Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here

Wednesday, 30 October 2013

قرآن ایک عظیم نعمت








اللہ تعالٰی نے انسانوں کے لئے بے شمار نعمتیں دنیا میں پیدا کی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی نعمت قرآن مجید ہے۔قرآن مجید ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ دنیا میں ہم کس طرح زندگی گزاریں تاکہ ہماری دنیا بھی اچھی ہو اور آخرت بھی اور مرنے کے بعد اللہ تعالٰی ہم کو جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائیں۔





یہ سب کسی بھی طور مشکل نہیں ہے۔ ہمیں کرنا صرف یہ ہے کہ ہم قرآن مجید سمجھ کر پڑھیں اور اس پر عمل کریں۔ اس میں جن باتوں کا حکم ہے اسے پورا کریں اور جن چیزوں سے روکا گیا ہے، اس سے خود بھی بچنے کی کوشش کریں اور دوسروں کو بھی تلقین کریں۔ ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ قرآن مجید کی تعلیم ہر جگہ پھیلانے کی کوشش کریں۔ 





اللہ تعالٰی ہمارا مددگار ہو۔ آمین۔ 


Read More

Tuesday, 29 October 2013

حضور صلى الله عليه و سلم کے محراب میں کھڑے ہو کر نفل پڑھنا







اس وقت مجھے وہ سہ پہر یاد آ رہی ہے جب شہاب کا بازو کھینچ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی تھی کہ چلو اصحاب صفہ کے چبوترے پر تم بھی جا کر نفل ادا کرلو -


میں وہاں بڑی مشکل سے جگہ بنا کر آیا ہوں – اور ایک عرب صوفی کو اپنے پاکستانی صوفی ہونے کا یقین دلا کے آیا ہوں کہ ابھی میں اپنے بڑے بھائی کو لاتا ہوں - لیکن شہاب نے یہ کہہ کر اپنا بازو چھڑا لیا کہ اتنے بڑے مقام پر اور اتنی اونچی جگہ پر بیٹھ کر میں نفل نہیں ادا کر سکتا… میں یہیں ٹھیک ہوں بلکہ یہ بھی کسی کے کرم سے رعایت ملی ہوئی ہے کہ میں یہاں بیٹھا ہوں -

مجھے اس کی بات پر غصہ بھی آیا ور کفران نعمت پر افسوس بھی ہوا – لیکن وہ ایسا ہی تھا -

صبح بھی جب میں نے اس کو بتایا کہ چلو حضور کے محراب میں لوگ نفل ادا کر رہے ہیں تم بھی میرے ساتھ چلو میں جگہ بنوا دوں گا اور ایک دو دھکے لگا کر محراب خالی کروا دونگا لیکن وہ نہیں مانا اور شرمندہ سا ہو کر کہنے لگا:

” یار حضور کے محراب میں کھڑے ہو کر نفل پڑھنا بڑے دل گردے کا کام ہے وہاں تو حضرت ابو بکر کو بھی تھرتھری آ گئی تھی میرا کیا منہ ہے جو اس جگہ کے قریب بھی جاؤں- میری شکل دیکھتے ہو یہ اس محراب میں کھڑے ہونے کے قابل ہے تم جاؤ اور وہاں جا کر نماز پڑھو اس مسجد کی بہاریں جتنی بھی لوٹ سکتے ہو لوٹ لو– ایسا موقع بار بار ہاتھ نہیں آتا -


ہر ہر مصلے سے، ہرکونے سے، اور ہر صف سے، جہاں جہاں موقع ملے اپنا حصہ بٹور لو اور جو حصہ تمہارا نہیں بھی ہے وہ بھی ہتھیا لو – ایسا چانس روز نہیں ملا کرتا – “


(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)


Read More

Monday, 28 October 2013

میں 90 کی دھائی میں پیدا ہوا






میں 90 کی دھائی میں پیدا ہوا

جب سب سے مشہور کھیل “چھپن چھپائی“ ، “برف پانی “ اور “اونچ نیچ“ ہوتے تھے

جب سب سے بہترین میٹھے “پولکا“ ، “پاپ کارن“ “جوبلی“ اور “میچل ٹافی“ ہوتے تھے
جب پیپسی چھ روپے کی ہوا کرتے تھی

جب ہم ساڑھے سات بجے اسکول جانے سے پہلے پی ٹی وی پر کارٹون دیکھتے تھے

اور

شام سات بجے “ننجا ٹرٹلز“ اور “کیپٹن پلینٹ“ دیکھتے تھے

جب ہمیں موویز دیکھنے کی اجازت نہ ہوتی تھی اور ہم پھر بھی کسی طرح مینج کر لیتے تھے

جب ہمارا بہترین اثاثہ “ببل گمرز شوز“ ہوتے تھے

جب پچاس روپے عیدی ملنے کا مطلب ہوتا تھا کہ آپ امیر ہو گئے ہو

جب ہم “ اکڑ بکڑ بمبے بو “ سے فیصلے کیا کرتے تھے

جب ہمارے لیے سب سے خوفناک چیزیں “انجیکشنز“ ، “تاریک کمرے“ اور “قاری صاحب“ ہوا کرتے تھے

جب “ ونڈر بریڈ کی بی ایم ایکس سائیکل “ پورے محلے میں جیلسی کا سبب ہوتی تھی

جب کرکٹ کھیلتے ہوئے اصول ہوا کرتا تھا کہ گھر میں جانا آئوٹ ہے اور جو مارے گا وہی لے کر آئے گا

بچگانہ لیکن بہترین یادیں

نئی نسل یہ چیزیں کبھی انجوائے نہیں کرے گی

(خوبصورت یادیں - اجد تاج)


Read More

Saturday, 26 October 2013

ٹیکنالوجی اور ہمارے سماجی رویے







لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ہے کہ اس سے فاصلے کم ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے رابطے میں رہتے ہیں۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سے لوگوں کے دلوں سے محبت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟پہلے لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے ملتے لیکن ان کے دلوں مین محبت،خلوص اور چاہت ہوتی تھی۔لیکن آج کے دور میں آپ کسی سے روزانہ دو گھنٹے بھی فون پر بات کرتے ہوں لیکن اگر کبھی وہ غلطی سے کوئی نصحیت کر دے یا کوئی مذاق کر دے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔اور برداشت نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ آپ کے دل میں اس کے لیے محبت نہیں۔




لوگ اس کا الزام زمانے کو دیتے ہیں کہ زمانہ ایسا ہے۔زمانہ بہت برا آ گیا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ انسان زمانے کو برا بھلا کہتا ہے جبکہ میں زمانے کو بدلتا رہتا ہوں۔زمانے کو برا کہنا غلط ہے بلکہ اس کی وجہ ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال کرنے کا طریقہ ہے۔جیسے پہلے عید آتی تھی تو ہم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ اور گفٹ بھیجتے۔ تھے جب بھی آپ کسی کے لیے گفٹ لینے جاتے ہیں تو اس کی پسند اور ناپسند کو ذہن میں رکھتے ہیں۔لیکن آج کے دور میں آپ صرف ایک ایس-ایم -ایس کر دیتے ہیں۔جس پر ایک سیکنڈ(لمحہ) لگتا ہو گا۔ایسا لگتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے ہمارے دلوں سے پیار محبت اور خلوص کو ختم کر دیا ہے۔






ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہیں لیکن ہم اپنے پیاروں کو بھولتے جا رہے ہیں ہمیں انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کوئی آواز دیتا ہے تو ہم اس کی سنی ان سنی کر دیتے ہیں ہم ہزاروں میل بیٹھے دوست کے زکام پر پریشان ہوجاتے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کے احوال سے اکثر نابلد رہتے ہیں۔ لیکن سماجی روابط پر موجود دوستوں کی تمام ایکٹیویٹیز سے باخبر رہتے ہیں۔ ایک دوست کا فیس بک پر اسٹیٹس پڑھا جو کچھ یوں تھا کہ:


آج سارا دن بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے سوشل نیٹ ورکس کو استعمال نہ کرپایا تو سوچا کہ گھر والوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں۔ آج پتہ چلا، اچھے لوگ ہیں۔

ٹیکنالوجی کا استعمال بہت اچھی بات ہے خاص کر سوشل نیٹ ورکس نے تو سماجیات کے شعبے میں انقلاب برپا کردیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ورچوئل سوشل نیٹ ورکس کے ساتھ اپنے آس پاس کے سماجی روابط اور رشتوں کو بھی مضبوط بنائیں۔




(مصنفہ: عدیبہ راجہ - قلم کاروان)


Read More

گناہوں کی دوا







حضرت شبلی نے ایک حکیم سے کہا’’مجھے گناہوں کا مرض ہے اگراس کی دوا بھی آپ کے پاس ہو تو عنایت کیجئے، یہاں یہ باتیں ہورہی تھیں اورسامنے میدان میں ایک شخص تنکے چننے میں مصروف تھا،اس نے سراٹھاکر کہا کہ جوتجھ سے لولگاتے ہیں وہ تنکے چنتے ہیں‘‘ شبلی! یہاں آؤ میں اس کی دوابتاتاہوں۔"




حیاکے پھول، صبروشکر کے پھل، عجز ونیاز کی جڑ، غم کی کونیل، سچائی کے درخت کے پتے، ادب کی چھال، حسن اخلاق کے بیج یہ سب اشیا لیکرریاضت کے باون دستہ میں کوٹنا شروع کرو اوراشک پشیمانی کاعرق ان میں روز ملاتے رہو۔ پھر ان سب کو دل کی دیگچی میں بھرکر شوق کے چولھے پرپکاؤ جب پک کرتیار ہوجائے توصفائے قلب کی صافی میں چھان کر شیریں زبان کی شکر ملاکرمحبت کی تیزآنچ دینا، جس وقت تیارہوکر اترے تو اس کو خوف خداکی ہوا سے ٹھنڈاکرکے استعمال کرنا‘‘



حضرت شبلی نے نگاہ اٹھاکر دیکھاتو وہ اللہ کا دیوانہ غائب ہوچکا تھا۔





( سچے موتی۸/۳۸۲)


Read More

ان پڑھ سقراط








میرے پاس ولایت اور یہاں کی بے شمار ڈگریاں ہیں ۔ لیکن اس سب علم اور ڈگریوں کے با وصف میرے پاس وہ کچھ نہیں ہے جو ایک پینڈو مالی کے پاس ہوتا ہے ۔ یہ اللہ کی عطا ہے ۔ بڑی دیر کی بات ہے ہم سمن آباد میں رہتے تھے ، میرا پہلا بچہ جو نہایت ہی پیارا ہوتا ہے وہ میری گود میں تھا ۔ وہاں ایک ڈونگی گراؤنڈ ہے جہاں پاس ہی صوفی غلام مصطفیٰ تبسم صاحب رہا کرتے تھے ، میں اس گراؤنڈ میں بیٹھا تھا اور مالی لوگ کچھ کام کر رہے تھے۔ ایک مالی میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ ماشاءاللہ بہت پیارا بچہ ہے ۔ اللہ اس کی عمر دراز کرے ۔ وہ کہنے لگا کہ جی جو میرا چھوٹے سے بڑا بیٹا ہے وہ بھی تقریباً ایسا ہی ہے ۔ میں نے کہا ماشاء اللہ اس حساب سے تو ہم قریبی رشتے دار ہوئے ۔ وہ کہنے لگا کہ میرے آٹھ بچے ہیں ۔ میں اس زمانے میں ریڈیو میں ملازم تھا اور ہم فیملی پلاننگ کے حوالے سے پروگرام کرتے تھے ۔ جب اس نے آٹھ بچوں کا ذکر کیا تو مین نے کہا اللہ ان سب کو سلامت رکھے لیکن میں اپنی محبت آٹھ بچوں میں تقسیم کرنے پر تیار نہیں ہوں ۔ وہ مسکرایا اور میری طرف چہرہ کر کے کہنے لگا




” صاحب جی محبت کو تقسیم نہیں کیا کرتے ۔ محبت کو ضرب دیا کرتے ہیں ۔ “




وہ بلکل ان پڑھ آدمی تھا اور اس کی جب سے کہی ہوئی بات اب تک میرے دل میں ہے ۔




میں اکثر سوچتا ہوں کہ واقعی یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی کے پاس ہنر یا عقل کی ڈگری ہو ، یہ ضروری نہیں کہ سوچ و فکر کا ڈپلومہ حاصل کیا جائے ۔



(از: اشفاق احمد - اقتباس: زاویہ 2) 


Read More

Friday, 25 October 2013

چل انشاء اپنے گاؤں میں






چل انشاء اپنے گاؤں میں
یہاں اُلجھے اُلجھے رُوپ بہت

پر اصلی کم، بہرُوپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رُکنا

جہاں سایہ کم ہو، دُھوپ بہت
چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں
کیوں تیری آنکھ سوالی ہے؟

یہاں ہر اِک بات نرالی ہے
اِس دیس بسیرا مت کرنا

یہاں مُفلس ہونا گالی ہے
چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں
جہاں سچے رشتے یاریوں کے

جہاں گُھونگھٹ زیور ناریوں کے
جہاں جھرنے کومل سُکھ والے

جہاں ساز بجیں بِن تاروں کے
چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں





(ابن انشاء)


Read More

Social Profiles

Twitter Facebook Google Plus LinkedIn RSS Feed Email Pinterest

Popular Posts

Blog Archive

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood