Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here

Thursday, 14 November 2013

خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے











خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو



یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں

یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو



یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے

اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو



گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں

کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو



خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن

اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو



ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال

کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو



خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے

حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو



(احمد ندیم قاسمی​)


Read More

شیخ الاطباء-ابن سینا







شیخ الرئیس بو علی سینا ابن سینا (AVICENNA) کا پورا نام "ابو علی الحسین ابن عبداللہ ابن علی سینا"تھا۔ یہ بخارا کے قریب افشنہ نامی قصبے میں 980ء میں پیدا ہوا۔ تعلیم و تربیت کے لیے اس کے والد نے "شیخ اسمٰعیل زاہد"کے سُپرد کر دیا۔ دس سال کی عمر میں ہی اس نے قرآن حفظ کر لیا اور فنِ ادب پر دسترس حاصل کر لی۔ بعد ازاں اس نے ایک سبزی فروش سے علم ریاضی اور ایک نصرانی عالم "عیسیٰ بن یحییٰ"سے علم طب سیکھا۔ ان علوم کے علاوہ بھی اسے منطق، موسیقی، شاعری، طبیعات، الہیاٰت، ہیئت، کیمیا اور علم الخواص اشیاء پر عبور حاصل تھا۔ شیخ کی علمی قابلیت اور ذہانت کا کچھ ہی دنوں میں دور دور تک شہرہ ہونے لگا۔ انہیں دنوں امیر بخارا "نوح بن منصور" ایک سخت مرض میں مبتلا ہوا۔ اس کے مقرب اطباء علاج سے قاصر رہے۔ امیر کے علاج کی غرض سے ابن سینا کو بلایا گیا۔ اس نے چند ہی دنوں میں امیر بخارا کو اس مرض سے نجات دلا دی۔ امیر بخارا نے خوش ہو کر اسے اپنا طبیب خاص مقرر کر لیا۔



شیخ ابنِ سینا کی پوری زندگی تعلیم و تعّلم اور علاج معا لجہ میں گزری۔ اس کی تصانیف کے مطالعہ سے اس کی ذہانت اور غیر معمولی شخصیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اہل یورپ نے بو علی سینا کے کارناموں کی جو قدر کی اس سے پوری دُنیا واقف ہے۔ اس کی ہمہ گیر شخصیت نے مشرق و مغرب پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں جس کی وجہ سے مورخین نے اسے زبر دست خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور اسے "شیخ الاطباء"اور "شیخ الرئیس" جیسے معزز القاب سے نوازا۔



مشہور جملہ ہے کہ "علم طب ناقص تھا ابن سینا نے اسے مکمل کیا۔"اس نے علمِ طب میں نئے نئے وسائل ایجاد کیے اور جو نقائص اور خامیاں نظر آئیں انہیں دور کر کے اس فن کو ایک مکمل علم کی صورت میں پیش کیا گویا علمِ طب میں اسے مجتہد کا درجہ حاصل ہے۔ ابن سینا پہلا شخص ہے جس نے قناطیر (Catheter)، علم بتر (Amputation) اور دماغی امراض کے لیے برف کی ٹوپی (Ice cap) کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ اس نے آنکھوں کے ناسور کے علاج کا طریقہ



شیخ الرئیس ابن سینا کثیر التصانیف اور ماہر علم جراح تھے۔ "کتاب الشفاء" اور "القانون فی الطب" آج بھی فظعیت کا درجہ رکھتی ہیں۔ "القانون فی الطب"ایک ایسی کتاب ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس کا اصل نسخہ پہلی مرتبہ روم سے 1593ء میں شائع ہوا۔ اس طرح عربی زبان کی یہ پہلی کتاب ہے جو شائع ہوئی۔ اس کے بعد روسی اور فرانسیسی زبان میں بھی اس کے تراجم ہوئے اور صدیوں تک یورپ کی مختلف طبی درس گاہوں میں شامل نصاب رہی۔ مذکورہ بالا کتابوں کے علاوہ بھی "الارشادات"، "کتاب النجات"، "الادویۃ القلبیہ" اور "الار جوزہ فی الطب" "کتاب السیاست"، "تہافتہ التہافتہ"، "منطق المشرکین و القصیدہ المزدوج فی المنطق" کافی مشہور ہیں۔ سرجری سے متعلق اس کا رسالہ"رسالہ فی الفصد"آج بھی ملک کی متعدد لائبریریوں میں محفوظ ہے۔ ابنِ سینا جہاں دیگر علوم اور علمِ طب میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ وہیں فنِ جراحی میں بھی وہ یکتا تھا۔ اتنی خوبیوں کا ما لک 1037ء میں 57 برس کی عمر میں ایران کے شہر ہمدان میں اس دارفانی سے کوچ کرگیا اور اپنے پیچھے بے شمار ایجادات اور تصانیف کا خزانہ چھوڑ گیا تاکہ آنے والی نسلیں اس سے استفادہ کریں۔





(از: طالب انصاری - اجالے ماضی کے)


Read More

جنگل میں محفل مباحثہ








ایک صوفی تھکا ہارا جنگل میں جا رہا تھا اور چلتے چلتے ایک ایسی جگہ پر پہنچ گیا جہاں جنگل کے جانوروں کا اجتماع تھا اور محفل مباحثہ گرم تھی ۔ اس صوفی کو چونکہ جانوروں کی بولیوں کا علم تھا اس لیے وہ رک کر سننے لگا ۔ مباحثے کی صدارت ایک بوڑھے شیر کی سپرد تھی۔




سب سے پہلے لومڑی اسٹیج پر آئی اور کہا برردارنِ دشت سنئے اور یاد رکھئے کہ "چاند سورج سے بڑا ہے اور اس

زیادہ روشن ہے"۔ ہاتھی نے اپنی باری پر کہا " گرمیاں سردیوں کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہیں۔"




جب باگھ اسٹیج پر آیا تو سارے جانور اس کی خوبصورتی سے مسحور ہو گئے ۔ اس نے اپنے پیلے بدن پر سیاہ دھاریوں کو لہرا کر کہا "سنو بھائیو ! دریا ہمیشہ سے اوپر کو چڑھتے ہیں۔" 




صوفی نے شیر ببر سے کہا صاحبِ صدر! یہ سب غضب کے مقرر ہیں اور ان کی وضاحت نے اس محفل کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن میں حیران ہوں کہ سارے مقررین نے سارے ہی بیان غلط دیئے ہیں اور ہر بات الٹ کہی ہے۔ سامعین کو یا تو پتہ نہیں یا انہوں نے توجہ نہیں دی یا پھر وہ لا تعلقی سے سنتے رہے ہیں ۔ ایسی احمقانہ اور غلط باتیں کرنے کی کس نے اجازت دی۔





شیر نے کہا " صوفی صاحب ! یہ واقعی ایک عیب دار بات ہے اور شرمناک بات ہے لیکن ہمارے سامعین انٹرٹینمنٹ مانگتے ہیں انلائنمنٹ نہیں ۔ پتہ نہیں ہم کو یہ عادت کیسے پڑی لیکن پڑ گئی ہے صوفی صاحب "۔ 





(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)


Read More

Wednesday, 13 November 2013

عمر ؓ ثانی - عمر بن عبدالعزیز








عمر بن عبدالعزیز خلفائے بنو امیہ میں ایک قابل عزت نام ہے۔ ان کے دور خلافت کو خلیفہ ثانی کے دورخلافت کے مماثل قرار دیا جاتا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز کی والدہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پوتی تھی۔ اُن پر نانہال کا بڑا اثر پڑا تھا۔ عادات و خصائل میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کافی ملتے جلتے ہیں۔ عزت و احترام کا جو اونچا مقام انہیں نصیب ہوا، خلفائے بنی اُمیہ میں اور کسی کو نصیب نہ ہوسکا۔ آج بھی لوگ اُن کا نام بڑی عزت سے لیتے ہیں۔ 





عمر بن عبدالعزیز خلافت سے قبل عیش وآرام کی زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے زمانے کے سب سے زیادہ خوش لباس شحص سمجھے جاتے تھے۔ لیکن خلیفہ مقرر ہوتے ہی اُن کا انداز بالکل بدل گیا۔ سیدھی سادی زندگی اختیار کرلی۔ ملکی انتظام کے جن قاعدوں اور اصولوں پر خلفائے راشدین کے زمانے میں عمل کیا جاتا تھا خلفائے بنو امیہ نے اُن پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے اُنہیں دوبارہ رواج دیا اور لوگوں کو ایسا معلوم ہوا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کا مبارک زمانہ پلٹ آیا ہے۔





عمر بن عبدالعزیز عدل و انصاف کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ سچائی کے راستے سے ذرا اِدھر اُدھر نہیں ہوتے تھے اور کسی حالت میں بھی اعتدال کا دامن ہاتھ سے چُھوٹنے نہیں پاتاتھا۔ اِس کےساتھ ساتھ وہ جس قسم کی زندگی بسر کرتے تھے اُس میں بدوؤں کی سی سادگی نظر آتی تھی۔ 





اُن کی خلافت کا انداز خلفائے بنو امیہ سے یکسر جدا تھا۔ اپنی ذمہ داریوں کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ ایک رات عشاء کی نماز کے بعد دعا مانگنے کے لئے ہاتھ اُٹھائے تو جی بھر آیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ بیوی نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے۔ "مجھے مسلمانوں اور غیر مسلم ذمیوں کا حاکم بنا دیا گیا ہے۔ میری حکومت میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں پیٹ بھرنے کو روٹی میسر نہیں۔ اور ایسے بھی ہیں جنہیں تن ڈھانکنے کو کپڑا نہیں۔ کوئی بیمار اپنے بستر پر پڑا کراہ رہا ہے لیکن علاج کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں۔ کسی مظلوم پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے اور کوئی نہیں جو اُس کی مدد کرے۔ کوئی بے وطن قید خانے میں بیٹھا اپنے بچوں کو یاد کررہا ہے اور کوئی سفید ریش بوڑھا اِس خیال سے بیکل ہے کہ کوئی اُسے سہارا دینے والا نہیں۔ پھر ایسے لوگ بھی ہیں جن کا کنبہ بڑا ہے اور آمدنی کم۔ اِس لئے بڑی مشکل سے گزر ہوتی ہے۔ غرض اِس قسم کے مصیبت زدہ کثرت سے ہیں جو مختلف ملکوں اور صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب اللہ مجھ سے سوال کرےگا کہ تم نے اِن لوگوں کے لئے کیا کیا، تو میں کیا جواب دوں گا؟"





عمر بن العزیز نے خلیفہ بننے کے بعد انتہائی سادہ زندگی بسر کی اور اپنے گزارے کے لئے خلیفہ ولید کے زمانے میں ملی ہوئی جاگیر سے بھی دست بردار ہوگئے۔ ساری جمع جتھا حتیٰ کہ بیوی کا سارا زیور بھی بیت المال میں جمع کروا دیا اور اپنے گزارے کے لئے روزانہ دو درہم بیت المال سے لیتے تھے۔ انہیں میں سارے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ 


Read More

Tuesday, 12 November 2013

آسٹریلیا میں بطخوں کی ماڈلنگ







موجودہ دور میں روزانہ نت نئے فیشن متعارف کئے جارہے ہیں اورلوگ خود کو ان کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی کوششوں میں نظر آتے ہیں۔ دنیا میں کچھ سر پھرے ایسے بھی ہیں جنہوں نے خود تیار ہونے کیساتھ ساتھ جانوروں کو بھی سجانا سنوارنا شروع کر دیا ہے۔ کچھ ایسا ہی رنگ آسٹریلیا میں نظر آیا جہاں بطخوں نے فیشن کی دنیا میں قدم رکھ کر ماڈلنگ کا آغاز کیا۔







آسٹریلیا میں بطخوں نے اپنے لئے ڈیزائن کر دہ ماہر ڈیزائنرز کے ملبوسات اور ہیٹس پہن کر گھاس اور پھولوں سے سجے ریمپ پرسپر ما ڈلز کی طرح واک کر کے شائقین سے داد وصول کی۔ اس منفرد ترین فیشن شو میں بطخوں نے روایتی دولہا دلہن کا روپ دھار کر بھی ماڈلنگ کی اور اپنے ننھے قدموں سے ریمپ پر چل کر اپنی اس پوشیدہ صلا حیت کا بھی اظہار کیا جو سب کو بے حد پسند آئی۔





Read More

Monday, 11 November 2013

رکوع میں جانے کا فن







میں نے ندی کے کنارے لڑکیوں کو پانی بھرتے دیکھا اور میں دیر تک کھڑا ان کو دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ پانی بھرنے کے لئے جھکنا پڑتا ہے اور رکوع میں جائے بغیر پانی نہیں بھرا جا سکتا. ہر شخص کو رکوع میں جانے کا فن اچھی طرح سے آنا چاہیے تاکہ وہ زندگی کی ندی سے پانی بھر سکے اور خوب سیر ہو سکے…. لیکن افسوس کی بات ہے کہ انسان جھکنے کا اور خم کھانے کا آرٹ آہستہ آہستہ بھول رہا ہے اور اس کی زبردست طاقتور انا اس کو یہ کام نہیں کرنے دیتی. یہی وجہ ہے کہ ساری دعائیں اور ساری عبادت اکارت جا رہی ہے اور انسان اکھڑا اکھڑا سا ہو گیا ہے -




اصل میں زندگی ایک کشمکش اور جدوجہد بن کر رہ گئی ہے.اور اس میں وہ مٹھاس، وہ ٹھنڈک اور شیرینی باقی نہیں رہی جو حسن اور توازن اور ہارمنی کی جان تھی. اس وقت زندگی سے چھلکنے اور رکوع کرنے کا پرسرار راز رخصت ہو چکا ہے اور اس کی جگہ محض جدوجہد باقی رہ گئی ہے. ایک کشمکش اور مسلسل تگ و تاز-



لیکن ایک بات یاد رہے کہ یہ جھکنے اور رکوع میں جانے کا آرٹ بلا ارادہ ہو ورنہ یہ بھی تصنع اور ریا کاری بن جائے گا اور یہ جھکنا بھی انا کی ایک شان کہلانے لگے گا.



(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)


Read More

Saturday, 9 November 2013

یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔۔







ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ خوشحالی کے دن تھے۔ ایک دن بادشاہ کی ملاقات ایک درویش صفت بزرگ سے ہوئی، بزرگ بہت نیک اور پرہیزگار تھے۔ بادشاہ اُن سے بہت عزت سے پیش آیا اور ملاقات کے آخر میں اس نے فرمائش کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز، تعویز، وظیفہ وغیرہ لکھ کر دیں جو انتہائی مشکل میں میرے کام آئے۔ بزرگ خاموش رہے لیکن بادشاہ کا اصرار بڑھا تو انہوں نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ لکھ کر دیا اور کہا کہ اس کاغذ کو اُسی وقت کھولنا جب تم سمجھو کہ بس اب اس کے آگے تم کچھ نہیں کر سکتے یعنی انتہائی مشکل میں۔




قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ملک پر حملہ ہو گیا اور دشمن کی فوج نے بادشاہ کی حکومت کو الٹ پلٹ کے رکھ دیا۔ بادشاہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور وہ بھاگ کر کسی جنگل میں ایک غار میں چھپ گیا۔ دشمن کے فوجی اس کے پیچھے تھے اور وہ تھک کر اپنی موت کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں درویش بابا کا دیا ہوا کاغذ یاد آیا، اس نے اپنی جیبیں ٹٹولیں، خوش قسمتی سے وہ اس کے پاس ہی تھا۔ سپاہیوں کے جوتوں کی آہٹ اسے قریب آتی سنائی دے رہی تھی، اب اس کے پاس کاغذ کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب اس نے وہ کاغذ کھولا تو اس پر لکھا تھا "یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔!"




بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ بزرگ نے یہ کیا کھیل کھیلا ہے، کوئی اسمِ اعظم ہوتا یا کوئی سلیمانی ورد!۔ ۔ ۔ لیکن افسوس وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے تحریر کو دوبارہ پڑھا، سہہ بارہ پڑھا۔۔۔۔  کچھ دیر تو بادشاہ سوچتا رہا، غور کرتا رہا کہ کیا کرے پھر آخر اس نے اپنی تلوار اٹھائی اور سپاہیوں کا انتظار کرنے لگا۔ سپاہی آئے، اس نے مقابلہ کیا ا ور وہ بچ نکلا۔





اس کے بعد ایک لمبی داستان ہے کہ وہ کس طرح کسی دوسرے ملک میں گیا، وہاں اس نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا، اسے ہتھیاروں سے لیس کیا اور آخر کار ایک وقت آیا کہ اس نے اپنا ملک واپس لے لیا اور پھر سے اپنے تخت پہ جلوہ نشیں ہوا۔ اس کی بہادری کے قصے دور دور تک مشہور ہو گئے اور رعایا میں اس کا خوب تذکرہ ہوا۔ اس کے دربار میں اور دربار سے باہر بھی لوگ صرف اپنے بہادر بادشاہ کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اتنا بول بالا دیکھ کر بادشاہ کے دل میں غرور پیدا ہوا اور وہ اپنی شجاعت پر اور سلطنت پر تھوڑا مغرور ہوا ہی تھا کہ اچانک اس کے دل میں بزرگ کا لکھا ہوا فقرہ آیا کہ "یہ وقت بھی گزر جائے گا" ۔ ۔ ۔ ۔!!


Read More

Social Profiles

Twitter Facebook Google Plus LinkedIn RSS Feed Email Pinterest

Popular Posts

Blog Archive

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood