Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here

Monday, 7 October 2013

پاکستان کا سب سے بڑا سمندری جزیرہ - جزیرہ استولا







جزیرہ استولا جسے جزیرہ ہفت تلار یا 'سات پہاڑوں کا جزیرہ' بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کا ایک غیر آباد جزیرہ ہے۔ پسنی کے ساحل سے قریب یہ جزیرہ تقریباً 40کلو میٹر بحیرہ عرب کے اندر واقع  پاکستان کا سب سے بڑا سمندری جزیرہ ہے۔ تقریباً 6.7کلومیٹر طویل اور 2.3کلو میٹر چوڑے اس جزیرہ کا بلند ترین مقام سطح سمندر سے 75میٹر (246فٹ) ہے۔ یہ جزیرہ پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کا حصہ ہے۔ پسنی کے ساحل سے اسکی مسافت تقریباً 5 گھنٹے ہوتی ہے۔ جزیرہ تک پہنچنے کے لئے پسنی سے موٹر بوٹ حاصل کی جاسکتی ہیں۔











تاریخ میں اس جزیرہ کا ذکر ایڈمرل Nearchos کے حوالے سے ملتا ہے جسے 325قبل مسیح میں سکندراعظم نے بحیرہ عرب اور خلیج فارس کے ساحلی علاقوں کی کھوج میں روانہ کیا تھا۔ 1982 میں حکومت پاکستان نے یہاں گیس سے چلنے والا ایک روشنی کا مینار (لائٹ ہاؤس) بحری جہازوں کی رہنمائی کےلئے تعمیر کیا تھا جسے بعد میں 1987 میں شمسی توانائی کے نظام میں تبدیل کردیا۔ ستمبر سے مئی کے مہینوں کے درمیان ماہی گیر یہاں کیکڑوں اور جھینگوں کے شکار کے لئے آتے ہیں۔ 









یہاں ایک چھوٹی مسجد بھی ہے جسے حضرت خضر منصوب سمجھا جاتاہے۔ ہندؤں کے ایک پرانے مندر کے کھنڈرات کے آثار بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔


















Read More

Sunday, 6 October 2013

علم کے حقیقی فوائد







حضرات حاتم اصم خراسانی رحمہ اللہ اپنے دورکے ظاہری علوم میں دسترس حاصل کرنے کے بعد کسی دارالعلوم میں مسند تدریس پر فائز ہونے کی بجائے علم کی خوشبو سونگھنے اور اس کی لذت سے لطف اندوز ہونے کے لئے حضرت شقیق بلخی کی صحبت میں چلے گئے۔ وہاں تیس سال تک صدق و صفا، تسلیم و رضا، زہد و ورع، ایثار و قربانی، تواضع و انکساری، ہمدردی و غمگساری،صبر و حلم، عفو و کرم، طیب الکلام، افشاء السلام کا درس لیتے رہے۔ ایک دن ان کے شیخ محترم نے ان سے پوچھا: اے حاتم! تمہیں میرے حلقہ درس میں شامل ہوئے تیس برس گزرگئےہیں بتاؤ اس عرصے میں تم نے علم سے کیا کیا فوائد حاصل کیے ہیں۔



انہوں نے جواب دیا: "حضرت! میں نے مخلوق کی حالت پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہر انسان کا کوئی نہ کوئی محبوب اور معشوق ہے، جس سے وہ محبت اور عشق کرتا ہے۔ لیکن اس کا کوئی محبوب تو مرض الموت تک اس کی محبت کا دم بھرتا ہے اور کوئی قبر کے کنارے تک ساتھ رہتا ہے۔ پھر اسے قبر کی تاریک کوٹھری میں بند کرکے واپس آجاتا ہے۔ لیکن گھڑی بھر اس کے ساتھ نہیں لیٹتا، لہٰذامیں نے سوچا کہ میں اس کو اپنا محبوب بناؤں جو قبر میں میرے ساتھ داخل ہو اور وہاں میری وحشت اور تنہائی کو دور کرے۔ میرا غمگسار اور ساتھی بنے۔ چنانچہ میں نے اعمال صالحہ کو اپنا محبوب بنالیا کیونکہ ان کے علاوہ کوئی بھی قبر میں داخل ہوتا اور نہ اندر کسی طرح کی روشنی کا ہی اہتمام کرتا ہے۔"


Read More

Saturday, 5 October 2013

خیبر ریلوے لائن








برطانوی حکومت نے خیبر ریلوے لائن کی تعمیر کا فیصلہ 1890ء میں کیا تھا۔ خیبر ایجنسی میں غیر یقینی صورت حال اور برطانیہ اور افغانستان کی سرحدی صورت حال کے باعث تعمیراتی کام 1920ء میں شروع ہو سکا۔ اسکا تخمینہ اس وقت 210ملین روپے لگایا گیا۔ اس ریلوے لائن کے بچھانے کا بنیادی مقصد جنگ کے زمانے میں فوجی دستے اور اسلحہ افغان سرحد تک پہنچانا تھا جس کی تکمیل 1925ء میں ہوئی۔ 3 اپریل 1926ء میں اس ریلوے ٹریک کو لنڈی خانہ کے مقام تک توسیع دے دی گئی۔ 15 دسمبر 1932ء کو افغان حکومت کے احتجاج پر لنڈی کوتل سے لنڈی خانہ سیکشن کو بند کر دیا گیا۔ درہ خیبر کے راستے پشاور کو لنڈی کوتل سے ریلوے کے ذریعے جوڑنے پر انگریز حکومت نے 1926ء میں فی کلومیٹر پر چار لاکھ پچاسی ہزار روپے خرچ کیے۔ اس قدر بھاری اخراجات کے باوجود ٹریک کو بھاری ٹریفک کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکا۔



دوسری طرف یہ ٹریک انجینئرنگ کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔ خیبر ریلوے ٹریک کی ایک نایاب اور انوکھی خاصیت یہ ہے دنیا میں کوئی بھی ائیر پورٹ ایسا نہیں جس کے رن وے یا کسی بھی حصے کو ریلوے لائن کراس کرتی ہو۔پشاور ائیر پورٹ کی تعمیر کے وقت مزکورہ ٹریک پشاور ائیر پورٹ کے لیے بنے ہوئے 9000 فٹ طویل رن وے کے درمیان سے گزارا گیا ہے)فل وقت یہ ٹریک آپریشنل نہیں ہے(۔ یہاں گاڑی کو ائیر پورٹ کنٹرول ٹاور سے کلیئرنس لینی پڑتی ہے۔ بعض اوقات کلیئرنس فون پر دے دی جاتی ہے اور بعض اوقات ٹرین کا کنڈیکٹر خود جاکر ٹاور سے کیئرنس حاصل کرتا ہے۔ جون2007ء کی طوفانی بارش کے باعث ریلوے لائن کے قابل استعمال حصے کو شدید نقصان پہنچا۔ یوں خیبر سفاری ٹرین کی آمد ورفت بھی مکمل طور پر بند ہوگئی۔



آخری بار 2006ء میں پاکستان ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن نے نجی ٹریول ایجنسیوں کی شراکت سے یکم اکتوبر، 5 نومبر اور 3 دسمبر کو خیبر سٹیم سفاری کے ذریعے سیاحوں کو ریلوے کے ذریعے اس تاریخی ٹریک کی سیر کرانے کا پروگرام بنایا۔






Read More

جبران خلیل جبران نے کہا








  • بے شک وہ ہاتھ جو کانٹوں کے تاج بناتےہیں۔ ان ہاتھوں سے بہتر ہیں جو کچھ نہیں کرتے۔



  • کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جس مخلوق کی کمر میں مہرے نہیں وہ سیپوں کے اندر مہرہ دار مخلوق سے زیادہ امن میں زندگی بسر کرتی ہے۔ 



  • کمال رفعت پر پہنچ جانے کے بعد تم اسی چیز کی رغبت کروگے۔ جو رغبت کے قابل ہوگی۔ اسی چیز کے بھوکے ہوگے، جس کی بھوک ہونی چاہئے اور اسے چیز کے پیاسے ہوگے، جس کی پیاس ہونی چاہئے۔



  • ایمان دل کے صحرا میں ایک سرسبز و شاداب قطعہ ہے۔ جہاں فکر کے قافلے نہیں پہنچ سکتے۔



  • جو شخص تمہاری خوشیوں میں شریک ہوتا ہے لیکن تکالیف میں ساتھ نہیں دیتا۔ وہ جنت کی سات دربانیوں میں سے ایک کی کنجی کھو بیٹھتا ہے۔



  • امیروں کا امیر وہ ہے جو اپنا تخت درویشوں کے دلوں میں پاتا ہے۔



  • تم جہاں سے چاہو زمین کھودلو، خزانہ تمہیں ضرور مل جائے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ زمین کامیابی کے یقین کے ساتھ کھودو۔




(کلیاتِ خلیل جبران سے ماخوذ)



Read More

کسی مرغی کی بات پر دھیان نہ دیجئے






کہتے ہیں ایک پہاڑ کی چوٹی پر لگے درخت پر ایک عقاب نے گھونسلہ بنا رکھا تھا جس میں اُس کے دیے ہوئے چار انڈے پڑے تھے کہ زلزلے کے جھٹکوں سے ایک انڈا نیچے جا گرا جہاں ایک مرغی کا ٹھکانہ تھا۔ مرغی نے عقاب کے انڈے کو اپنا انڈا سمجھا اور سینے کے لیے اپنے نیچے رکھ لیا۔ ایک دن اُس انڈے سے ایک پیارا سا ننّھا منا عقاب پیدا ہوا جس نے اپنے آپ کو مرغی کا چوزہ سمجھتے ہوئے پرورش پائی اور مرغی سمجھ کر بڑا ہوا۔ ایک دن باقی مرغیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اُس نے آسمان کی بلندیوں پر کچھ عقاب اُڑتے دیکھے۔ اُس کا دل چاہا کہ کاش وہ بھی ایسے اُڑ سکتا……جب اُس نے اپنی اِس خواہش کا اظہار دوسری مرغیوں سے کیا تو اُنھوں نے اُس کا مذاق اُڑایا اور قہقہے لگاتے ہوئے کہا "تم مرغی ہو اور تمہارا کام عقابوں کی طرح اُڑنا نہیں۔"


کہتے ہیں اِس کے بعد اُس عقاب نے اُڑنے کی حسرت دل میں دبائے ایک لمبی عمر پائی اور مرغیوں کی طرح جیتا رہا اور مرغیوں کی طرح ہی مرا۔


منفی سوچوں کو دل میں بسا کر رہنا، اُن سوچوں کا غلام بن کر رہنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اگر آپ عقاب تھے اور آپ کے خواب آسمان کی بلندیوں میں اُڑنے کے تھے تو پھر اپنے خوابوں کو عملی جامہ دیجیے۔ کسی مرغی کی بات پر دھیان نہ دیجیے کیونکہ اُنھوں نے تمہیں بھی اپنے ساتھ ہی پستیوں میں ڈالے رکھنا ہے۔ اپنے شخصی احترام کو بلند رکھنا اور اپنی نظروں کو اپنی منزل پر مرکوز رکھتے ہوئے پُر عزم اور بلند حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ معاملات آگے نہ بڑھ رہے ہوں تو اپنی روزمرہ کی عادتوں سے ہٹ کر کچھ کرنا بھی کامیابیوں کو آسان بناتا ہے اور پھر یہ بھی تو ذہن میں رکھنا ہوگا……




 خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 


نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت بدلنے کا





(بحوالہ: اردو ڈائجسٹ - جولائی 2013)


Read More

ہنگول نیشیل پارک، بلوچستان








ہنگول نیشنل پارک بلوچستان اور پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے جو چھ لاکھ انیس ہزار ترتالیس ہیکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ کراچی سے 190 کلومیٹر دور یہ پارک بلوچستان کے تین اضلاع گوادر،لسبیلہ اورآواران کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقہ میں بہنے والے دریائے ہنگول کی وجہ سے اسکا نام ہنگول نیشنل پارک رکھا گیا ہے۔ اس علاقہ کو 1988 میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ہنگول نیشنل پارک اس وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں‌چار مختلف قسم کے ماحولیاتی نظام یا Eco Systemsکا پایا جانا ہے۔ہندوؤں کا ہنگلاج مندر بھی اس پارک میں‌واقع ہے ۔

ہنگول نیشنل پارک طبعی طور پر پہاڑ، ریت کے ٹیلوں اور دریا کے ساتھ سیلابی میدان وغیرہ میں‌بٹا ہوا ہے ۔ہنگول ندی نیشنل پاک سے ہوکر گزرتی ہے اور سمندر میں گرنے سے پہلے ایک مدو جزر والا دھانہ بناتی ہے جو کئی ہجرت کرنے والے آبی پرندوں‌اور دلدلی مگر مچھوں ، لمبی چھپکلی، موٹی زبان والی چھپکلی، وائپر اور کوبرا ناگ کا مسکن ہے۔

 












Read More

یہ بچہ ہے یا مقناطیس؟








کروشیا کے قصبے Koprivnica سے تعلق رکھنے والے آئیوان اسٹولج کووک لوہے کو اپنی جانب کھینچنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ مقناطیسی قوت کے حامل اسٹولج کے جسم سے لوہے کی چیزیں یوں چپک جاتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کی اشیاء کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔ 










قمیض اتارتے ہی آئیوان کے جسم میں موجود مقناطیسی کشش کنا گنا بڑھ جاتی ہے اور پھر جو برتن بھی اس کے جسم کے قریب لایا جاتا ہے وہ تیزی سے اس کے جسم سے چپک جاتا ہے۔ ان میں مختلف برتن، فرائی پین، چھری، کانٹے، چمچے حتیٰ کہ سیل فون بھی شامل ہیں۔ ایک دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ جو چیز جس قدر بھاری اور خالص لوہے کی ہوتی ہے وہ اسی قدر تیزی اور مضبوطی سے آئیوان کے جسم سے چپک جاتی ہے۔





آئیوان بچپن ہی سے غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل بچہ تھا۔ اس نے آٹھ ماہ کی عمر میں چلنا شروع کردیا تھا۔ 15ماہ کی عمر میں رولر بلیڈنگ کرنے لگا تھا۔ اسی طرح دو برس کی عمر تک ننھا آئیوان موٹر سائیکل بھی چلالیتا تھا۔ گویا کہ یہ اپنی عمر کے ساتھ ساتھ نہ صرف اپنے گھر والوں بلکہ اپنے قصبے کے افراد کو بھی حیران کرتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے پورے قصبے میں رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا۔ آئیوان کی مقناطیسی کشش کا علم پہلی مرتبہ اس کی دادی کو ہوا جو ازراہ مذاق چمچ اور دیگر برتن اس کے جسم سے چپکا کر محظوظ ہورہی تھیں لیکن جب کئی مرتبہ اس کے جسم سے لوہے کی اشیاء چپکنے کے واقعات ہوئے تو دادی نے اسے آئرن مین کہنا شروع کر دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آئیوان کے والدین نے بھی اسے سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا اور اب وہ ہر روز صبح کو اس کے جسم کے ساتھ لوہے کہ اشیاء چپکا کر اسے مشق کرواتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صبح کے وقت یہ قوت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ آئیوان کے دادا دادی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے ہاتھ میں شفا کی طاقت ہے۔ وہ کسی بھی شخص کے درد یا زخم والی جگہ پر ہاتھ رکھ دے تو اس شخص کو آرام آجاتا ہے۔ 










آئیوان کے جب چوٹ لگتی ہے اور اس کے جسم پر کوئی زخم لگتا ہے تو وہ ایک عام بچے کے مقابلے میں بہت جلد ٹھیک ہوجاتاہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے جسم پر زخم کا نشان نہیں پڑتا۔ کوئی سا بھی زخم ہو، وہ بہت جلد بغیر نشان چھوڑے مندمل ہوجاتاہے۔ ا





آئیوان کی اس جادوئی اور طلسماتی صلاحیت کا مشاہدہ اس کے قصبے کے لوگ کر چکے ہیں۔ عجیب و غریب صلاحیت کا حامل یہ لڑکا کروشیا کا مقناطیسی لڑکا کہلاتا ہے اور نہ صرف کروشیا بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہوچکا ہے۔ 


Read More

Social Profiles

Twitter Facebook Google Plus LinkedIn RSS Feed Email Pinterest

Popular Posts

Blog Archive

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood