Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here

Thursday, 10 October 2013

جھوٹ
















اپنی
روزمرہ زندگی سے جھوٹ کو ایسے نکالو اور اتنی کوشش سے نکالو کہ جیسے تم
کائنات سے شیطان کو نکال رہے ہو۔ آپ جھوٹ کو مکمل طور پر چھوڑ دو۔ چھوٹے
چھوٹے جھوٹ بھی چھوڑ دو تاکہ تمہاری زندگی میں سچ داخل ہو جائے اور جب سچ
داخل ہوجائے گا تو زندگی خودبخود سچ میں ڈھل جائے گی۔ اگر حق بیان کرنا پڑے
تو آپ کو صداقت کے بیان میں تذبذب نہ آئے۔ صداقت کا مطلب ہے کہ جھوٹ کو
برملا جھوٹ کہو اور سچ کو برملا سچ کہواور نہ سمجھ آنے والی بات کو بر ملا
نہ سمجھنے والی بات کہو۔ تذبذب میں نہ پڑنا، ورنہ یہ تلوار کی دھار ثابت
ہوگا اور آپ کو گرادےگا، اس طرح آپ کا سفر نہیں ہوگا۔






(واصف علی واصف، گفتگو

(


Read More

Wednesday, 9 October 2013

انوکھا انصاف







ایک رات قصر شاہی میں ایک دعوت ہوئی۔ اس موقع پر ایک آدمی آیا اور اپنے آپ کو شہزادے کے حضور میں پیش کیا۔ تمام مہمان اس کی طرف دیکھنے لگے۔ انہوں نے دیکھا کہ اس کی ایک آنکھ باہر نکل آئی ہے اور خالی جگہ سے خون بہہ رہا ہے۔ شہزادے نے اس سے پوچھا "کہ تم پر کیا واردات گزری؟"



اس نے جواب دیا "عالی جاہ میں ایک پیشہ ور چور ہوں اور آج شپ جب کہ چاند ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔ میں ساہوکار کی دوکان لوٹنے کے لئے گیا لیکن غلطی سے جلاہے کے گھر میں داخل ہوگیا۔ جوں ہی میں کھڑکی سے کودا میرا سر جلاہے کے کرگھے کے ساتھ ٹکرایا۔ اور میری آنکھ پھوٹ گئی۔ اے شہزادے اب میں اس جلاہے کے معلاملے میں انصاف چاہتاہوں ۔ ۔ ۔"



یہ سن کر شہزادے نے جلاہے کو طلب کیا۔ اور یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ اس کی ایک آنکھ نکال دی جائے۔ جلاہا بولا "ظل سبحانی آپ کا فیصلہ درست ہے کہ میری ایک آنکھ نکالی جانی چاہئے۔ لیکن میرے کام میں دونوں آنکھوں کی ضرورت ہے تاکہ میں اس سے کپڑے کی دونوں اطراف دیکھ سکوں جسے میں بنتا ہوں ۔۔۔ میرے پڑوس میں ایک موچی ہے جس کی دونوں آنکھیں سلامت ہیں اس کے پیشے میں ان دونوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔"



یہ سن کر شہزادے نے موچی کو طلب کیا وہ آیا اور اس کی دو آنکھوں میں سے ایک آنکھ نکال دی گئی۔



اس طرح انصاف کا تقاضا پورا ہوگیا۔





(کلیاتِ خلیل جبران سے اقتباس)


Read More

تھری جی ٹیکنالوجی







گزشتہ کچھ عرصہ سے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں تھری جی یعنی تھرڈ جنریشن ٹیکنالوجی کا بڑا چرچا ہورہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں بھی یہ نظام بہت جلد آرہا ہے۔ لیکن تھری جی نظام حقیقت میں ہے کیا؟ اس بارے میں بہت کم لوگ معلومات رکھتے ہیں۔



مستقبل میں دنیا میں ہونے والی معاشی و معاشرتی تبدیلیوں میں ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کریگی۔ آج دنیا گلوبل ویلیج میں تبدیل ہو چکی ہے جو بلاشبہ انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ممکن ہوسکا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا کوئی بھی شخص آپ سے صرف ایک بٹن کی دوری پر ہے۔ ٹیبل فون،موبائل فون، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ نے انسانی زندگی کا معیار بدل کر رکھ دیا ہے۔ ٹیلی کمیونی کیشن سروسز کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ ان میں جدت لانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ انٹرنیٹ، موبائل اور پھر موبائل پر انٹرنیٹ کے استعمال نے دنیا کو ایک کھلی کتاب کی مانند بدل دیا ہے، لیکن موبائل پر انٹرنیٹ کی کم رفتار اور ویڈیو کانفرنسز جیسی سہولیات کی عدم دستیابی اس تیز رفتار ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ اس خامی پر قابو پانے کے لئے آئی ٹی ماہرین نے سر جوڑا اور ون جی اور ٹو جی کے بعد اب تھری جی جیسی نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی۔



اس وقت دنیا میں تھری جی سب سے جدید ٹیکنالوجی ہے۔ اس سے قبل 1جی یعنی فرسٹ جنریشن (Analog) اور2 جی یعنی سیکنڈ جنریشن(Digital) ٹیکنالوجیز موجود تھی۔ ڈیٹا
ٹرانسفر اور وڈیو ٹرانسمیشن کے لئے سستی اور تیز رفتار سہولت کی ضرورت نےتھری جی کو جنم دیا۔ انٹرنیشنل ٹیلی کمیونی کیشن یونین
(ITU) نے 1980ء میں اس
ٹیکنالوجی پر کام شروع کیا جو تقریباً 15سال میں مکمل ہوا۔ آج یہ ٹیکنالوجی دنیا
بھر کی حکومتوں اور کمیونی کیشن کمپنیوں اولین ترجیع کی حیثیت حاصل کر
چکی ہے۔




سب سے پہلے تجارتی بنیادوں پر اس ٹیکنالوجی کا آغاز یکم اکتوبر 2001ء میں نیپن ٹیلی گراف اینڈ ٹیلی فون نامی کمپنی نے جاپان میں کیا۔ اسی سال دسمبر میں یورپ نے اس جدید ایجاد کو شرف قبولیت بخشا۔ مئی 2002ء میں جنوبی کوریا میں اس ٹیکنالوجی کو بہت
زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی اور وہاں کمپنیوں کی طرف سے باقاعدہ مقابلے کی فضا قائم
ہو گئی۔




جولائی 2002ء میں امریکہ اور
جون 2003ء میں یہ تیزرفتار موبائل انٹرنیٹ سہولت آسٹریلیا پہنچ گئی جس کے بعد چین،
بھارت، شام، عراق، ترکی، کینیڈا اور بنگلہ دیش سمیت دنیا کے تقریباً 130ممالک آج اس ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔




ترقی یافتہ ممالک تھری جی سے
بھی آگے فورجی کی طرف جا رہے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تاحال 2 جی نظام ہی
رائج ہے۔یہ نطام چندسہولیات کےاضافے کے بعد 2.5جی
ہو چکا ہے۔ پاکستان کا
موجودہ سیلولر نظام

GSM
پر استوار ہے جس پر انٹرنیٹ صارفین کا دبائو بڑھنے سے
انٹر نیٹ کی رفتار انتہائی سست ہوتی جارہی ہے۔ 2 جی ٹیکنالوجی 30 تا 90 کلو بائیٹس
فی سکینڈ ڈیٹا ٹرانسفرکی رفتار مہیا کرتی ہیں اوریہ صرف چند ایک بنیادی سہولیات
فراہم کر سکتی ہے جیسے کہ وائس کال، ایس ایم ایس، کانفرنس کال،کالر آئی ڈی وغیرہ جبکہ
2.5جی
 کے تحت ایم ایم ایس بھی بھیجیں جاسکتے ہیں، ویب برائوزنگ کر سکتے ہیں، چھوٹے موٹے آڈیو ویڈیو کلپ، گیمز، اور
ایپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ 2 جی کے مقابلے میں 3جی
نظام کے تحت ڈیٹا ٹرانسفر سپیڈ دو سے تین میگا بائیٹ فی سکینڈ تک پہنچ
جاتی ہے۔




دنیا کے بیشتر ممالک تھری جی ٹیکنالوجی کی مدد سے نقل و حمل، تعلیم، صحت اور مالیاتی خدمات کے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض ممالک فور جی تک بھی رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ بدقسمتی پاکستان میں تاحال تھری جی ٹیکنالوجی کوسوں دور دکھائی دے رہی ہے۔ ہمارے ہاں 2009ء میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے کی باتیں شروع ہوئیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ تاحال تھری جی ٹیکنالوجی کے لائسنس کی نیلامی کا عمل تک شروع نہیں ہو سکا۔








پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً 13 کروڑلگ بھگ ہے جن میں سے 2کروڑ سے زائد صارفین موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے استعمال کے لئے موزوں موبائل فونز سیٹس، خاص طور پر چینی ساختہ سمارٹ فونز کی گرتی ہوئی قیمت موبائل انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ کر رہی ہے۔ آج پاکستان میں اسمارٹ فونز کی مقبولیت میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک تحقیقی رپورٹ میں پاکستان کو ایشیاء کی پانچویں بڑی مارکیٹ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق تھری جی ٹیکنالوجی کے آنے سے موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں 50سے 70 فیصد تک اضافہ ہوجائےگا۔




پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی کب تک آسکے گی؟اسکا انتظار ہرایک کوہے۔ آئی ٹی ماہرین پر امید ہیں کہ رواں سال کے آخر تک تھری جی لائیسنس کے بارے میں کوئی واضح پالیسی سامنے آجائے گی۔ اگرچہ لائیسنس نیلامی کے عمل بعد بھی اس ٹیکنالوجی کے اطلاق میں سال بھر مزید لگ سکتا ہے لیکن کوئی بعید نہیں کہ انٹر نیٹ کی طرح یہ ٹیکنالوجی بھی کسی بپھرے ہوئے سیلاب کی طرح پاکستان میں داخل ہوجائے اور تیزی سے مقبولیت کی منزلیں طے کرنا شروع کردے۔









Read More

امریکی کمپنی نے شمسی توانائی سے پرواز کرنے والا ڈرون تیار کر لیا





ڈرون طیارہ شمسی توانائی پر 65 میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل 5 سال تک پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے









امریکی کمپنی ٹائٹن ایروسپیس نے شمسی توانائی سے مسلسل 5 سال تک پرواز کرنے والا ڈرون طیارہ تیار کیا ہے۔ اس ڈرون طیارے میں 3 ہزار سولر پینلز نصب کئے گئے ہیں جو 7 کلو واٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ طیارہ بغیر کسی بیرونی ایندھن کے شمسی توانائی پر 65 ہزار فٹ کی بلندی پر 65 میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔






کمپنی ذرائع کے مطابق یہ ڈرون طیارہ عسکری اور شہری دونوں مقاصد کے لئے یکساں مفید ہے۔ طیارے میں موسمیاتی اور مواصلاتی سینسرز بھی نصب کئے جائیں گے۔ طیارے کی تیاری پر 20 لاکھ ڈالر لاگت آئی ہے اور اسے اگلے سال نمائش کے لئے پیش کیا جائے گا۔ ٹائتن ایروسپیس کے مطابق نمائش سے قبل ہی کمپنی کو 4 ڈرون طیاروں کے آرڈرز موصول ہو چکے ہیں۔


Read More

Tuesday, 8 October 2013

ہواوے نے پہلا ڈوؤل سم سمارٹ فون پاکستان میں متعارف کروادیا











ہواوے نے اپنا پہلا ڈوؤل سم سمارٹ فون G610 پاکستان میں فروخت کے لئے پیش کر دیاہے۔ پاکستان بھر ایئر لنک کی ایک سالہ وارنٹی کے ساتھ یہ سمارٹ فون 20 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ گزشتہ سال کے وسط میں پاکستانی مارکیٹ میں سمارٹ فونز بزنس کا آغاز کرنے والی کمپنی ہواوے نے سال 2012 میں 5 سمارٹ فونز مارکیٹ میں پیش کئے تھے۔ رواں سال کے آغاز پردنیا کا سب سے پتلا فون ایسنڈ P6  کمپنی نے پاکستان میں متعارف کروایا۔ ساتھ ہی کم قیمت سمارٹ فونز بھی فروخت کے لئے پیش کئے۔



ہواوے G610، پانچ انچ کی حامل Capacitive ٹچ اسکرین، 1.2 گیگا ہرٹز پروسیسر، 1 جی بی ریم، 4 جی بی انٹرنل میموری،  5 میگا پکسل کیمرہ کا بیک کیمرہ، 0.3میگا پکسل کا فرنٹ کیمرہ، فلیش لائیٹ، WiFi، GPS، بلیوٹوتھ، اور مائیکروUSB کی سہولتوں سے مزین ہے۔ 170 گرام وزن کے ساتھ یہ فون سیاہ اور سفید رنگوں میں دستیاب ہے۔ اس کی اسکرین ریزولوشن 540x960پکسلز ہے۔ اس سمارٹ فون میں اینڈرائیڈ 4.2 آپریٹنگ سسٹم دیا گیا ہے۔


Read More

100ڈالر کا ہائی ٹیک کرنسی نوٹ







امریکی حکومت نے 100 ڈالر کا نیا کرنسی نوٹ نئے ہائی ٹیک سیکورٹی فیچرز کے ساتھ جاری کیا ہے۔ حکام نے دعوی کیا ہے کہ اس نوٹ میں تھڑی ڈی سیکورٹی ربن کے علاوہ ایک ایسا لوگو موجود ہے جسکی نقل بنانا ناممکن ہے جبکہ روایتی واٹر مارک اور وہ دھاگہ بھی موجود ہے جو الٹرا وائلٹ روشنی میں گلابی رنگ میں چکمتا ہے۔



تھری ڈی ربن اس نوٹ پر چھاپا نہیں گیا بلکہ اسے نوٹ میں ہی بنا گیا ہے، اس ربن پر 100 کا ہندسہ درج ہے جو نوٹ کو اوپر نیچے یا دائیں بائیں کرنے پر ہلنے لگتا ہے۔
























انٹرنیٹ روزنامے، دی نیوز ٹرائب کے مطابق دستاویزات اور نوٹوں کےلئے کاغذ تیار کرنے والی کمپنی فورٹریس پیپرز کے چیف ایگزیکٹو چیڈوک ویلسنوف کا کہنا ہے کہ سیکورٹی میں اضافے کے حوالے سے یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔



نوٹ پربینجمن فرینکلن کی ابھری ہوئی تصویر چھاپی گئی ہے۔ امریکی سیکرٹ سروس اور محکمہ خزانہ کے مشترکہ پروجیکٹ، 100 ڈالر کے اس نئے نوٹ پر تحقیق اور اسے بنانے میں تقریباً10سال کا عرصہ لگاہے۔ حکام کے مطابق ملک میں 100 ڈالر کے سب سے زیادہ جعلی نوٹ موجود ہیں۔



جدید سافٹ ویئرز، چھپائی اور نقل کی جدید ٹیکنالوجی کی حامل مشینری کی وجہ سے جعلی کرنسی نوٹ چھاپنا آسان ہوگیا ہے۔ شہریوں اور عام دکانداروں کیلئے جعلی کرنسی نوٹوں کی شناخت نہایت مشکل ہے۔


Read More

Monday, 7 October 2013

Qmobile کے دو نئے سمارٹ فونز














QMobile نے صارفین کے لئے اپنے سمارٹ فونز سیریز کے دو نئے ماڈلز جاری کئے ہیں۔ Noir A30 اور Noir A34 کے نام سے لانچ کئے گئے ان سمارٹ فونز کی قیمت بالترتیب 7,800 اور 7,500 روپے رکھی گئی ہے۔ دونوں سمارٹ فونز 3.5 انچ کی اسکرین، دو سم کارڈز اور ڈوول کور پروسیسر کے حامل ہیں۔



Noir A30,ایک 256MB ریم کا حامل سمارٹ فون ہے جسکے ڈوول کور پروسیسر کی قسم تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ انٹرنل میموری 512 ایم بی ہے۔ اس فون میں VGAفرنٹ کیمرا اور 2 میگا پکسل کا بیک کیمرا دیا گیا ہے۔ یہ سمارٹ فون بلیو ٹوتھ، مائیکرو یو ایس بی، وائی فائی اور جی پی ایس جیسی سہولیات سے لانچ کیا گیا ہے جبکہ اسکا آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ 4.2 جیلی بین ہے۔









اس کے مقابلے میں Noir A34 نستاًمعمولی تبدیلیوں کے ساتھ لانچ کیا گیا ہے۔ Noir A34 میں جی پی ایس کی سہولت موجود نہیں۔ باقی تمام فیچرز Noir A30 جیسی رکھی گئیں ہیں۔



Read More

Social Profiles

Twitter Facebook Google Plus LinkedIn RSS Feed Email Pinterest

Popular Posts

Blog Archive

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood