا۔





(کلیاتِ خلیل جبران سے اقتباس)


Read More

تھری جی ٹیکنالوجی







گزشتہ کچھ عرصہ سے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں تھری جی یعنی تھرڈ جنریشن ٹیکنالوجی کا بڑا چرچا ہورہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں بھی یہ نظام بہت جلد آرہا ہے۔ لیکن تھری جی نظام حقیقت میں ہے کیا؟ اس بارے میں بہت کم لوگ معلومات رکھتے ہیں۔



مستقبل میں دنیا میں ہونے والی معاشی و معاشرتی تبدیلیوں میں ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کریگی۔ آج دنیا گلوبل ویلیج میں تبدیل ہو چکی ہے جو بلاشبہ انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ممکن ہوسکا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا کوئی بھی شخص آپ سے صرف ایک بٹن کی دوری پر ہے۔ ٹیبل فون،موبائل فون، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ نے انسانی زندگی کا معیار بدل کر رکھ دیا ہے۔ ٹیلی کمیونی کیشن سروسز کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ ان میں جدت لانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ انٹرنیٹ، موبائل اور پھر موبائل پر انٹرنیٹ کے استعمال نے دنیا کو ایک کھلی کتاب کی مانند بدل دیا ہے، لیکن موبائل پر انٹرنیٹ کی کم رفتار اور ویڈیو کانفرنسز جیسی سہولیات کی عدم دستیابی اس تیز رفتار ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ اس خامی پر قابو پانے کے لئے آئی ٹی ماہرین نے سر جوڑا اور ون جی اور ٹو جی کے بعد اب تھری جی جیسی نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی۔



اس وقت دنیا میں تھری جی سب سے جدید ٹیکنالوجی ہے۔ اس سے قبل 1جی یعنی فرسٹ جنریشن (Analog) اور2 جی یعنی سیکنڈ جنریشن(Digital) ٹیکنالوجیز موجود تھی۔ ڈیٹا
ٹرانسفر اور وڈیو ٹرانسمیشن کے لئے سستی اور تیز رفتار سہولت کی ضرورت نےتھری جی کو جنم دیا۔ انٹرنیشنل ٹیلی کمیونی کیشن یونین
(ITU) نے 1980ء میں اس
ٹیکنالوجی پر کام شروع کیا جو تقریباً 15سال میں مکمل ہوا۔ آج یہ ٹیکنالوجی دنیا
بھر کی حکومتوں اور کمیونی کیشن کمپنیوں اولین ترجیع کی حیثیت حاصل کر
چکی ہے۔




سب سے پہلے تجارتی بنیادوں پر اس ٹیکنالوجی کا آغاز یکم اکتوبر 2001ء میں نیپن ٹیلی گراف اینڈ ٹیلی فون نامی کمپنی نے جاپان میں کیا۔ اسی سال دسمبر میں یورپ نے اس جدید ایجاد کو شرف قبولیت بخشا۔ مئی 2002ء میں جنوبی کوریا میں اس ٹیکنالوجی کو بہت
زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی اور وہاں کمپنیوں کی طرف سے باقاعدہ مقابلے کی فضا قائم
ہو گئی۔




جولائی 2002ء میں امریکہ اور
جون 2003ء میں یہ تیزرفتار موبائل انٹرنیٹ سہولت آسٹریلیا پہنچ گئی جس کے بعد چین،
بھارت، شام، عراق، ترکی، کینیڈا اور بنگلہ دیش سمیت دنیا کے تقریباً 130ممالک آج اس ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔




ترقی یافتہ ممالک تھری جی سے
بھی آگے فورجی کی طرف جا رہے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تاحال 2 جی نظام ہی
رائج ہے۔یہ نطام چندسہولیات کےاضافے کے بعد 2.5جی
ہو چکا ہے۔ پاکستان کا
موجودہ سیلولر نظام

GSM
پر استوار ہے جس پر انٹرنیٹ صارفین کا دبائو بڑھنے سے
انٹر نیٹ کی رفتار انتہائی سست ہوتی جارہی ہے۔ 2 جی ٹیکنالوجی 30 تا 90 کلو بائیٹس
فی سکینڈ ڈیٹا ٹرانسفرکی رفتار مہیا کرتی ہیں اوریہ صرف چند ایک بنیادی سہولیات
فراہم کر سکتی ہے جیسے کہ وائس کال، ایس ایم ایس، کانفرنس کال،کالر آئی ڈی وغیرہ جبکہ
2.5جی
 کے تحت ایم ایم ایس بھی بھیجیں جاسکتے ہیں، ویب برائوزنگ کر سکتے ہیں، چھوٹے موٹے آڈیو ویڈیو کلپ، گیمز، اور
ایپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ 2 جی کے مقابلے میں 3جی
نظام کے تحت ڈیٹا ٹرانسفر سپیڈ دو سے تین میگا بائیٹ فی سکینڈ تک پہنچ
جاتی ہے۔




دنیا کے بیشتر ممالک تھری جی ٹیکنالوجی کی مدد سے نقل و حمل، تعلیم، صحت اور مالیاتی خدمات کے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض ممالک فور جی تک بھی رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ بدقسمتی پاکستان میں تاحال تھری جی ٹیکنالوجی کوسوں دور دکھائی دے رہی ہے۔ ہمارے ہاں 2009ء میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے کی باتیں شروع ہوئیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ تاحال تھری جی ٹیکنالوجی کے لائسنس کی نیلامی کا عمل تک شروع نہیں ہو سکا۔








پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً 13 کروڑلگ بھگ ہے جن میں سے 2کروڑ سے زائد صارفین موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے استعمال کے لئے موزوں موبائل فونز سیٹس، خاص طور پر چینی ساختہ سمارٹ فونز کی گرتی ہوئی قیمت موبائل انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ کر رہی ہے۔ آج پاکستان میں اسمارٹ فونز کی مقبولیت میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک تحقیقی رپورٹ میں پاکستان کو ایشیاء کی پانچویں بڑی مارکیٹ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق تھری جی ٹیکنالوجی کے آنے سے موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں 50سے 70 فیصد تک اضافہ ہوجائےگا۔




پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی کب تک آسکے گی؟اسکا انتظار ہرایک کوہے۔ آئی ٹی ماہرین پر امید ہیں کہ رواں سال کے آخر تک تھری جی لائیسنس کے بارے میں کوئی واضح پالیسی سامنے آجائے گی۔ اگرچہ لائیسنس نیلامی کے عمل بعد بھی اس ٹیکنالوجی کے اطلاق میں سال بھر مزید لگ سکتا ہے لیکن کوئی بعید نہیں کہ انٹر نیٹ کی طرح یہ ٹیکنالوجی بھی کسی بپھرے ہوئے سیلاب کی طرح پاکستان میں داخل ہوجائے اور تیزی سے مقبولیت کی منزلیں طے کرنا شروع کردے۔









Read More

Social Profiles

Twitter Facebook Google Plus LinkedIn RSS Feed Email Pinterest

Popular Posts

Blog Archive

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood