Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here

Wednesday, 9 October 2013

امریکی کمپنی نے شمسی توانائی سے پرواز کرنے والا ڈرون تیار کر لیا





ڈرون طیارہ شمسی توانائی پر 65 میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل 5 سال تک پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے









امریکی کمپنی ٹائٹن ایروسپیس نے شمسی توانائی سے مسلسل 5 سال تک پرواز کرنے والا ڈرون طیارہ تیار کیا ہے۔ اس ڈرون طیارے میں 3 ہزار سولر پینلز نصب کئے گئے ہیں جو 7 کلو واٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ طیارہ بغیر کسی بیرونی ایندھن کے شمسی توانائی پر 65 ہزار فٹ کی بلندی پر 65 میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔






کمپنی ذرائع کے مطابق یہ ڈرون طیارہ عسکری اور شہری دونوں مقاصد کے لئے یکساں مفید ہے۔ طیارے میں موسمیاتی اور مواصلاتی سینسرز بھی نصب کئے جائیں گے۔ طیارے کی تیاری پر 20 لاکھ ڈالر لاگت آئی ہے اور اسے اگلے سال نمائش کے لئے پیش کیا جائے گا۔ ٹائتن ایروسپیس کے مطابق نمائش سے قبل ہی کمپنی کو 4 ڈرون طیاروں کے آرڈرز موصول ہو چکے ہیں۔


Read More

Tuesday, 8 October 2013

ہواوے نے پہلا ڈوؤل سم سمارٹ فون پاکستان میں متعارف کروادیا











ہواوے نے اپنا پہلا ڈوؤل سم سمارٹ فون G610 پاکستان میں فروخت کے لئے پیش کر دیاہے۔ پاکستان بھر ایئر لنک کی ایک سالہ وارنٹی کے ساتھ یہ سمارٹ فون 20 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ گزشتہ سال کے وسط میں پاکستانی مارکیٹ میں سمارٹ فونز بزنس کا آغاز کرنے والی کمپنی ہواوے نے سال 2012 میں 5 سمارٹ فونز مارکیٹ میں پیش کئے تھے۔ رواں سال کے آغاز پردنیا کا سب سے پتلا فون ایسنڈ P6  کمپنی نے پاکستان میں متعارف کروایا۔ ساتھ ہی کم قیمت سمارٹ فونز بھی فروخت کے لئے پیش کئے۔



ہواوے G610، پانچ انچ کی حامل Capacitive ٹچ اسکرین، 1.2 گیگا ہرٹز پروسیسر، 1 جی بی ریم، 4 جی بی انٹرنل میموری،  5 میگا پکسل کیمرہ کا بیک کیمرہ، 0.3میگا پکسل کا فرنٹ کیمرہ، فلیش لائیٹ، WiFi، GPS، بلیوٹوتھ، اور مائیکروUSB کی سہولتوں سے مزین ہے۔ 170 گرام وزن کے ساتھ یہ فون سیاہ اور سفید رنگوں میں دستیاب ہے۔ اس کی اسکرین ریزولوشن 540x960پکسلز ہے۔ اس سمارٹ فون میں اینڈرائیڈ 4.2 آپریٹنگ سسٹم دیا گیا ہے۔


Read More

100ڈالر کا ہائی ٹیک کرنسی نوٹ







امریکی حکومت نے 100 ڈالر کا نیا کرنسی نوٹ نئے ہائی ٹیک سیکورٹی فیچرز کے ساتھ جاری کیا ہے۔ حکام نے دعوی کیا ہے کہ اس نوٹ میں تھڑی ڈی سیکورٹی ربن کے علاوہ ایک ایسا لوگو موجود ہے جسکی نقل بنانا ناممکن ہے جبکہ روایتی واٹر مارک اور وہ دھاگہ بھی موجود ہے جو الٹرا وائلٹ روشنی میں گلابی رنگ میں چکمتا ہے۔



تھری ڈی ربن اس نوٹ پر چھاپا نہیں گیا بلکہ اسے نوٹ میں ہی بنا گیا ہے، اس ربن پر 100 کا ہندسہ درج ہے جو نوٹ کو اوپر نیچے یا دائیں بائیں کرنے پر ہلنے لگتا ہے۔
























انٹرنیٹ روزنامے، دی نیوز ٹرائب کے مطابق دستاویزات اور نوٹوں کےلئے کاغذ تیار کرنے والی کمپنی فورٹریس پیپرز کے چیف ایگزیکٹو چیڈوک ویلسنوف کا کہنا ہے کہ سیکورٹی میں اضافے کے حوالے سے یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔



نوٹ پربینجمن فرینکلن کی ابھری ہوئی تصویر چھاپی گئی ہے۔ امریکی سیکرٹ سروس اور محکمہ خزانہ کے مشترکہ پروجیکٹ، 100 ڈالر کے اس نئے نوٹ پر تحقیق اور اسے بنانے میں تقریباً10سال کا عرصہ لگاہے۔ حکام کے مطابق ملک میں 100 ڈالر کے سب سے زیادہ جعلی نوٹ موجود ہیں۔



جدید سافٹ ویئرز، چھپائی اور نقل کی جدید ٹیکنالوجی کی حامل مشینری کی وجہ سے جعلی کرنسی نوٹ چھاپنا آسان ہوگیا ہے۔ شہریوں اور عام دکانداروں کیلئے جعلی کرنسی نوٹوں کی شناخت نہایت مشکل ہے۔


Read More

Monday, 7 October 2013

Qmobile کے دو نئے سمارٹ فونز














QMobile نے صارفین کے لئے اپنے سمارٹ فونز سیریز کے دو نئے ماڈلز جاری کئے ہیں۔ Noir A30 اور Noir A34 کے نام سے لانچ کئے گئے ان سمارٹ فونز کی قیمت بالترتیب 7,800 اور 7,500 روپے رکھی گئی ہے۔ دونوں سمارٹ فونز 3.5 انچ کی اسکرین، دو سم کارڈز اور ڈوول کور پروسیسر کے حامل ہیں۔



Noir A30,ایک 256MB ریم کا حامل سمارٹ فون ہے جسکے ڈوول کور پروسیسر کی قسم تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ انٹرنل میموری 512 ایم بی ہے۔ اس فون میں VGAفرنٹ کیمرا اور 2 میگا پکسل کا بیک کیمرا دیا گیا ہے۔ یہ سمارٹ فون بلیو ٹوتھ، مائیکرو یو ایس بی، وائی فائی اور جی پی ایس جیسی سہولیات سے لانچ کیا گیا ہے جبکہ اسکا آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ 4.2 جیلی بین ہے۔









اس کے مقابلے میں Noir A34 نستاًمعمولی تبدیلیوں کے ساتھ لانچ کیا گیا ہے۔ Noir A34 میں جی پی ایس کی سہولت موجود نہیں۔ باقی تمام فیچرز Noir A30 جیسی رکھی گئیں ہیں۔



Read More

پاکستان کا سب سے بڑا سمندری جزیرہ - جزیرہ استولا







جزیرہ استولا جسے جزیرہ ہفت تلار یا 'سات پہاڑوں کا جزیرہ' بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کا ایک غیر آباد جزیرہ ہے۔ پسنی کے ساحل سے قریب یہ جزیرہ تقریباً 40کلو میٹر بحیرہ عرب کے اندر واقع  پاکستان کا سب سے بڑا سمندری جزیرہ ہے۔ تقریباً 6.7کلومیٹر طویل اور 2.3کلو میٹر چوڑے اس جزیرہ کا بلند ترین مقام سطح سمندر سے 75میٹر (246فٹ) ہے۔ یہ جزیرہ پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کا حصہ ہے۔ پسنی کے ساحل سے اسکی مسافت تقریباً 5 گھنٹے ہوتی ہے۔ جزیرہ تک پہنچنے کے لئے پسنی سے موٹر بوٹ حاصل کی جاسکتی ہیں۔











تاریخ میں اس جزیرہ کا ذکر ایڈمرل Nearchos کے حوالے سے ملتا ہے جسے 325قبل مسیح میں سکندراعظم نے بحیرہ عرب اور خلیج فارس کے ساحلی علاقوں کی کھوج میں روانہ کیا تھا۔ 1982 میں حکومت پاکستان نے یہاں گیس سے چلنے والا ایک روشنی کا مینار (لائٹ ہاؤس) بحری جہازوں کی رہنمائی کےلئے تعمیر کیا تھا جسے بعد میں 1987 میں شمسی توانائی کے نظام میں تبدیل کردیا۔ ستمبر سے مئی کے مہینوں کے درمیان ماہی گیر یہاں کیکڑوں اور جھینگوں کے شکار کے لئے آتے ہیں۔ 









یہاں ایک چھوٹی مسجد بھی ہے جسے حضرت خضر منصوب سمجھا جاتاہے۔ ہندؤں کے ایک پرانے مندر کے کھنڈرات کے آثار بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔


















Read More

Sunday, 6 October 2013

علم کے حقیقی فوائد







حضرات حاتم اصم خراسانی رحمہ اللہ اپنے دورکے ظاہری علوم میں دسترس حاصل کرنے کے بعد کسی دارالعلوم میں مسند تدریس پر فائز ہونے کی بجائے علم کی خوشبو سونگھنے اور اس کی لذت سے لطف اندوز ہونے کے لئے حضرت شقیق بلخی کی صحبت میں چلے گئے۔ وہاں تیس سال تک صدق و صفا، تسلیم و رضا، زہد و ورع، ایثار و قربانی، تواضع و انکساری، ہمدردی و غمگساری،صبر و حلم، عفو و کرم، طیب الکلام، افشاء السلام کا درس لیتے رہے۔ ایک دن ان کے شیخ محترم نے ان سے پوچھا: اے حاتم! تمہیں میرے حلقہ درس میں شامل ہوئے تیس برس گزرگئےہیں بتاؤ اس عرصے میں تم نے علم سے کیا کیا فوائد حاصل کیے ہیں۔



انہوں نے جواب دیا: "حضرت! میں نے مخلوق کی حالت پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہر انسان کا کوئی نہ کوئی محبوب اور معشوق ہے، جس سے وہ محبت اور عشق کرتا ہے۔ لیکن اس کا کوئی محبوب تو مرض الموت تک اس کی محبت کا دم بھرتا ہے اور کوئی قبر کے کنارے تک ساتھ رہتا ہے۔ پھر اسے قبر کی تاریک کوٹھری میں بند کرکے واپس آجاتا ہے۔ لیکن گھڑی بھر اس کے ساتھ نہیں لیٹتا، لہٰذامیں نے سوچا کہ میں اس کو اپنا محبوب بناؤں جو قبر میں میرے ساتھ داخل ہو اور وہاں میری وحشت اور تنہائی کو دور کرے۔ میرا غمگسار اور ساتھی بنے۔ چنانچہ میں نے اعمال صالحہ کو اپنا محبوب بنالیا کیونکہ ان کے علاوہ کوئی بھی قبر میں داخل ہوتا اور نہ اندر کسی طرح کی روشنی کا ہی اہتمام کرتا ہے۔"


Read More

Saturday, 5 October 2013

خیبر ریلوے لائن








برطانوی حکومت نے خیبر ریلوے لائن کی تعمیر کا فیصلہ 1890ء میں کیا تھا۔ خیبر ایجنسی میں غیر یقینی صورت حال اور برطانیہ اور افغانستان کی سرحدی صورت حال کے باعث تعمیراتی کام 1920ء میں شروع ہو سکا۔ اسکا تخمینہ اس وقت 210ملین روپے لگایا گیا۔ اس ریلوے لائن کے بچھانے کا بنیادی مقصد جنگ کے زمانے میں فوجی دستے اور اسلحہ افغان سرحد تک پہنچانا تھا جس کی تکمیل 1925ء میں ہوئی۔ 3 اپریل 1926ء میں اس ریلوے ٹریک کو لنڈی خانہ کے مقام تک توسیع دے دی گئی۔ 15 دسمبر 1932ء کو افغان حکومت کے احتجاج پر لنڈی کوتل سے لنڈی خانہ سیکشن کو بند کر دیا گیا۔ درہ خیبر کے راستے پشاور کو لنڈی کوتل سے ریلوے کے ذریعے جوڑنے پر انگریز حکومت نے 1926ء میں فی کلومیٹر پر چار لاکھ پچاسی ہزار روپے خرچ کیے۔ اس قدر بھاری اخراجات کے باوجود ٹریک کو بھاری ٹریفک کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکا۔



دوسری طرف یہ ٹریک انجینئرنگ کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔ خیبر ریلوے ٹریک کی ایک نایاب اور انوکھی خاصیت یہ ہے دنیا میں کوئی بھی ائیر پورٹ ایسا نہیں جس کے رن وے یا کسی بھی حصے کو ریلوے لائن کراس کرتی ہو۔پشاور ائیر پورٹ کی تعمیر کے وقت مزکورہ ٹریک پشاور ائیر پورٹ کے لیے بنے ہوئے 9000 فٹ طویل رن وے کے درمیان سے گزارا گیا ہے)فل وقت یہ ٹریک آپریشنل نہیں ہے(۔ یہاں گاڑی کو ائیر پورٹ کنٹرول ٹاور سے کلیئرنس لینی پڑتی ہے۔ بعض اوقات کلیئرنس فون پر دے دی جاتی ہے اور بعض اوقات ٹرین کا کنڈیکٹر خود جاکر ٹاور سے کیئرنس حاصل کرتا ہے۔ جون2007ء کی طوفانی بارش کے باعث ریلوے لائن کے قابل استعمال حصے کو شدید نقصان پہنچا۔ یوں خیبر سفاری ٹرین کی آمد ورفت بھی مکمل طور پر بند ہوگئی۔



آخری بار 2006ء میں پاکستان ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن نے نجی ٹریول ایجنسیوں کی شراکت سے یکم اکتوبر، 5 نومبر اور 3 دسمبر کو خیبر سٹیم سفاری کے ذریعے سیاحوں کو ریلوے کے ذریعے اس تاریخی ٹریک کی سیر کرانے کا پروگرام بنایا۔






Read More

Social Profiles

Twitter Facebook Google Plus LinkedIn RSS Feed Email Pinterest

Popular Posts

Blog Archive

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood