Read More

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی
Read More

Slide 2 Title Here

Slide 2 Description Here
Read More

Slide 3 Title Here

Slide 3 Description Here
Read More

Slide 4 Title Here

Slide 4 Description Here
Read More

Slide 5 Title Here

Slide 5 Description Here

Monday, 4 November 2013

منٹوں میں چارج اور ہفتوں چلنے والی موبائل فون بیٹریاں







پاکستان میں لوڈشیڈنگ جہاں بہت سے شعبوں میں مالی نقصانات کاسبب بن رہی ہے وہیں یہ رابطے کے ذریعے، موبائل فون پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔ اکثر موبائل صارفین لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اپنے موبائل فون کی بیٹری کو اچھی طرح چارج نہیں کر پاتے اور یوں وہ اپنے کاروباری اور گھریلو روابط سے کچھ وقت کےلئے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ اگرچہ یوپی ایس اور شمسی توانائی جیسی متبادل ذرائع بھی استعمال ہورہے ہیں لیکن کم پاور اور چارجنگ کا دورانہ بھی مسائل کا باعث بن جاتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اب اس مسئلے کا بھی حل آنے والا ہے۔امریکی سائنسدانوں نے نئے تجربوں کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ فون کی ایسی بیٹریاں بنائی جا سکتی ہیں جو منٹوں میں چارج ہوں گی اور ہفتوں تک چلیں گی۔





برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے سلیکون کے ایسے آلات بنائے ہیں جن سے فوری طور پر بیٹری کو چارج کیا جاسکتا ہے۔ٹینیسی کی ونڈربلٹ یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ کے سائنسدانوں نے سُپر کیپسیٹر زکے سائز اور اس پر آنے والی لاگت کو کم کرنے کے لیے متعددتجربات کیے ہیں۔سائنسدانوں نے کہا ہے کہ موجودہ بیٹریوں کے مقابلے یہ بیٹریاں نسبتاً زیادہ وقت تک موبائل فون کو توانائی مہیا کرسکے گی۔






سلیکون کے یہ حصے موجودہ چِپ پروڈکشن سسٹم میں بآسانی لگائے جا سکتے ہیں۔ان سستے سُپر کیپسیٹر زسے دوبارہ قابِل استعمال توانائی کے وسائل میں بھی مدد مل سکتی ہے۔کاربن سے بنائے گئے سُپر کیپسیٹر کو پہلے ہی بجلی سے چلنے والی گاڑیوں اور ونڈ ٹربائنز میں توانائی سٹور کرنے کے نظام کے طور پر استعمال کیا جا چکا ہے۔


Read More

Saturday, 2 November 2013

ریاکار درویش







بیان کیا جاتا ہے کہ ایک ریاکار شخص جو صرف دنیا کو دکھانےکے لئیے نیکیاں کرتا تھا، ایک دن بادشاہ کا مہمان ہوا۔ اس نے بادشاہ پر اپنی بزُرگی کا رعب ڈالنے کے لیے بلکل تھوڑا کھانا کھایا لیکن نماز میں کافی وقت لگایا۔ جب یہ شخص بادشاہ سے رخصت ہو کر اپنے گھر آیا تو آتے ہی کھانا طلب کیا۔ اسکے بیٹے نے کہا، کیا آپ بادشاہ کے ساتھ کھانا کھا کے نہیں آئے؟ اس نے کہا، وہاں میں نے اس خیال سے کم کھایا تھا کہ بادشاہ کو میری پرہیزگاری کا اعتبار ہو آ جائے اور اسکے دل میں میری عزت زیادہ ہو۔

بیٹے نے کہا، پھر تو آپ نماز بھی دوبارہ پڑھیں کیونکہ وہ بھی آپ نے بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے ہی پڑھی تھی۔​


؎ عیب اپنے چھپا لیے تو نے اور ہُنر آشکار کرتا ہے​


تیرا کیا حشر ہوگا، اے مغرور! تُو برا بیوپار کرتا ہے۔​


وضاحت:​



اس حکایت میں شیخ سعدی  نے ریاکاری کی مذمت کی ہے ۔ ریاکار اگرچہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ اپنی چالاکی سے لوگوں کو دھوکا دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ عالم الغیب خُدا کو کس طرح دھوکہ دے گا! قیامت کے دن اسکے اچھے برے سب اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور اسکی ریاکاری سخت عذاب کا موجب بنے گی۔


Read More

امیر کی اطاعت








ایک درویش بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کوفہ سے مکہ مکرمہ کے ارادے سے چلا۔ راستہ میں حضرت ابراہیم خواص  سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے صحبت میں رہنے کی اجازت مانگی انہوں نے فرمایا صحبت میں ایک امیر ہوتا ہے، اور دوسرا فرمانبردار۔ تم کیا منظور کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا، آپ امیر بنیں اور میں فرمابنردار، انہوں نے کہا اگر فرمابنردار بننا پسند کرتے ہو تو میرے کسی حکم سے باہر نہ ہونا۔ میں نے کہا۔ یہی ہوگا۔ جب ہم منزل پر پہنچے تو انھوں نے کہا بیٹھ جاؤ۔ میں بیٹھ گیا۔ انہوں نے کنویں سے پانی کھینچا جو بہت سرد تھا پھر لکڑیاں جمع کر کے ایک جگہ پر آگ جلائی اور پانی گرم کیا۔ میں جس کام کا ارادہ کرنے کی جسارت کرتا وہ فرماتے بیٹھ جاؤ۔ فرمانبرداری کی شرط کو ملخوظ رکھو۔ جب رات ہوئی تو شدید بارش نے گھیر لیا۔انہوں نے اپنی گڈری اتار کر کندھے پر ڈالی اور رات بھر میرے سر پر سایہ کئے کھڑے رہے۔ میں ندامت سے پانی پانی ہوا جارہا تھا مگر شرط کے مطابق کچھ نہ کر سکتا تھا۔



 جب صبح ہوئی تو میں نے کہا اے شیخ! آج میں امیر بنوں گا۔ انہوں نے فرمایا ٹھیک ہے، جب ہم منزل پر پہنچے تو انہوں نے پھر وہی خدمت اختیار کی میں نے کہا اب آپ میرے حکم سے باہر نہ ہوجائیے۔ فرمایا! فرمان سے وہ شخص باہر ہوتا ہے جو اپنے امیر سے خدمت کرائے۔ وہ مکہ مکرمہ تک اسی طرح میرے ہم سفر رہے جب ہم مکہ پہنچے تو میں شرم کے مارے بھاگ کھڑا ہوا یہاں تک کہ انہوں نے مجھے منیٰ میں‌دیکھ کر فرمایا اے فرزند! تم پر لازم ہے کہ درویشوں کے ساتھ ایسی صحبت کرنا جیسی کہ میں نے تمہارے ساتھ کی ہے۔


("کشف المحجوب" - مترجم غلام معین الدین نعیمی)


Read More

اخبارات کی تاریخ








اخبار,خبروں کی ترسیل کا ایک بہت پرانا ذریعہ ہے۔ زمانہ قدیم سے انسان مختلف طریقوں سے خبروں کی ترسیل کیا کرتا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام سے ہزاروں سال قبل انسان مختلف ذرائع سے اطلاعات کی ترسیل کیا کرتا تھا۔ ان میں دھویں کے ذریعہ، ڈھول، نقارے یا ناقوس کی آواز کے ذرائع شامل تھے۔ انہیں کے ذریعے انسان اطلاعات کی ترسیل کرکے دُشمنوں سے بچنے کی تدا بیر کیا کرتا تھا۔



دُنیا میں پہلا اَخبار کب اور کہاں شائع ہوا یہ وثوق سے کہنا تو نہایت مشکل ہے تاہم اخبارات کی عالمی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم روم میں جولیس سیزر کے عہد میں سرکاری اعلانات کے بلیٹن ’ایکٹا ڈیورنا ‘کے نام سے شائع کیے جاتے تھے۔پتھر یا دھات کی تختیوں پر اطلاعات کندہ کرکے انہیں عام جگہوں پر نصب کر دیا جاتا تھا۔ اسی طرح چینی حکومت نے بھی پہلی یا دوسری صدی عیسوی میں اپنے درباریوں کے لیے ایک اطلاع نامہ جاری کیا تھا، جسے ’تِپاؤ‘ کہا جاتا تھا۔ چین میں ٹینگ حکمرانی کے دوران بھی ایک سرکاری اخبار ریشم کے کپڑے پر دستی تحریر سے شائع کیا جاتاتھاجسے صرف سرکاری افسران پڑھتے تھے۔








Read More

Friday, 1 November 2013

چاکلیٹ زمانہ قبل از مسیح سے زیر استعمال ہے







سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں شواہد دریافت کر لیے ہیں کہ وسطی امریکہ کے باشندے کم از کم تین ہزار سال سے کاکاؤ سے بنائی گئی چاکلیٹ کے مشروبات پی رہے ہیں۔ اس سے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ اس چاکلیٹ کے مشروب کا استعمال اس سے پانچ سو برس بعد شروع ہوا تھا۔

نیویارک کی کرنیل یونیورسٹی میں بشریات کے پروفیسر جون ہینڈرسن نے کہا کہ ان کی ٹیم نے جنوبی امریکہ کے ملک ہانڈوراس میں ملنے والے مٹی کے برتنوں کے ٹکڑوں پر پائے جانے والے بچے کھچے اجزاء کا تجزیہ کیا۔ ہنڈرسن نے کہا کہ وسطی امریکہ کے پرانے باشندے ممکن ہے ایک ایسا مشروب بھی پیتے ہوں جو کاکاؤ پودے سے تیار ہوتا تھا۔

ہینڈرسن نے خیال ظاہر کیاکہ ان ابتدائی مشروبات نے ممکن ہے بعد میں چاکلیٹ کے اس مشروب کی شکل اختیار کرلی ہو جو سولھویں صدی کے یورپی باشندے پیا کرتے تھے۔ یہ مشروب یورپی باشندوں کے ساتھ ان کے وطن پہنچا جس کے نتیجے میں چاکلیٹ کی جدید صنعت وجود میں آئی۔


(وائس آف امریکہ)


Read More

اللہ کے ذکر کی طاقت







ایک نامی گرامی بادشاہ کی چہیتی بیٹی بیمار پڑی۔ اس عہد کے بڑے اطباء اور صادق حکیموں سے اس کا علاج کروایا لیکن مرض بگڑتا گیا۔ آخر میں وہاں کے سیانے کو بلاکر مریضہ کو دکھایا گیا۔ اس نے مریضہ کے سرہانے بیٹھ کر لا اِلٰہ کا ورد شروع کر دیا۔ طبیب اور حکیم اس کے اس فعل کو دیکھ کر ہنسنے لگے اور کہا کہ محض الفاظ جسم پر کس طرح اثر انداز ہونگے! تعجب! اس صوفی نے چلا کر کہا "خاموش! تم سب لوگ گدھے ہو اور احمقوں کی سی بات کرتے ہو۔ اس کا علاج ذکر ہی سے ہوگا۔" اپنے لیے گدھے اور احمق کے الفاظ سن کر ان کا چہرہ سرخ ہوگیا اور ان کے جسموں کے اندر خون کا فشار بڑھ گیا۔ اور انہوں نے صوفی کے خلاف مکے تان لیے۔ صوفی نے کہا "اگر گدھے کے لفظ نے تم کو چراغ پا کر دیا ہے اور تم سب کا بلڈ پریشر ایک دم ہائی ہو گیا ہے اور تم نے میرے خلاف مکے تان لیے تو کیا ذکر اللہ اس بیمار بچی کے وجود پر کوئی اثر نہیں کرے گا؟"


اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے، آمین۔




(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)


Read More

حقوق اللہ اور حقوق العباد






انسان پر سب سے پہلے حقوق اللہ کی ادائیگی کو ضروری قرار دیا گیا ہے، کیونکہ انسان کو عدم سے وجود بخشنے والا صرف ایک اللہ ہے، لہذا انسان کے خالق و مالک ہونے کے ناطے اللہ تعالی کے حقوق ہر لحاظ سے فائق و برتر ہیں اور حقوق اللہ میں سرفہرست حق یہ ہے کہ اللہ تعالی کو وحدہ لاشریک مانا جاۓ اور توحید باری تعالی کا قولی وعملی اقرار کیا جاۓ- روز آخرت انسان کی نجات کا معیار یہی توحید باری تعالی ہے۔

حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد کا معاملہ ہے- حقوق العباد میں سرفہرست والدین کا حق ہے- اللہ تعالی کے بعد انسان کا سب سے قریبی تعلق اپنے والدین سے ہوتا ہے- والدین ہی اسکی پیدائش کا ذریعہ بنتے ہیں اور اسکی تعلیم وتربیت کی وجہ سے دیگر انسانوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ وہی اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ انکے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کیا جاۓ۔

قرآن مجید کی کم وبیش چار آیات میں اللہ تعالی نے والدین کے حق کو اپنے حق کے متصل بعد ذکر کیا ہے جس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ کی نگاہ میں والدین کے حقوق کی کیا اہمیت ہے۔

اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو


Read More

Social Profiles

Twitter Facebook Google Plus LinkedIn RSS Feed Email Pinterest

Popular Posts

Blog Archive

Urdu Theme

Blogroll

About

Copyright © Urdu Fashion | Powered by Blogger
Design by Urdu Themes | Blogger Theme by Malik Masood