Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here

Friday, 13 September 2013

کھانا کھانے کے آداب








کھانے میں کوئی عیب نہ نکالیں جو مل جائے کھا لیا کریں۔ اگر کھانے میں کوئی مہمان بھی شریک ہو تو ان سے بار بار کہیں  کھائیے کھائیے اور مہمان کے کھانا ختم کر نے سے پہلے اپنا ہاتھ نہ روکیں۔ تھوڑا تھوڑا کھاتے رہیں یہاں تک کہ وہ اپنا ہاتھ کھانے سے نہ روک لے۔ کھانے کے دوران اگر چھینک یا کھانسی آجائے تو دسترخوان سے منہ پھیردیں  اور منہ پر ہاتھ رکھ لیں۔کھانے سے قبل  اچھی طرح ہاتھ دھوئیں اور جب دسترخوان سے اٹھیں تو ہاتھ دھولیں اور کلی کریں۔


Read More

Monday, 9 September 2013

چائے کے باغات








سنا ہے کہ چائے کے بڑے خوبصورت باغ ہوتے ہیں۔ یہ بات یوں بھی سچ معلوم ہو تی ہے کہ چائے اگر کھیتوں میں پیدا ہوتی تو ایشیائی ممالک میں اتنی افراط سے نہیں ملتی بلکہ غلہ کی طرح غیر ممالک سے درآمد کی جاتی۔





(مشتاق احمد یوسفی کی کتاب   چراغ تلے سے اقتباس)


Read More

Sunday, 8 September 2013

زندگی کا سفر








آپ اپنی کار دس پندرہ میل پہاڑ کے اوپر لے جا سکتے ہیں لیکن آپ کو یقین
ہوتا ہے کہ چوٹی پر پہنچنے کے بعد پھر اترائی ہی اترائی ہے۔ یہ یقین اس لیے
ہوتا ہے کہ آپ قدرت کے رازوں سے واقف ہیں اور پہاڑ کے خراج کو سمجھتے ہیں۔
آپ کو پتہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کار مسلسل اوپر ہی اوپر نہیں جا سکتی،
نہ ہی نیچے ہی نیچے جا سکتی ہے۔ یہ صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔





آپ کی زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ چینی فلسفے والے اس کو ین اور
یانگ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہم لوگوں سے زندگی میں یہی غلطی ہوتی ہے کہ ہم
لوگ متبادل کے راز کو پکڑتے نہیں ہیں، جو شخص آگے پیچھے جاتی لہر پر سوار
نہیں ہوتا وہ ایک ہی مقام پر رک کر رہ جاتا ہے۔ (گلائیڈر جہازوں کے پائلٹ
اس راز کو خوب سمجھتے ہیں) وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ پہاڑ پہ اوپر ہی اوپر
جانا زندگی سے نیچے آنا موت ہے۔ وہ زندگی بھر ایک نفسیاتی لڑائی لڑتا رہتا
ہے اور ساری زندگی مشکلات میں گزار دیتا ہے۔







ایک سمجھدار انسان جب زندگی کے سفر پر نکلتا ہے تو آسان راستہ اختیار کرتا
ہے۔ وہ بلندی پر جانے کا پروگرام بنا کر نہیں نکلتا کہ نشیب میں اترنے کے
خوف سے کانپتا رہے وہ تو بس سفر پر نکلتا ہے اور راستے سے جھگڑا نہیں کرتا۔
جو جھگڑا نہیں کرتا، وہ منزل پر جلد پہنچ جاتا ہے۔





( اشفاق احمد کی کتاب بابا صاحبا سے اقتباس )


Read More

Saturday, 7 September 2013

کتاب ایک ہمسفر





بلاشبہ کتابوں سے دوستی ہی ایک انسان کی کامیابی کا ذریعہ ہے مگر کامیابی کی کنجی اس میں چھپے علم پر عمل کرنے میں پوشیدہ ہے۔ جب تک انسان علم کے سمندر سے اپنے لئے موتی کے خزانے تلاش کرتا رہتا ہے، تب تک کامیابی کے زینے طے کرتے ہوئے ترقی کے سفر پر گامزن رہتا ہے اور جیسے ہی یہ سفر رکتا ہے، وہیں سے اسکی تنزلی کا دور شروع ہوجاتا ہے اور بے شک دماغ کی تازگی اور دل کے سکون کے لئے کامیابی کا عنصر ایک لازمی جزو ہے۔ 


Read More

Thursday, 5 September 2013

عزتِ نفس







"ہر قوم کے باشندے کے پاس عزتِ نفس ہونی چاہئے اور اسے یہ سوچ کر ملک سے باہر آنا چاہئے کہ وہ اپنے ملک کا نمائندہ ہے اور بہتر کارکردگی اور دیانتداری سے اپنے ملک کا نام اونچا کرے گا۔ اس کے بعد تو احساسِ کمتری کا جواز نہیں رہتا، محنت کرنا، مشقت کرنا اور عزت کی روٹی کھانا کوئی بری بات نہیں۔"





بشری رحمان کے ناول "چاند سے نہ کھیلو" سے اقتباس۔


Read More

فرض شناسی



ایک بڑھیا بے چاری بڑی مشکل سے ہانپتی کانپتی ٹرین کے ڈبے میں سوار ہوگئی۔ چھوٹی سے گٹھڑی اس کے ساتھ تھی۔ اسے لے کے بمشکل وہ ایک طرف کو تھوڑی سے جگہ بناکر بیٹھ گئی۔ یہ دو آدمیوں کا چھوٹا سا فرسٹ کلاس کا ڈبہ تھا لیکن اسکے اندر بیس آدمی ٹھسے ہوئے تھے، کوئی کھڑا تھا کوئی بیٹھا تھا، جو جگہ لوگوں سے بچ گئی تھی اس میں سامان رکھا ہوا تھا۔ حالات کچھ ایسے تھے کہ کوئی کسی سے پوچھ نہ سکتا تھا کہ بھیاتم کس درجہ کے مسافر ہو؟ یہ فرسٹ کلاس کا ڈبہ ہے اور پہلے سے دو آدمیوں کے لئے ریزرو ہے۔ 










یہ ان دنوں کی بات ہے جب ملک تقسیم ہوا تھا۔ پاکستان وجود میں آیا ہی تھا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر۔ اس لئے یہی مسلمانوں کا وطن تھا۔ ہندوستان سے مسلمان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جان بچا کر کسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچ رہے تھے۔ 





پاکستان، جو اُن کی تمناؤں کا ثمر نورس تھا۔


پاکستان، جس کے لئے انھوں نے تن من دھن کی قربانی دی تھی۔ 


پاکستان، جسے اسلام کی نشاۃِثانیہ کا گہوارہ بننا تھا۔ پاکستان ان کے لئے سب کچھ تھا۔ دین بھی دنیا بھی۔ اس کا چپہ چپہ ان کے لئے مقدس تھا۔ اس گلِ تازہ کی خاطر انہوں نے خیابان و گلزار سب کچھ چھوڑ دئے تھے۔ ایک لمحے کے لئے بھی یہ نہ سوچا تھا کہ ان کا کیا ہوگا۔ انھیں تو بس یہی ایک خوشی تھی کہ دو صدیاں گذرنے کے بعد وہ دن آئے تھے کہ ارضِ ہمالہ کے ایک گوشے میں لا الہٰ کا پرچم لہرارہا تھا۔ وہ پرچم جو مسلمانوں کی عزت و وقار کا مظہر تھا۔ 





یہ بے چاری بڑھیا بھی اپنا سب کچھ لٹا کر نہ جانے کِس طرح بچتی بچاتی پاکستان پہنچ گئی تھی۔ اسے اتنا ہوش ہی کہاں تھا کہ یہ تمیز کر سکتی کہ وہ کس درجہ میں آکر بیٹھ گئی ہے۔ اُسے تو بس ایک بات معلوم تھی کہ یہ ہمارا ملک ہے، یہ ہماری گاڑی ہے۔ جو دوسرے مُسافر تھے ان کا بھی یہی حال تھا۔ ہر ایک کا چہرہ غم و اَلم کی تصویر تھا۔ کیا کیا کچھ کھویا تھا، کہ اس ملک کو پالیں یہ کون کہتا؟ کیسے کہتا؟ کِس سے کہتا؟ مسلسل صدمات برداشت کرتے کرتے دِلوں میں ناسُور پڑگئے تھے اور زبانیں گُنگ ہو گئی تھی۔ 





گاڑی کو پاکستان کی سرحد میں داخل ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک اسٹیشن پر ٹکٹ چیکر ڈبے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاپی تھی، مشتاق احمد صاحب اپنی آپ بیتی کاروانِ حیات میں لکھتے ہیں کہ ٹکٹ چیکر کو دیکھ کر معاً مجھے خیال آیا کہ مدتوں میں ریلوے کا افسر رہا ہوں۔ دیکھوں یہ چیکر کیا کرتا ہے۔ 





چیکر نے بڑھیا کو دیکھا تو اس سے ٹکٹ کا مطالبہ کیا۔ وہ اللہ کی بندی کسی قابل ہوتی تو کچھ کہتی۔ بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ پڑے اس کے پاس ٹکٹ نہ تھا۔ کسی درجہ کا بھی ٹکٹ نہ تھا۔ ملک کے حالات، بڑھیا کی کیفیت، غم و اندوہ کی فضا ایسی تھی کہ عام معمولات کی پابندی بہت مشکل تھی۔ مشتاق صاحب لکھتے ہیں۔ میں نے بڑی حیرت سے دیکھا کہ چیکر نے اپنی نوٹ بک نکالی اور بلا ٹکٹ سفر پر بڑھیا کا چالان کردیا۔ اس نے رسید کاٹ دی تو بڑھیا بے اختیار اُس سے بولی "بیٹا! میرے پاس کچھ نہیں تو یہ رسید نہ کاٹ"۔





جواب ملا،اماں! اگر ہم بلا ٹکٹ سفر کریں تو ہمارے نئے ملک کا کام کیسے چلے گا؟ تمہارا چالان ہوگا، پیسے داخل ہوں گے۔ تم بہت دکھیاری ہو، تمہاے لئے میرا دل بھی دکھی ہے۔ یہ جرمانہ تم نہیں دو گی میں اپنی طرف سے دیدونگا۔





احساسِ فرض، ملک کی محبت اور بے سہاروں کی خدمت کا یہ ایسا انمول واقعہ تھا کہ سب مسافروں کے دلوں پر نقش ہو گیا۔ آج کوئی نہیں جانتا کہ یہ فرض شناس اور ملک دوست ٹکٹ چیکر کون تھا؟ لیکن دل بے اختیار کہتا ہے کہ وہ بہت بڑا آدمی تھا۔



شاہ بلیغ الدین کی کتاب "روشنی" سے اقتباس۔ 


Read More

Social Profiles

Twitter Facebook Google Plus LinkedIn RSS Feed Email Pinterest

Popular Posts

Blog Archive

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood